آواران میں فورسز کی جانب سے بلوچ بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانا بدترین درندگی ہے۔ بی آر ایس او

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز) ضلع آواران میں معصوم بلوچ بچی کو ریاستی فورسز کی جانب سے جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے پر نام نہاد پاکستانی انسانی حقوق کے اداروں و سول سوسائٹی کی خاموشی مجرمانہ ہے۔ بی آر ایس او

بلوچ ریپبلکن اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی آرگنائزر میران بلوچ نے آواران میں بلوچ بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کی پُرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بدترین درندگی اور بلوچ قومی غیرت پر حملہ قرار دیا۔

بی آر ایس او کے مرکزی آرگنائزر میران بلوچ نے کہا کہ تین ہفتہ قبل بلوچستان کے ضلع آواران میں پاکستانی سکیورٹی فورسز نے اسکول میں زیرِ تعلیم ایک بلوچ بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور بچی کے گھر والوں کو خاموش رہنے کی دھمکی دیں۔

میران بلوچ نے کہا کہ جس اسکول میں بلوچ بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا وہ سکول پاکستانی فورسز کے زیرِ دست ہے جہاں استاتذہ کا تعلق بھی پاکستانی سکیورٹی اداروں سے ہے۔ پاکستانی فورسز کی جانب سے خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ بلوچستان میں جو آگ آج لگی ہے اسکے پھیچے بھی پاکستانی فورسز کی جنسی درندگی شامل ہے،جب ڈیرہ بگٹی میں ایک خاتون ڈاکٹر کو پاکستانی آرمی کے اہلکاروں کی جانب سے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جس پر بلوچ رہنما شہید نواب اکبر خان بگٹی نے بھرپور مزاحمت کیں۔جبکہ مشرقی پاکستان (بنگلا دیش) میں پاکستانی آرمی کی جنسی درندگی کی داستانیں آج کتابوں کی زینت بن چکی ہیں۔

میران بلوچ نے مزید کہا کہ بلوچستان میں پاکستانی فورسز کی درندگی پر خاموش پاکستانی سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے اداروں کی داستانیں مستقبل قریب میں کتابوں کی زینت بن جائیں گے کہ کس طرح ان لوگوں نے بلوچستان قوم کی نسل کشی پر خاموشی کا لبادہ اوڑھے رکھا اور تاریخ میں ان کرداروں کو ہمیشہ بُرے الفاظ میں یاد رکھا جائیگا۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں