بلوچستان میں گیس پائپ لائنوں پر حملوں میں تیزی، پاکستانی معشیت لڑکھڑانے لگی

کوئٹہ/رپورٹ (ریپبلکن نیوز) بلوچستان میں گیس پائپ لائنوں کو اڑانے کے باعث پاکستان کی کمزور معیشت مزید لڑکھڑانے لگی ہے۔ڈیرہ بگٹی میں مسلسل گیس پائپ لائنوں کو اڑانے کی وجہ سے پاکستان بھر میں گیس کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔

ضلع ڈیرہ بگٹی میں چار گیس فیلڈ کام کررہے ہیں جن میں لوٹی گیس فیلڈ، پیر کوہ گیس فیلڈ، سوئی گیس فیلڈ اور اوچ گیس فیلڈ شامل ہیں۔

سوئی گیس کا دریافت 1952 میں ہوا اور ایک سال بعد پاکستان بھر میں پائپ لائنوں کا جال بچاکر اس کو سپلائی کیا جانے لگا جبکہ پیر کوہ اور زین کوہ گیس فیلڈز بھی پنجاب اور سندھ کے بڑے شہروں کو گیس فراہم کرتے ہیں جس کی وجہ سے جہاں گھریلوں ضروریات پورے کیے جاتے ہیں وہی صنعتیں اور بڑی فیکٹریاں چلتی بھی چلتی ہیں۔

بلوچستان میں گیس پائپ لائنوں سے مسلح افراد کی جانب سے دھماکہ خیز مواد نصب کر کے اڑانے کے بعد اب یہ صنعتیں اور فیکٹریاں مشکلات کا شکار ہیں اور سوئی سے پنجاب جانے والے گیس پائپ لائنوں کو تباہ کرنے کے باعث پنجاب میں گیس کا بڑا بحران پیدا ہوگیا ہے۔

گزشتہ کچھ  دنوں سے ڈیرہ بگٹی اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں گیس پائپ لائنوں کو دھماکہ خیز مواد نصبر کر کے تباہ کرنے کے واقعات میں نمایا تیزی دیکھنے کو ملی ہے۔ چوبیس فروری کو زین کوہ میں سولہ انچ قطر کی گیس پائپ لائن کو دھماکے سے تباہ کیا گیا تھا جس کی زمہ داری بی آر اے نے قبول کر لی تھی۔اس کے علاوہ پانچ مارچ کو پیر کوہ سے پنجاب جانے والی اٹھائیس انچ قطر کی گیس پائپ لائن کو تباہ کیا گیا۔

جبکہ سوئی گیس پلانٹ سے کچھ گز کے فاصلے پر فینسگ ایریا کے قریب جہاں ڈی ایس جی فورس کی ایک بڑی تعداد پہرہ دیتی ہے کے ناک کے نیچے اٹھائیس انچ قطر کی گیس پائپ لائن کو تباہ گیا گیا جس کے بعد شدید آگ بھڑک اٹھی اور پورے علاقے میں خوف و حراس پھیل گیا۔

اس کاروائی کے بعد ڈی ایس جی نے اپنی ناکامی کو چھپانے کیلئے اسے ٹیکنیکل مسئلہ  قرار دینے کی کوشش کی۔جبکہ گزشتہ روز کراچی کو گیس فراہم کرنے والی سولہ انچ قطر کی گیس پائپ لائن کو بھی تباہ کیا گیا تھا۔

پاکستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان حملوں کے بعد کراچی، خیبر پختونخوا اور پنجاب کے بیشتر شہروں میں جہاں گیس کی لوڈ شیڈنگ میں اضافہ ہوا ہے وہی سوئی گیس انتظامیہ نے ایک علامیہ میں کہا ہے کہ مذکورہ شہروں کو چند روز تک گیس کی فراہمی بند کی جائیگی۔

کراچی اور پنجاب کے صنعتی شہروں میں گیس بند ہونے کے سبب فیکٹریوں اور صنعتوں میں کاروبار بند ہوا پڑا ہے جس کی وجہ سے ملک کی کمزور معیشت کو مزید دھجکا لگا ہے اور ملکی معشیت مزید خراب ہوگئی ہے۔

جبکہ گیس پائپ لائنوں کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کی زمہ داری قبول کرنے والی تنظیمیں، بلوچ لبریشن ٹائیگرز اور بلوچ ریپبلکن آرمی نے مزید سخت حملے کرنے کی دھمکیاں دی ہیں۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ گیس بلوچستان سے نکلتی ہے جسکا فائدہ پورے پاکستان کا ہوتا ہے لیکن پھر بھی بلوچستان بدحال ہے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں