افغانستان: صدارتی انتخابات میں پولنگ مکمل، دھماکے میں 15افراد زخمی

ب ڈیسک — 

افغانستان میں صدارتی انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔ انتخابات میں صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ سمیت 14 امیدوار سامنے آئے۔ 

افغانستان میں صدارتی انتخابات کا انعقاد ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کی ناکامی کے بعد افغانستان میں پُرتشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

انتخابات میں 90 لاکھ سے زائد افغان شہریوں نے حق رائے دہی استعمال کرنا تھا جب کہ ملک بھر میں سکیورٹی کے بھی انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یوں تو 14 امیدوار میدان میں اترے تاہم اصل مقابلہ صدر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے درمیان ہی ہے۔

انتخابات میں صدر کے لیے امیدوار تمام افراد نے اپنا ووٹ دارالحکومت کابل میں کاسٹ کیا۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق افغان الیکشن کمیشن نے ووٹنگ کے وقت میں دو گھنٹے کا اضافہ کیا گیا۔

الیکشن میں ووٹنگ کا وقت صبح سات بجے سے تین بجے تک مقرر کیا گیا تھا تاہم بعد ازاں اس میں مزید دو گھنٹے کا اضافہ کیا گیا اور پانچ بجے تک شہریوں نے ووٹ کاسٹ کیے۔

رپورٹس کے مطابق الیکشن کمیشن نے ووٹنگ کے وقت میں اضافہ اس لیے کیا کیوں کہ کئی علاقوں میں بروقت ووٹنگ اسٹارٹ نہیں ہو سکی تھی۔

افغان طالبان نے صدارتی انتخابات کی مخالفت کرتے ہوئے ووٹرز کو تنبیہ کی تھی کہ وہ پولنگ اسٹیشنز سے دور رہیں۔

طالبان کے حملوں سے بچنے کے لیے 34 صوبوں میں افغان سکیورٹی فورسز کے اضافی اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔

صدارتی انتخابات کے لیے افغانستان میں پانچ ہزار کے لگ بھگ پولنگ سینٹرز میں 30 ہزار پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے تھے۔ جہاں ایک لاکھ سے زائد افغان سکیورٹی اہلکار تعینات تھے جب کہ امریکی فوج فضائی نگرانی پر مامور تھی۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق لوگوں کی بڑی تعداد نے اپنا ووٹ کاسٹ کرنے پولنگ اسٹیشنز کا رخ کیا تاہم بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ووٹنگ ٹرن آوٹ انتہائی کم نظر آ رہا تھا۔ پولنگ اسٹیشنز اسکولوں، اسپتالوں، مساجد اور سرکاری دفاتر میں قائم کیے گئے تھے۔

افغان حکام نے تصدیق کی ہے کہ قندھار میں ایک پولنگ اسٹیشن کے باہر دھماکہ ہوا۔ جس کے بعد فوری طور پر وہاں امدادی ٹیمیں روانہ کی گئیں۔

قندھار کے گورنر کے ترجمان بہیر احمدی کے مطابق دھماکے میں زخمی ہونے والے تین افراد کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق دھماکے میں 15 افراد زخمی ہوئے۔

پرتشدد واقعات کے پیش نظر حکام نے طالبان کے زیر اثر علاقوں میں 400 سے زائد پولنگ اسٹیشن بند کر دیے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق طالبان نے کنٹر، پکتیا، غزنی اور پروان صوبوں میں بھی حملوں کے دعوے کیے ہیں تاہم سرکاری سطح پر ان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

مزید خبریں اسی بارے میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں