بلوچستان میں منشیات پھیلانا سامراجی ریاست کی سازش ہے

کوئٹہ/مضمون(ریپبلکن نیوز) کہتے ہیں کہ اگر کسی ملک یا قوم کو اندر ہی اندر کمزور یا تباہ کرنا ہو تو اُس کے اندر منشیات جیسے زہریلی بیماری کو جنم دینا ہوگا۔ منشیات کے عادی اور کینسر میں مبتلا لوگوں میں زیادہ فرق نہیں۔

دنیا کے اندر جب بھی سامراجی ریاستوں نے مظلوم اقوام یا طبقوں پر قبضہ کیا اور اپنے قبضے کو برقرار رکھنے کے لیے انہی حربوں کا سہارا لیا تاکہ وہ زیادہ دیر تک اپنی ناجائز حکمرانی کو قائم رکھ کر زیادہ سے زیادہ وسائل چوری کر سکیں، جس کی مثال ہمیں آج بھی بلوچستان میں ملتی ہے جہاں دالبندین میں پاکستان اپنے سامراجی ریاست چین کے ساتھ مل کر سیندک پروجیکٹ کا نام دے کر بلوچوں کی وسائل کو بے دردی سے لوٹ رہا ہے۔

بلوچستان میں ایسے کہی پروجیکٹ ہیں جس میں پاکستان اور چین مل کر یہاں کی وسائل کو زیادہ سے زیادہ لوٹنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ اگر ہم پاکستان جیسی ناپاک ریاست کو برطانیہ کا ناجائز بیٹا کہے تو میرے خیال میں غلط نہیں ہوگا۔ اور آج وہ اپنی ناجائز باپ کی بدولت بلوچوں کے ساتھ ساتھ سندھی اور پشتونوں پر بھی قابض ہے۔

۲۷ مارچ ۱۹۴۸ سے لیکر آج تک بلوچ اپنی قومی شناخت اور آزاد ریاست کے لیے جدوجہد کرتے آ رہے ہیں اور اکسیویں صدی کے شروعات میں اس تحریک میں ایک نئی جان آگئی جب بلوچ تنظیمیں وجود میں آنے لگیں اور فردوں کی جگہ تنظیم لینے لگے۔ ریاست کی ہر طرح کے ظلم و بربریت کے باوجود بلوچ نوجوان آئے روز اس تحریک میں شمولیت اختیار کررہے ہیں۔

ما سوائے چند لالچی اور مراعات پسند لوگوں کے جو انسان کے روپ میں شیطان ہوتے ہیں جو چند پیسوں اور مراعات کی خاطر اپنے ماں کو بھی بیچھ ڈالتے ہیں۔ ویسے تو یہ لوگ دنیا کی ہر اقوام یا طبقوں میں پائے جاتے ہیں جو اپنے قوم اور سماج کے لیے زہر قاتل اور سامراج کے لیے آخری سہارا ہوتے ہیں۔ جن کی مثال ہمیں ستر کی دہائی میں بنگلہ دیش میں ملتی ہے جہاں پاکستان نے انہی زر خریدوں کو اکھٹا کر کے بنگلہ دیشی تحریک کے سامنے لاکھڑا کیا لیکن وہ زیادہ دیر تک ٹک نہیں سکے اور پاکستانی 90ہزار فوجیوں نے اپنے پتلونیں اُتار ہوئےتے وہاں سے دمب دبا کر باگ گئے۔اسی طرح بلوچ تحریک کے خلاف بھی پاکستانی ریاست ایسے ہی لوگوں کو اکھٹا کر کے بلوچوں کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔

جو پیشے سے چور ڈکیت اور ڈرگ مافیہ لگتے ہیں جو ایک طرف ریاست کی سربراہی میں بلوچوں کے اندر منشیات جیسے زہر پھیلا رہے ہیں تاکہ بلوچ نوجوان ایسی زہریلی ادویات کا شکار ہو کر ذہنی طور پر اپاہج ہوکر رہیں اور اپنے نشے کو پورا کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار رہیں اور دوسری جانب انہی نشے کے عادی لوگوں کو منشیات کا لالچ دے کر آزادی پسندوں کے خلاف استعمال کرسکیں۔

ان کی مثال ہمیں کیچ کے علاقے ہوشاب کے رہائشی بدنام زمانہ لاٹو سید جو پیشے سے ایک چور اور ڈکیت کے نام سے پہچانا جاتا ہے سے ملتی ہے۔ آج سے ۱۲ سال پہلے یہ شخص اپنے پیٹ پالنے کے لیے پہاڑوں میں بکریاں چوری کرکے بیچھتا تھا اور بعد میں چوری کے ساتھ ساتھ منشیات کا بھی کاروبار کرنے لگا، اور آج کل دہشتگرد پاکستانی فوج کی سربراہی میں انہی علاقوں میں ڈیتھ اسکواڈ بھی چلا رہا ہے جو بلوچ نوجوانوں کو اغوا کر کے ٹارچرسیلوں میں بند کرنے کے ساتھ ساتھ آزادی پسند دوستوں کے گھروں میں چھاپے لگوا کر ان کے خاندانوں کو تنگ کرتے ہوئے عام عوام کو زبردستی پکڑ کر فوج کے سامنے سرمچار پیش کرتے ہوئے سرنڈر کروا رہا ہے۔

بلوچ آزادی پسند تنظیموں کو چاہیے کہ وہ ان جیسے منشیات پروشوں کے خلاف ایکش لیکر انہیں سبق سکھائیں جو ریاستی دہشتگرد فوج کی سرپرستی میں بلوچ نوجوانوں کے اندر جان لیوا ادویات کو پھیلا کر انہیں زہنی طور پر اپاہج کر کے گُمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تحریر: عابد بلوچ

نوٹ: درج بالا خیالات مصنف کی اپنی رائے ہے ریپبلکن نیوز اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں