بلوچستان: جبری طور پر لاپتہ تین افراد بازیاب، صحافی سمیت مزید تین لاپتہ، ایک لاش برآمد

کوئٹہ/ رپورٹ (ریپبلکن نیوز)تین لاپتہ افراد بازیاب، مزید تین لاہپہ جبکہ ایک لاش برآمد

کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے دو افراد چھ سال بعد فوج کی قید سے رہا کردئیے گئے جو کہ اپنے گھر پہنچ گئے ہیں

کوہٹہ سے تعلق رکھنے والے علی احمد بلوچ اور علی احسن کو چھ سال قبل پاکستانی فوج نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا تھا جس کے بعد ان کا کوئی پتہ نہیں تھا اور چھ سال بعد فوجی زندان سے رہا ہوکر گھر پہنچ گئے۔

جبکہ بلوچستان کے ضلع پنجگور سے فورسز کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد لاپتہ ہونے والے شخص ایک سال بعد بازیاب ہوگیا۔

پنجگور کے علاقے مکد پروم کا رہائشی شخص خدابادان ایف سی کیمپ سے بازیاب ہوکر اپنے گھر پہنچ گیا۔ بازیاب ہونے والے شخص کی شناخت محمد حنیف ولد محمد امین کے نام سے ہوئی ہے جسے گذشتہ سال مارچ کو فورسز نے گرفتار کرنے کے بعد لاپتہ کردیا تھا۔

بلوچستان کے علاقے تفتان میں سرگرم نوجوان صحافی نعمت اللہ بلوچ کو دو دن قبل پاکستانی خفیہ ادارے کے اہلکاروں نے گرفتارکرکے لاپتہ کردیا ہے ۔

علاقائی زرائع کا کہنا ہے کہ نعمت اللہ اکثر ریاستی اداروں کے سخت رویے اور ان کی حمایت میں ہونے والے اغوا برائے تاوان کے حوالے سے سوشل میڈیا پر خبریں شائع کرتا تھا۔

بعض اطلاعات کے کہ لاپتہ صحافی کو خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے پوچھ گچھ کے بعد لیویز کے حوالے کردیا ہے تاہم اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

دوسری جانب دبئی میں محنت مزدوری کرنے کے بعد چھٹی گزارنے کیلئے گھر آنے والے نوجوان کو پاکستانی فورسز اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے گوادر سے گرفتار کرکے لاپتہ کردیاہے۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ ماہ فروری کی 13 تاریخ کو محمد پرویز ولد رسول بخش دبئی سے گوادر آیا تھا کہ 26 فروری کو فورسز اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے چھاپہ مار کر سے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے

جبکہ ضلع مستونگ کے علاقے کانک سے ایک شخص کی گولیوں سے چھلنی لاش برآمد ہوئی ہے ۔ لاش پر تشدد کے نشان موجود ہے  اور پھر اسے فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا ہے ۔ تاہم ابھی تک لاش کی شناخت نہ ہوسکی ۔

مقامی انتظامیہ نے لاش کو ہسپتال منتقل کر دیا ۔

ادھر ڈیرہ بگٹی سے ہوٹل میں کام کرنے والے دو نوجواںوں کو ریاستی آئی ایس آئی کے اہلکاروں نے حراست کے بعد لاپتہ کردیا ہے۔

جن کی شناخت عالم بگٹی اور منگل بگٹی کے نام سے ہوئی ہیں زرائع کے مطابق دونوں نوجوان مقامی ہوٹل میں کام کرتے تھے رات کے وقت عالم بگٹی کو رہا کردیا گیا جبکہ منگل بگٹی تاحال ریاستی فورسز کی حراست میں ہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں