بلوچستان اور سندھ کے پانیوں کو وفاق کے تسلط میں لانے کی سازشیں شروع

کوئٹہ/رپورٹ (ریپبلکن نیوز) بلوچستان کے وسائل کی لوٹ مار گزشتہ ستر سالوں سے جاری ہے اور اس دوران بلوچستان کو اپنے مکمل گرفت میں لانے کے لیے پاکستانی عسکری اداروں نے جہاں بلوچوں کا قتل عام کیا تو وہی حکمرانوں نے فوج کے کارناموں پر لبیک کہا۔

ستر سالوں کے استحصال کے بعد اب باری بلوچ سائل کی ہے جس پر گزشتہ کئی سالوں سے اسلام آباد کی نظرِ بد ہے، اور ہر حکومت کی یہی کوشش رہی ہے کہ کسی بھی طرح گوادر پورٹ سے پاکستانی معیشت کو سہارا دینے کا کارآمد منصوبہ تیار کیا جائے،

چین پاکستان اکنامک کوریڈر جیسے استحصالی منصوبوں سے تو ہم سب ہی واقف ہیں لیکن ریاستی ادارے بخوبی جانتے ہیں کہ بلوچوں کی مرضی و منشا کے بغیر بلوچستان میں کوئی بھی منصوبہ دیرپا کامیابی حاصل نہیں کرسکتا۔

اسلام آباد کی اب کوشش ہے کہ گوادر سمیت بلوچستان کی کوسٹل ایریا کو مکمل طورپر اسلام آباد کے کنٹرول میں لایا جائے تاکہ وہ اپنی مرضی و منشا کے مطابق جو چائیں کرسکیں، ویسے تو اب بھی اسلام آباد کی من مانی چلتی ہے لیکن چند ایک حکمران اسلام آباد کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کردیتے ہیں۔

وفاق کی جانب سے کوسٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا قیام دراصل اسی سلسلے کی ایک کھڑی ہے ، وفاق کی کوشش ہے کہ بلوچستان اور سندھ کے پانیوں پر مکمل کنٹرول حاصل کر کے بلوچوں کو انکے سائل سے مکمل طورپر محروم رکھے۔

اس طرح کی ایک کوشش فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے بھی کیں تھیں جسے منہ کی کھانی پڑی، جسکے خلاف شہیدِ وطن نواب اکبر خان بگٹی،شہید نوابزادہ بالاچ خان مری، شہید غلام محمد، شہید شیر محمد سمیت ہزاروں بلوچ رہنماوں اور فرزندانِ وطن نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے مادرِ وطن کا دفاع کیا اور مشرف کے منصوبے کو خاک میں ملا دیا۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں