امریکہ طالبان کیساتھ ایک میز پر ہے جبکہ بی ایل اے جیسی سیکولر قومی نمائندہ تنظیم کو دہشتگرد قرار دیتی ہے۔ بشیر زیب بلوچ

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز) بلوچ لبریشن آرمی کے سربراہ بشیر زیب بلوچ نے بی ایل اے پر عائد حالیہ امریکی پابندی کے ردعمل میں کہا ہے کہ بلوچ قوم مکمل طور پر انسانی اقدار و عالمی قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان اور چین جیسے بیرونی حملہ آوروں  سے اپنے سرزمین کی دفاع اور قومی قوت کو منوانے کے لیئے لڑرہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ طالبان جیسے پاکستانی پراکسی جو سالوں سے عالمی جنگی قوانین و انسانی اقدار کی دھجیاں اڑا رہی ہیں، لیکن پھر بھی امریکہ انکے ساتھ ایک میز پر بیٹھ کر مذاکرات پر تیار ہوتا ہے لیکن دوسرے طرف بی ایل اے جیسی ایک سیکولر قوت، قومی نمائیندہ مزاحمتی تنظیم کو دہشتگرد قرار دیا جاتا ہے۔

بشیر زیب نے مزید کہا کہ اگر عالمی قوانین اور انسانی اقدار کے رو سے دیکھا جائے تو حقیقی طور پر کوئی دہشتگرد تنظیم ہے تو وہ پاکستانی آئی ایس آئی ہے۔ جو مذہبی شدت پسندی و دہشتگردی کو فروغ دینے سمیت بلوچستان و افغانستان سمیت تمام ہمسایہ ممالک میں لاکھوں لوگوں کے جانوں کے ضیاع کا ذمہ دار رہا ہے۔ بی ایل اے اسی پاکستان اور آئی ایس آئی و اسکے پراکسیوں کے خلاف نا صرف بلوچ آزادی کیلئے برسرپیکار ہے بلکہ اس پورے خطے کا امن بھی اسی سے وابسطہ ہے۔

بی ایل اے سربراہ نے مزید کہا کہ ہم اپنی سر زمین اور اپنے لوگوں کے دفاع اوراپنی آزادی کی بحالی کیلئے لڑرہے ہیں۔ یہ حق ہمیں عالمی قوانین دیتے ہیں۔

انہوں نے امریکہ، یورپی یونین اور دوسرے مہذب اقوام سے یہ اپیل کی کہ وہ بلوچستان میں بلوچ عوام پر پاکستانی بربریت و نسل کشی اور چینی اقتصادی توسیع پسندانہ عزائم کا باریک بینی سے جائزہ لیں، پھر بخوبی اندازہ ہوگا کہ اس خطے میں دہشتگرد کون ہے۔

بشیر زیب بلوچ نے مزید کہا کہ ہمیشہ دنیا میں جو اقوام و تحاریک خوف، دباو، خاموشی، مصلحت پسندی، بزدلی اور بے حسی کا شکار ہوتے ہیں، وہ فنا ہوجاتے ہیں۔ بلوچ ایک خود دار قوم ہے، ہم اپنی قومی دفاع و قومی بقاء اور قومی آزادی کی جنگ آخری دم تک عالمی دہشت گردپاکستان کے خلاف جاری رکھینگے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں