بلوچستان: اب تک کی کامیابی

کوئٹہ/مضمون (ریپبلکن نیوز) بلوچستان کے سیاست ریایتی بلوچ مدبرانہ سیاست کے برعکس روز اول سے ہی پاکستان کے وفاقی سیاست کے نرخے میں رہا ہے پاکستان میں سیاست جہاں مسائل کے بجائے شخصی اور گروہی مفادات کے گرد گھومتی رہتی ہے بلکل عین اسی طرح آج کل بلوچستان کی سیاست میں بھی ایسی سیاست کے چھاپ واضح نظر آتے ہیں ۔

بلوچ قوم پرستوں کی سیاست کے دو رخ ہیں ایک جو ریاست پاکستان کے اندر رہتے ہوئے اپنے حق کی بات کرتے ہیں جن میں بلوچستان نیشنل پارٹی، نیشنل پارٹی اور دیگر چھوٹے بڑے جماعتیں جن میں جمہوری وطن پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی وغیرہ جبکہ دوسری جانب بلوچ ریپبلکن پارٹی، بلوچ نیشنل مومنٹ وہ جماعتیں ہیں جو کہ مسلسل ریاستی جابرانہ رویے اور بلوچستان میں فوجی جارحیت کے سبب اس مقام پر جا پہنچے ہیں جہاں وہ بلوچستان کو ایک الگ ریاست بنانے کی بات کرتے ہیں۔

اب یہاں ان دونوں طرف کے موقف کواگر جانچا جائے تو پارلیمان پرست جماعتیں اب تک آزادی پسندوں سے کامیاب نظر آتی ہیں اس کی بہت سے وجوہات ہوسکتی ہیں پاکستان کی طرف سے طاقت کا استعمال اور پرتشدد واقعات ہمارے سامنے ہیں مگر اس کی سب سے اہم وجہ بلوچ آزادی پسندوں میں قیادت کا نہ ہونا ہے اور یہی وجہ انہیں روز با روز پیچھے دکھیل رہی ہے۔ اگر ہم ان کے چند سالوں کی پالیسیوں پر نظر ڈالیں تو بس اندرونی توڑ پھوڑ اور ایک دوسرے کے ٹانگیں کھنچنے کے علاوہ کوئی ایسی پالیسی اور اقدام نظر نہیں آتھا جو کہ عوامی سطح پر ان کی پزیرائی کا سبب بنیں اور عوامی شمولیت کیلئے راہیں ہموار کریں کیونکہ عوامی شمولیت کے بنا کوئی بھی تحریک کامیاب نہیں ہوتی ہے۔

جب بلوچستان میں پانچویں فوجی آپریشن کا آغاز ہوا تب بلوچستان بھر میں ایک جوش و ولولہ دیکھنے کو ملتا تھا 2005 سے 2008 تک بلوچ نوجوان جوک در جوک جہاں مسلح مزاحمت کا حصہ بن رہے تھے وہی سرفیس سیاست میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ ڈال رہے تھے لیکن اس عرصے کے بعد بلوچوں کی آپس میں چپکلش بڑھتی گئی اور تحریک بجائے پزیرائی حاصل کرنے کے پیچھے ہی چلتا گیا اور ہنوز پیچھے کی جانب گامزن ہے ۔ لیکن بلوچ تحریک جو کرتا دھرتا ہیں وہ ٹس سے مس نہیں ہورہے ہیں بلکہ وہ احمقوں کی جنت میں رہنے والے سمجھتے ہیں کہ وہ کامیابی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس کامیابی اور ناکامی پر ایک چھوٹے جائزے کی ضرورت ہے اور اس پر میں اپنی سوچ کے مطابق کچھ باتیں لکھنا چاہونگا وہ یہ کہ 2005 سے دیکھیں تو کوئٹہ، خضدار، گوادر، مستونگ، تربت، قلات، نوشکی بلوچ مسلح اور سرفیس سیاست کا گڑ ہوا کرتے تھے اور جونوانوں کی تعداد سینکڑوں میں ہوا کرتی تھی روز یا تو کوئی مسلح کاروائی یا پھر جلسے ریلیوں کی شکل میں بلوچ سڑکوں پر اتر کر اپنی موجودگی اور کامیابی ظاہر کرتے تھے 2010 سے لیکر آج تک کے تمام صوتحال کا جائزہ لیں اور تجزیہ کریں دیکھیں کہ ہم کامیابی کی طرف جارہے ہیں یا پھر ناکامی کی جانب بڑھ رہے ہیں اور اگر ناکامی کی طرف جارہے ہیں تو اس کے اسباب کیا ہیں غلطی کہاں ہوئی ہے اگر میں ایسے سوالات اٹھاو تو مجھے کہا جائے گا کہ شاید تھکاوٹ کا شکار ہے ۔ لیکن مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ کہنے والوں سے زیادہ مجھے اس سرزمین سے محبت ہے اور غلط پالیسیوں اور جاہلانہ سوچ رکھنے والے قیادت ہی کینسر کی طرح اس تحرک کو نگل رہی ہے۔

میں اپنے بات کو جاری رکھتے ہوئے اس قیادت سے پوچھنا چاہتا ہوں کیا وجہ ہے کہ آپ جھل مگسی، سبی، لسبیلہ ، کشمور، ڈی جی خان، سمیت دیگر علاقوں کے بلوچوں کو شامل کرنے میں ناکام ہوئے بلکہ آپ تو خضدار، تربت، کوئٹہ ، کراچی ، قلات اور مستونگ کے حمایت سے بھی محروم ہوگئے؟ کیا وجہ ہے کہ آواران، مشکے، اور کیچ کے ہر گلی کوچے میں سرمچاروں کے آمد پر لوگ پھول نچاور کرتے تھے آج تم وہاں رات کے اندھیرے میں بھی نہیں جا سکتے ؟

کیا وجوہات ہیں کہ تم مزاری، رند، کھوسہ، جمالی، جمالدینی، مینگل، رائیسانی، مگسی اور دیگر اقوام کے نوجوانوں کو اپنے ساتھ ملانے میں ناکام ہوگئے اور آپس میں ایک دوسرے تنظیمی جہد کاروں کو توڑ کر ایک دوسرے میں شامل کرتے ہو کیا اسی کو کامیابی کہا جاتا ہے؟

پچھلے پندرہ سالوں میں سینکڑوں مزاحمتی ساتھی سرینڈر ہوگئے کیا جانے والوں کے ایک چوتھائی حصہ بھی تم بھرتی کر سکے ہو؟ ان سالوں میں جتنے علاقوں میں ہمارے مزاحمت کار ساتھی کی رسائی تھی کہ اس کی ایک چوتھائی حصے میں بھی تمہارا کنٹرول ہے ؟

کیا کیچ ، آواران گلیوں اور کوہ سلیمان کے دامن میں جس طرح سرمچاروں کے آنے سے عید جیسا ماحول ہوا کرتا تھا کیا وہاں تم بندوق لیکر داخل بھی ہوسکتے ہو؟ پھر کہاں کی کامیابی ؟

بی ایل اے سے یو بی اے اور آزاد جئیند تک یہ ہے کامیابی ؟ بی ایل ایف اور بی آر اے کا سکڑ جانا اور اپنے اپنے زیر اثر علاقوں میں سکڑ کے اس کے آدھے حصے میں رہ جانا یہ ہے تمہاری کامیابی ؟

اگر تم کامیاب ہوتے تو آج بی ایل اے کا یہ حال نہ ہوتا کوئٹہ پر راج کرنے والا بی ایل اے آج سانگان میں ایک سنائپر تک محدود ہوکر رہہ گیا ہے، مکران اور آواران کا راجہ اور گوادر میں چینی اہلکاروں کیلئے ڈراونا خواب بی ایل ایف آج پیر اندر کے چوکی پر حملے کی خبروں تک ہی اٹک کر راہہ گیا ہے۔ ڈیرہ بگٹی اور نصیر آباد میں پاکستانی معیشت کو زمین بوس کرنے والا بی آر اے کیا آج بھی وہی طاقت رکھتا ہے ؟ اگر درج بالا سوالوں کے جوابات منفی میں ہیں تو تمہاری کامیابی کہاں کھڑی ہے ؟

اگر تم “ براس” کو اپنی کامیابی قرار دے رہے ہو تو یہ منافقت کی انتہا ہوگی اور قوم کے ساتھ دھوکہ ہوگا کیونکہ اس کی حقیقت سے اس تحریک سے جڑا ہر فرد واقف ہے کیونکہ پورے مکران میں جئیند کے چھ سے آٹھ ساتھی ہیں جن کی اس وقت حالت کیا ہے وہ بھی ہمارے سامنے ہیں ، رہی بات بی آر جی کی تو وہ پورا کا پورا تنظیم بمشکل تین سے پانچ لوگوں پر مشتمل ہے مگر بی ایل ایف کی ایک اچھی خاصی تعداد ہے مگر بدقسمتی سے بی ایل ایف کی قیادت کا ہدف اس وقت تنظیموں میں پھوٹ ڈال کر انہیں اپنے ساتھ ملانا ہے اور اس میں وہ کافی کامیابی حاصل کررہے ہیں شاید وہ اسی کو اپنی اب تک کی کامیابی سمجھتے ہیں۔

کامیابی تب ہوتی جب آج مسلح اور سیاسی قیادت ایک گرینڈ الائنس میں ایک ہی چھتری تلے دشمن کے خلاف متحدہ محاز لڑرہے ہوتے کامیابی تب ہوتی کہ ہم رند، لاشاری، مگسی، مینگل، رائیسانی، مزاری، کھوسہ، جمالدینی، بادینی کو اپنے ساتھ شامل کرتے۔ کامیابی تب ہوتی جب قیادت ایک دوسرے کے ساتھ ہوتی اور مل بیٹھ کر ایک دوسرے سے صلع مشورے کرتے۔ کامیابی تب ہوتی جب ہر سکول اور کالج میں نوجوان آزادی کے نعرے لگاتے جو خوش قسمتی سے اب آپ لوگوں کی اصلیت جان کر خاموش بیٹھ گئے ہیں۔

میری رائے ہم اب شاید ناممکن نہیں تو بہت مشکل ہوگی اس تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کرنا وہ بھی اس صورت میں جب یہ لیڈر صاحبان ایک دوسرے کو توڑنے کے چکر چھوڑ کر دیگر علاقوں میں اپنی موجودگی کو یقنی بنائے اور دیگر قبائل کو اپنے ساتھ لانے میں کامیاب ہو ۔

میرے اس مضمون کو پڑھنے والے ہر شخص سے میں درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس بات پر سوچیں اور اپنی رائے دیں کہ کامیابی کے دعوے کرنے والے کیا ہم سے سچے ہیں یا آج بھی اپنی شخصی اور گروہی مفادات کیلئے جھوٹ کا سہارا لے رہے ہیں اور آخری بات بس یہ کہونگا کہ ہمارے موجودہ لیڈوں کے معاضی اور آج کا جائزہ ضرور لیں کہ کس نے کیا کھویا اور کس نے کیا پایا۔!

تحریر: زرکانی بلوچ

نوٹ: درج بالا خیالات مصنف کی اپنی رائے ہے ریپبلکن نیوز نیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button