ایجنسیوں نے بلوچ تحریک کو بدنام اور اپنے عوام کو بیوقوف بنانے کی غرض سےکلبھوشن کو اغواء کیا، نواب مہران مری

پ ر (ریپبلکن نیوز) بلوچ رہنما نواب مہران مری نے کلبھوشن یادیو کے متعلق عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ پاکستان کا جھوٹ اور فریب دنیا کےایک بڑے اور معتبر ادارے کے سامنے آشکار ہوچکی ہے ، یہ فیصلہ انڈیا سے زیادہ بلوچ قوم کی جیت ہے کیونکہ پاکستانی خفیہ ایجنسیوں نے بلوچ تحریک آذادی کو بدنام اور اپنے عوام کو بیوقوف بنانے کی غرض سےکلبھوشن کو اغواء کیا تاکہ کلبھوشن کو اپنے زرخرید ریاستی میڈیا پر بٹھا کر ان سے اپنی من چاہے بیان دلوا کر ریاستی بیانیے کی تشہیر کرا سکے کہ بلوچ تحریک آذادی دراصل عوامی تحریک نہیں بلکہ کسی پڑوسی ملک کی پراکسی وار ہے لیکن انڈیا نے انہیں عالمی عدالت انصاف میں گھسیٹ کر ان کی ساری تدبیریں ناکام بنادیں۔

بلوچ رہنماء نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف چونکہ پاکستانی عدالت نہیں ہے اور نہ ہی جج پاکستانی فوج کے پیرول پر ہیں کہ ان سے اپنی مرضی کے مطابق فیصلہ کروالیں اس لئے عالمی عدالت انصاف نے پاکستان کے من گھڑت اور جھوٹے موقف کو یکسر مستر د کردیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو شروع سے ہی اپنی مکاریوں کی بدولت ہر محاذ پر شکست کا سامنا رہا، چاہے کسی قوم کا حقوق سلب کرکے بنگلہ دیش کا وجود میں آنا ہو، بلوچ سرزمین پر ناجائز قبضہ اور رد عمل میں بلوچ قوم کا اس قبضے کے خلاف جدوجہد آذادی شروع کرنا، مذہب کے نام پر لوگوں کا قتل عام کرنا ہو یا شدت پسندی کو خارجہ پالیسی کے طور پر استعمال کرکے ہمسایہ ممالک میں دہشت گردی کروانا. غرضیکہ پاکستان کو اندرونی اور بیرونی دونوں سطحوں پر شرمندگی اور شکست کا سامنا کرنا پڑا جس کے نتیجے میں دنیا اب پاکستان کوایک ناکام، ناقابل اعتبار اور دہشت گردوں کو مدد فراہم کرنے والے کے طور پر جانتی ہے ۔

مہران مری نے کہا کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اپنے تمام کارڈز استعمال کرچکا ہے اور ان کے مکاری، جھوٹ، فریب اور دوغلا پن دنیا کے سامنے ظاہر ہوچکی ہے وہ اپنے کنٹرول میڈیا کے زریعے اپنے عوام کو تو بیوقوف بنا سکتے ہیں لیکن دنیا کو نہیں لہذا انہیں اپنا شکست تسلم کرلینا چاہیے جس طرح سے انہیں بنگلہ دیش سے اپنی افواج کو نکالنا پڑا بلکل اسی طرح انہیں بلوچ سرزمین پر اپنا ناجائز قبضہ ختم کرنا چاہیے . دنیا اور ہمسایہ ممالک میں دہشت گردی کو بند کر دینا چاہیے اور اسلام کے ٹھیکیداری سے دستبرار ہوجائے

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں