ایک بزرگ دوست واجہ سرفراز بنگلزی

کوئٹہ /مضمون (ریپبلکن نیوز) آج میں ایک بلوچ بزرگ دوست کے بارے میں لکھنے کی کوشش کر رہاہو شائد میرے قلم میں وہ طاقت نہیں لیکن کوشش کرتا ہو۔

سب سے پہلے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ میں اس بزرگ دوست کے بارے میں کیوں لکھ رہا ہوں
دراصل میں ایک بلوچ کے بارے میں لکھ رہا ہوں جو میں نے قریب سے دیکھا ہے۔

اور اس کے ساتھ وقت گزارہ اور جو میں لکھ رہاہوں یہ ایک سچ اور حقیقت ہے لیکن کچھ ایسی بھی سچائیاں ہیں جنہیں بیان کرنا میں مناسب نہیں سمجھتا۔

اصل مضمون پہ آتے ہیں، اُس وقت کی بات ہے جب میں اور میرا لخت جگر استادگاجیان ایک ایسی مصیبت میں تھے جیسا کہ آسمانی خدا ہم پر ناراض ہو۔

لیکن ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ وقت کتنا بھی ظالم طاقتور کیوں نہ ہو ہم جب اپنے حق پر ہیں تو کیو جھکے اور کس کے سامنے جو لوگ یہ تک نہیں جانتے کہ ایک بلوچ کبھی طاقت کے سامنے نہیں جھکتا۔

اسی کشمکش میں سب جہد کاروں سے رابطے میں تھے گراؤنڈ سے لیکر یورپ و امارات تک لیکن سب یہاں وہاں کی لفاضی باتوں کے سوا کچھ نہیں ۔کچھ نے تو یہ بھی کہا کے ہم بے بس ہیں اور کچھ تو روتے تھے، لیکن ہمیں ہسی آتی ہے آج جب ان لوگوں کو میڈیا کی زینت بنے دیکھتا ہوں۔

خیر آگے چلتے ہیں،اور اچانک ایک رات دوست نے فون کیا حالات پوچھے جو حالات تھے میں نے سنائے تو اس دوست نے پوچھا اگر آپ کی اجازت ہو تو میں ایک بزرگ بلوچ شخصیت کو جانتا ہوں اور مجھے یقین ہے آپ لوگوں کی مدد کرے گا۔

مزید مضامین:
ایبی کا ریاستی اہلکار سے بلوچ لبریشن آرمی کا سرمچار اور پھر ریاستی کارندہ بننے کا سفر
نواب براہمدغ بگٹی، ایک دور اندیش لیڈر
شہدائے مزارانی

تو ہم نے اجازت دی تو دوسری رات ایک فون آیا بلوچی لہجے میں سلام کیا اور خوبصورت انداز میں گفتگو کی یو لگا شاید ہم پہلے سے ملے ہو۔

تو ہمارا حال پوچھا جب ہم نے سارا قصہ سنایا تو اس وقت اس بزرگ دوست نے سیدا سادا الفاظ میں ہم سے گفتگو کی اور یہ کہا ، میں آپ لوگوں کو نہیں جانتا اور آپ مجھے نہیں جانتے لیکن میں اتنا جانتا ہوں کہ آپ بلوچ ہیں اور میں آپ سے کہتا ہوں میں بھی بلوچ ہوں اور جہد کار ہوں بس اتنی بات کی اور ہمیں خدا حافظ کہا۔

اور دوسرے دن ہمیں اپنی طرف بھلانے کی دعوت دی ہم نے دعوت قبول کی لیکن ہمیں کیا پتہ تھا کے آگے کیا ہونے والا ہے تو کچھ وقت گزرا پھر ہم وہاں گئے اپنے بلوچ دوست کے پاس
تو ہمیں یہ لگا جیسے ہمیں خدا نے صیح جگہ بھیج دیا ہے۔

تو پر شروع سازش جھوٹ کیا کیا میں لکھوں لیکن بزرگ بلوچ سب کے سامنے ڈٹے رہے اور ہاں ایک جہد کار نے تو اتنی گندی بات کہی کہ میں مناسب نہیں سمجھتا اس کا نام لینا بس اتنا کہہ دوں کہ جہد کار کے منہ میں اسی بات زیب نہیں دیتی۔

اسی طرح ہمیں چھ مہینے گزر گئے کتنے تکلیف اور سخت حالات تھے لیکن اس بلوچ نے ایک دن بھی یہ ظاہر نہیں ہونے دیا، کیونکہ سارے تکلیف اور مصیبت کا سامنا وہ ایک اکیلا بلوچ کررہا تھا۔

لیکن اس نے یہ ظاہر نہیں کیا اور ہماری رہنمائی کرتا رہا کبھی کبھی اگر لوگ جہالت پر اتر آتے بس ان سے یہ بات کہتے میں بلوچ ہوں اور بلوچ کبھی نہیں جکتا بس۔ اور اس بلوچ نے ہماری زندگی بدل دی اور ہمیں ایک ایسا تحفہ دیا جو ہم اپنی زندگی نچاور کردیں پھر بھی اس تحفے کے آگے کچھ نہیں۔

اس نے ایک بار پھر ہمیں وہ بندوق ہاتھوں میں تما دی جو ایک مظلوم کی آواز ہے جو ایک ظالم کو اسی کی زبان سمجھاتا ہے جو ہمارے لیے ایک فخر کی بات ہے اور اس سے بڑی خوبصورت چیز ہمارے لئے اور کچھ نہیں، اور اس بات کو ایک حقیقی جہد کار اچھی طرح سمجھتا ہے اور جب تک سانس چلتی رہیگی ہم اپنا فرض نبھاتے رہینگے۔

اور ہم اس تحفحے کا مرتے دم تک قرض دار رہینگے اور اس کا قرض زندگی دے کر بھی نہیں چُکا سکتے۔ اور ہمیں بزرگ دوست واجہ سرفراز بنگلزی ہمیشہ یاد رہیگا، انشاء اللہ۔

تحریر سنگت شیرجان بلوچ
نوٹ: درج بالا خیالات مصنف کی اپنی رائے ہے ریپبلکن نیوز اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں