بلوچستان بھر سے بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیاں جام حکومت کے منہ پر طمانچہ ہیں۔

کوئٹہ/رپورٹ(ریپبلکن نیوز) بلوچستان میں موجودہ حکوموت کے وجود میں آنے کے فوراََ بعد سے ہی بلوچستان بھر میں بلوچ خواتین و بچوں کی جبری گمشدگیوں میں حد درجہ اضافہ ہوا ہے۔

بلوچستان کے علاقوں آواران، ڈیرہ بگٹی، نصیرآباد، مکران سمیت بلوچستان بھر سے بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیوں میں جام حکومت کے قیام میں آنے کے بعد ہی اضافہ ہوگیا ہے۔ جبکہ موجودہ حکومت میں بلوچ خواتین پر باقاعدہ جھوٹے مقدمات قائم کر کے انہیں دہشتگرد بھی قرار دیا گیا۔

بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیاں ایک تسلسل کے ساتھ جاری ہیں، کل ریاستی فورسز نے بلوچستان کے علاقے نصیر آباد سے تعلق رکھنے والے بگٹی قبیلے سے تعلق رکھنے والے چھ لوگوں کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

زیرِ حراست افراد میں تین خواتین اور ایک بچہ بھی شامل ہے، تمام افراد کو دورانِ سفر ہزار گنجی کے بس اڈے سے حراست میں لیا گیا ہے، جنہیں فورسز کے اہلکاروں نے نامعلوم مقام پر منتقل کرکے لاپتہ کردیا۔

فورسز کے ہاتھوں زیرِ حراست افراد کی شناخت سات سالہ امین ولد حاجی دوست علی بگٹی، حاجی دوست علی بگٹی ولد ملوک بگٹی عمر ساٹھ سال، فرید بگٹی عمر 80 سال، عزتوں بی بی بنت ملحہ بگٹی، مرادخاتوں بنت نزغو بگٹی اور مہناز بی بی بنت فرید بگٹی کے ناموں سے ہوگئی ہے۔

ریپبلکن نیوز کی زرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ خاندان علاج کے غرض سے نصیر آباد سے آئے تھے جنہیں دورانِ سفر ہی پاکستانی فورسز نے حراست میں لے لیا۔

مزید خبریں اسی بارے میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں