بلوچستان میں 43 فوجی آپریشنز میں 55 افراد کو حراست بعد لاپتہ کیا، ڈیڑھ سو سے زائد گھروں میں لوٹ مار۔اسی مہینے 31 افراد قتل۔ بی این ایم رپورٹ

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز) بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات دلمراد بلوچ نے بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین کی خلاف ورزیوں،پاکستان کی بربریت اور جنگی جرائم پر مشتمل اگست کے مہینے کی دستاویزی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ بلوچستان میں ریاستی فورسز کی جارحیت شدت کے ساتھ جاری ہے۔ اگست کے مہینے پاکستانی فورسز نے بلوچستان میں 43 فوجی آپریشنز میں 55 افراد کو حراست بعد لاپتہ کیا۔

دوران آپریشن فورسز نے خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ ڈیڑھ سو سے زائد گھروں میں لوٹ مار کی۔اسی مہینے 31 افراد قتل ہوئے جن میں 3 وہ بلوچ جہدکار شامل ہیں جنہیں درگس بلوچستان میں آئی ایس آئی کے ایجنٹوں نے شہید کیا۔ پنجگور میں ایک بلوچ خاتون کو فورسز نے فائرنگ کرکے شہید کردیا۔ خاتون اپنے گھر میں بیٹھی ہوئی تھیں کہ سامنے کے چوکی سے فوج نے ان پر فائر کھول دی جس سے وہ موقع پر ہی شہید ہوگئیں۔ بابونوروز کے بیٹااوراس کا نواسہ پاکستانی سرپرستی میں چلنے والے قبائلی جنگوں کا نشانہ بنے۔9 لاشوں کی شناخت نہ ہوسکی جبکہ دیگر 16 لاشوں کے محرکات سامنے نہ آ سکے۔


انہوں نے کہا کہ اگست کے مہینے میں پاکستان کی اذیت گاہوں سے17 لاپتہ افراد بازیاب ہوئے۔ بازیاب ہونے والے افراد میں سے ایک شخص 2016 سے، ایک نوجوان2017 سے، آٹھ افراد 2018 سے اور دیگر 7 افراد 2019 سے پاکستانی فورسز کی خفیہ عقوبت خانوں میں بند تھے۔
دل مراد بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں ناقابل شناخت لاشیں برآمد ہونا معمول کا حصہ بن چکے ہے۔ ان میں اکثریت لاپتہ افراد کی ہوتی ہے۔ مستونگ میں ان ناقابل شناخت لاشوں کی ایک قبرستان آباد کی گئی ہے جہاں آئے روز لاشیں دفنائے جاتے ہیں۔ لاشوں کی شناخت اور ڈی این اے سے گریز اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ پاکستان اپنی جنگی جرائم کو چھپانے کی کوشش کررہا ہے کیونکہ شناخت کی صورت میں ریاست پر بین الاقوامی دباؤ بڑھ سکتاہے۔ شناخت و ڈی این اے سے گریز کا ایک مقصدیہ بھی ہے کہ لاپتہ افراد کے لواحقین ہمیشہ تڑپتے رہیں،تکلیف میں رہیں جس سے دوسرے عبرت حاصل کریں اور بلوچ قومی آزادی میں کسی قسم کا کردارادا کرنے سے گریز کریں۔


دل مراد بلوچ نے کہا گزشتہ چند مہینوں میں چند ایک لوگ پاکستانی فوج کے اذیت خانوں سے بازیاب ہوگئے لیکن بلوچستان کے طول وعرض میں نہ صرف فوجی آپریشن جاری ہے بلکہ لوگوں کو اٹھاکر زندان کی نظر کرنے کی تیزی لائی گئی ہے۔ گھر نذرآتش کیاجارہے ہیں۔ مال مویشی لوٹے جارہے ہیں۔ یہ معمول کے سرچ آپریشن نہیں بلکہ بلوچستان میں آپریشن کا مطلب مکمل تباہی اوردہشت خیز فوجی بربریت ہے۔ اس میں لوگ بڑی تعداد میں فوج کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔لوگوں پر بلاتخصیص تشد د کیا جاتا ہے اور پورے گاؤں تہس نہس کئے جاتے ہیں۔


بی این ایم کے انفارمیشن سیکریٹری نے کہا کہ اگست کے مہینے میں آواران، جھاؤ، مشکے، دشت، خاران، پسنی، پنجگور، کیچ، کوہلو سمیت مختلف علاقوں میں فوجی بربریت جاری رہا۔ فوجی جبر، بربریت اور دہشت خیزی کے ماحول میں ان آپریشنوں کااصل نقصانات کا اندازہ لگانا بہت ہی مشکل ہے کیونکہ یہاں نہ میڈیا ہے اور نہ ہی بین الاقوامی انسانی حقوق کے آزاد اداروں کو ان علاقوں تک رسائی دی جاتی ہے۔ بلوچستان کو ایک کھلے قید خانے میں تبدیل کردیا گیا ہے جہاں پاکستانی فوج، خفیہ اداروں اور فوج کے سرپرستی میں بلوچ کُش ڈیتھ سکواڈ دندناتے پھررہے ہیں۔ لوگوں کی جان، مال اور عزت مکمل طورپر ان درندوں کے حوالے ہے۔


دل مراد بلوچ نے کہا کہ پہلی دفعہ پاکستانی فوج نے اعتراف کی ہے کہ ایک بلوچ نوجوان کی بازیابی لیے تاوان وصولی میں ملوث میجر کو سزا دی گئی ہے۔ چاغی کے علاقے دالبندین سے 30 اگست 2016 کو فورسز کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے حفیظ اللہ محمد حسنی کے لواحقین سے فوج کے ایک میجر نے رہائی کے بدلے 68 لاکھ روپے دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ مظلوم خاندان نے یہ رقم بھی ادا کردی لیکن اس کے باوجود حفیظ اللہ بازیاب نہ ہوسکے۔


انہوں نے تاوان لینے کے واقعہ پرکہاکہ یہ پہلا اورنہ ہی آخری واقعہ ہوگا کیونکہ پاکستانی فوج کے لئے قاعدے قوانین کوئی معنی نہیں رکھتے بلکہ بین الاقوامی جنگی قوانین اور انسانی اقدار ہرروز روندے جارہے ہیں۔ پاکستان اپنے قبضے کو برقرار رکھنے کے لئے بلوچ عوام کی زندگیوں سے ایسے ہی کھیلتا رہے گا،لوگوں کی تذلیل کرتا رہے گا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کوئی ایسی دشمن نہیں جس سے بلوچ یہ توقع رکھے کہ وہ انسانی اقدار کی پاسداری کرے گا۔ اس سے قبل متعدد ایسے واقعات ہماری علم میں ہیں کہ فوج نے براہ راست یا اپنے مڈل مینوں کے ذریعے لوگوں سے تاوان کی رقم وصول کی ہے لیکن ایسے واقعات رپورٹ نہیں ہوتے ہیں۔ کوئٹہ سے لاپتہ ظفر بلوچ کے خاندان سے بھی فوج نے 35 لاکھ روپے کی تاوان رقم وصول کی۔ ظفر بلوچ ولد حاجی غلام محمد بلوچ کو 24 جولائی 2015 کو رات کے تین بجے گھر سے فوج نے حراست میں لیکر لاپتہ کردیا۔اتنی بڑی رقم کی وصولی کے بعد مارچ 2019ک ظفر بلوچ کو رہا کردیا گیا۔ لیکن ہر کیس میں ایسا نہیں ہوتا بلکہ تاوان کے باوجود لوگ زندانوں میں قید ہی رہتے ہیں۔


واضح رہے کہ بلوچستان کی طول وعرض میں فوج حراست میں لینے کے بعد متاثرین سے تاوان وصول کررہا ہے لیکن فوج کی دھمکی اور خوف کی وجہ سے لوگ سامنے آنے سے کتراتے ہیں یوں دیگر مظالم کے ساتھ ساتھ یہ مکروہ اور غیر انسانی عمل جاری رہتاہے۔


دل مراد بلوچ نے کہا کہ بلوچ قوم اپنے مشکل ترین سے گزررہاہے۔ دشمن روزانہ کی بنیاد پر آتش و آہن کی برسات کررہاہے۔ بلوچستان کو جہنم بنادیا گیا ہے۔ایسے میں بلوچ قوم کے ہر فرد کا قومی و انسانی ذمہ داری ہے کہ وہ اس درندگی کے خلاف آواز اٹھائے،اپنا قومی فریضہ ادا کرے اور ساتھ ہی بین الاقوامی انسانی حقوق کے ادارے بھی اس بات کا ذمہ دارہیں کہ وہ آگے بڑھیں اور پاکستان کے جنگی جرائم کا نوٹس لیں اور بلوچ کے مشکلات میں کمی لانے کے لئے وہ کردار اداکریں جس کی ضمانت ان کا منشور دیتاہے۔


تفصیلی رپورٹ 1اگست ۔۔۔ نوشکی سے کئی روز پرانی لاش بر آمد انتظامیہ نے بغیر شناخت کے دفنا دیا۔ ٓ۔۔۔آٹھ ماہ قبل پاکستانی فوج کے ہاتھوں حراست بعد لاپتہ ہونے والے طالب علم رہنما جیئند بلوچ بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیاجیئند بلوچ بلوچ لاپتہ افراد کے لئے آوازاٹھانے کے جرم میں فوج نے اٹھاکر لاپتہ کردیا جبکہ ان کا چھوٹا بھائی حسنین ابھی تک لاپتہ ہیں حالانکہ حسنین کی گرفتاری ظاہر بھی کئی گئی جن پر کراچی میں چینی قونصلیٹ پر حملے میں معاونت کا الزام لگایاگیاتھا۔
۔۔۔لسیبلہ کے صنعتی شہرحب چوکی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے نوجوان طالب منظور احمد جان بحق ہوگئے۔ نوجوان کے قتل کے محرکات معلوم نہیں ہوسکے ہیں
۔۔۔دکی :میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے میر حاجی ولد مولا بخش جان بحق ہوگئے۔قتل کے محرکات معلوم نہ ہوسکے۔
2اگست


۔۔۔کیچ کے علاقے نظر آباد میں پاکستانی فوج نے چھاپہ مارکر ناصر بلوچ کو حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا۔ فورسز نے چھاپے کے دوران خواتین،بچوں اور گھرمیں تمام لوگوں کو تشددکا نشانہ بنایا اورگھر میں موجود قیمتی اشیاء کا صفایا کردیا۔

3 اگست
۔۔۔۔آواران کے علاقے مشکے سے 2مارچ 2019کوپاکستانی فوج کے ہاتھوں حراست بعد لاپتہ ہونے والے محمد عمر ولد رحمت اور بہرام ولد علی جان سکنہ مشکے تنک حراست سے بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے۔


۔۔۔لسبیلہ کے رہائشی نوجوان طالب علم کو پاکستانی فوج نے 25مئی 2019کو نوشکی سے اس وقت حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا جب وہ اپنے دوستوں سے ملنے آیا ہوا تھا۔
۔۔۔کیچ سے قابض فوج نے چارطالب علم ساجد ولد دینار،شیر جان ولد یوسف علم الدین ولد ملا مطفی اور پیرل ولد بشیر احمدکو ایک چھاپے کے دوران حراست میں لے کر لاپتہ کردیا جو کرایے کے کمروں میں رہائش پذیر تھے 5اگست ۔۔۔ کیچ کے علاقے تمپ ملک آباد سے پاکستانی فوج نے علی ولدحکیم سکنہ تمپ ملک آباد کو حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا۔


6اگست
۔۔۔خاران سے قابض فوج کے ہاتھوں حراست بعد لاپتہ ہونے والے عبید اللہ ولد حاجی برکت تگاپی،حکمت ولد حافظ عبدالشکور اور شکر اللہ ولد سعد اللہ بازیاب ہوگئے،ان میں سے عبید اللہ کو فوج نے خاران کے مرکزی شہر سے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کیا تھا حکمت اور شکراللہ کو خاران کے علاقے گواش دریج سے 19جولائی2018کو ایک سرچ آپریشن کے دوران حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کیا تھا۔


۔۔۔آواران کے علاقے مشکے سے قابض فوج نے عزیز ولد اللہ داد سکنہ مشکے اوگار کو ان کے دو بیٹوں سمیت حراست میں لے کر لاپتہ کردیا،بیٹوں کا نام معلوم نہ ہوسکا۔


۔۔۔پاکستانی فوج پسنی کے علاقے ببر شور حیدر کوٹ سمیت متعدد علاقوں میں آپریشن کا آغاز کرتے ہوئے گھروں سے قیمتی سامانوں کا صفایا کردیا۔ 7اگست
۔۔۔ پنجگور سے پاکستانی فوج نے دو طالب علم عبدالکریم ولد سمیم احمد اور نصر اللہ ولد شبیر کو چتکان سے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا ہے۔


۔۔۔۔ کیچ کے علاقے مند ریحان چات سے انتہائی مسخ شدہ لاش بر آمد،لاش کی شناخت نہ ہوسکی۔
۔۔۔ پنجگور فورسز کی فائرنگ سے خاتون جان بحق سندانی سر میں حاجی واحد نامی شخص کی اہلیہ اپنے گھر کے سامنے بیٹھی ہوئی تھی کہ گھر کے قریب فورسز کی چوکی سے اندھا دھند فائرنگ شروع کی گئی اور گولی آکر خاتون لگی اور وہ شہید ہوگئیں۔


۔۔۔ نوشکی چار سال قبل قابض فوج کے ہاتھوں حراست بعد لاپتہ ہونے والے عبدالکریم ولد عبدالغفور بادینی سکنہ نوشکی بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے ہیں۔
۔۔۔پنجگور کے علاقے وشبود نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے الیاس ولد مولا بخش کو قتل کردیامحرکات معلوم نہ ہوسکیں۔
۔۔۔ پنجگور قابض فوج کے ہاتھوں

حراست بعد لاپتہ ہونے والے محمد حنیف ولد حاجی قیصر سکنہ پروم پنجگور، محمد اکبر ولد باغی اور عالم ولد عظیم فوج کے عقوبت خانوں سے بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے ہیں
۔۔۔۔۔۔کوئٹہ سے جولائی 2017 کو قابض فوج کے ہاتھوں حراست بعد لاپتہ ہونے والے آصف محمد حسنی سکنہ کوئٹہ گزشتہ روز بازیاب ہوکر اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔
۔۔۔ بلوچستان کے ساحلی شہر پسنی میں قابض فوج کا آپریشن،شہر مکمل سیل داخلی و خارجی راستے بند، دوران آپریشن ببر شور، حیدر گوٹھ،کلانچی پاڑہ، میں دوران آپریشن گھروں میں لوٹ مار کے ساتھ خواتین و بچوں پر تشدد کی گئی۔


8اگست۔۔۔۔ تربت میں پاکستانی فوج نے چھاپہ مارکر دس سالہ بچے علی ولد اکبر کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام منتقل کردیا بعد ازاں کچھ گھنٹوں بعد اس کو چھوڑ دیا گیالیکن چند ہی گھنٹوں بعد مند بلو سے دوبارہ حراست میں لے کر لاپتہ کردیا۔
۔۔۔۔اورماڑہ سے پاکستانی فوج نے ضعیف العمر شخص سیٹھ علی ولد عبدالکریم سکنہ جھاؤ سوڑ کو حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا۔


۔۔۔پسنی کے مختلف علاقوں میں تیسرے روز میں آپریشن جاری رہا۔
10اگست ۔۔۔کیچ کے علاقے ہیرونک سے 20اپریل 2018کو قابض فوج کے ہاتھوں حراست بعد لاپتہ ہونے فیض ولد یوسف سکنہ ہیرونک کیچ حراست بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا۔
۔۔۔۔کیچ سے قابض فوج کے ہاتھوں اٹھارہ ماہ قبل حراست بعد لاپتہ ہونے والا خلیل ولد حاصل سکنہ کاشاپ دشت حراست سے بازیاب ہوگئے۔
11اگست۔۔۔۔۔قابض فوج نے کیچ کے علاقے دشت اور گردنواح میں بڑے پیمانے پرفوجی آپریشن کی۔


۔۔۔ضلع کیچ میں ایک شخص کی گولیوں سے چھلنی لاش برآمد، تمپ، رودبن میں سڑک پر قائم ایک پْل کے نیچے ایک شخص گولیوں سے چھلنی لاش برآمد ہوئی ہے،شناخت نہ ہو سکی۔
12اگست ۔۔۔کیچ کے علاقے مند سے6مئی 2019قابض فوج نے سلمان سلیم ولد خداداد سلیم کو حراست میں لینے کے لاپتہ کردیا ہے اہلخانہ آج تصدیق کی ہے بعض اوقات متاثرہ خاندان پر فوج کا بے پناہ دباؤ ہوتا ہے کہ اگر حراست بعد لاپتہ یا دیگر مظالم کے بارے میں بات کی تو ا س کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اس لئے خبر باہر نکلنے میں کافی دیر ہوجاتاہے۔ ۔۔۔ پنجگور کے علاقے وشبود سے پاکستانی فوج نے نوجوان ساجد ولد صادق سکنہ وشبود کو دکان پر چھاپہ مارکر حراست میں لینے کے نامعلوم مقام منتقل کردیا۔


13اگست
۔۔۔ پشین گورنمٹ ڈگری کالج کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے نوجوان عبدالہنان ولد محمد حسین جان بحق،قتل کی محرکات معلوم نہ ہوسکے۔
15اگست

۔۔۔۔آواران کے علاقے مشکے سے قابض فوج نے دولت ولد داد محمد اور رحمت ولد دین محمد سکنہ کوہ پشت کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام منتقل کردیا واضح رہے کہ ان دونوں پاکستانی فوج نے اس سے قبل بھی حراست میں لے کر لاپتہ کیا تھا جو طویل عرصے تک لاپتہ ہونے بعد دو ماہ قبل بازیاب ہوئے تھے جنہیں اب پھر سے لاپتہ کیا گیا ہے۔

16اگست
۔۔۔۔ آواران کے علاقے بزداد سے قابض فوج نے نوعمر طالب علم نعیم ولد صابر سکنہ بزداد آواران کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام منتقل کردیا ہے۔
ٓ۔۔۔آواران کے علاقے بزداد سے قابض فوج نے پندرہ سالہ پرویز ولد صادق سکنہ گند کورکوحراست میں لے کر لاپتہ کردیا۔


۔۔۔حب چوکی میں نامعلوم کی فائرنگ سے طالب علم منظور جانبحق ہوگیا۔قتل کی محرکات معلوم نہ 17اگست۔۔۔۔ضلع خضدار میں ڈکیٹی کے دوران ڈکیٹوں کی فائرنگ سے طالب علم نواجون سمیع اللہ جان بحق ہوگئے۔


۔۔۔ خضدار فائرنگ کے واقعے میں بابو نوروز کے بیٹے امان اللہ زرکزئی اور اس کا نواسا مردان زرکزئی اور ایک ساتھی جابحق جان بحق ہوگئے،واقعے کو قبائلی دشمنی کا شاخسانہ قراردیا جاتاہے لیکن یہ نام نہاد قبائلی دشمنیاں پاکستان کے فوج وخفیہ اداروں کے سرپرستی میں چلتے رہتے ہیں جن میں دونوں اطراف سے لوگ مارے جاتے ہیں جس کا فائدہ صرف پاکستان کو ہوتاہے۔اس واقعے میں بھی فریقین کو فوج و خفیہ اداروں کا مدد حاصل ہے۔


۔۔۔کوئٹہ کچکلاک مسلح افراد کی فائرنگ سے مسجد کا پیش اما م مولوی محمد اعظم جان بحق ہوگئے۔قتل کے محرکات معلوم نہ ہوسکیں


۔۔۔۔ حب ڈام سمندر سے دو ناقابل شناخت لاشیں برآمد ہوئی ہیں جو دس روز پرانی بتائے گئے۔، تاہم مذکورہ افراد کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔ اور ان افراد کی ہلاکت کی وجوہات بھی سامنے نہیں آ سکے ہیں


۔۔۔ چاغی گردی جنگل میں فائرنگ کے ایک واقعے میں ایک شخص جان بحق جبکہ تین افراد زخمی۔واقعے کے محرکات معلوم نہ ہوسکیں۔
۔۔۔ کیچ کے علاقہ دشت سے قابض فوج نے دوران آپریشن نیاز ولد شمبے کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام منتقل کردیا۔


۔۔۔۔کیچ کے علاقے ہوشاپ میں آپریشن کرکے چارافراد کہور ولد میار،منظور ولد واجو،جلال ولد چار شمبے اور عالم ولد باہوٹ کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام منتقل کردیا ہے۔
۔۔۔کیچ کے علاقے بلیدہ میں پاکستانی فوج کا بڑے پیمانے پر آپریشن اور گھروں میں لوٹ مار۔؎
۔۔۔لسبیلہ کے علاقے حب چوکی سے17جون 2018کو پاکستانی فوج کے ہاتھوں حراست بعد لاپتہ ہونے والے بجار ولد قادر داد سکنہ دشت تولگی حراست سے بازیاب ہوگئے۔


۔۔۔کیچ کے علاقے کونشکلات میں قابض فورسزنے آپریشن کرکے متعدد افرادکو گرفتار کرنے بعد بعد ازاں انہیں چھوڑ دیا اور موسی ولد محمد یوسف حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام منتقل کردیا ہے۔


18اگست ۔۔۔کوئٹہ کے علاقے کرانی روڈ شوکت اسٹاپ سے نوجوان کی لاش بر آمد۔اسپتال انتظامیہ کے مطابق لاش پر گولیوں کے نشانات ہیں تاہم آخری اطلاعات آنے تک شناخت کا نہ ہو سکی۔
۔۔۔خضدارقابض فوج کے ہاتھوں حراست بعد لاپتہ ہونے والے دو نوجوان شبیر بلوچ ولد عید محمد سکنہ بدرنگ گریشگ اور حنیف بلوچ سکنہ زباد گریشگ بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے ہیں ان کوفوج نے 29 اکتوبر 2018 کو پنجگور کے علاقے سوردو سے ملا رحمدل کے گھر پر چھاپہ مارکر حراست میں لے کرنامعلوم مقام منتقل کردیا تھا۔


۔۔۔ نوشکی سے ضعیف العمر شخص کی لاش بر آمد۔شناخت نہ ہوسکی۔
19اگست ۔۔۔پنجگور کے علاقے چتکان سے ایک نوجوان شاہ نظرولد خدانظر کو قابض فوج نے چار روز قبل چتکان سے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام منتقل کردیاہے، خاندان نے آج تصدیق کی ہے


۔۔۔چمن سے ایک لاش بر آمد شناخت کے لئے ہسپتال منتقل،شناخت نہ ہوسکی۔
20اگست۔۔۔۔قلعہ عبد اللہ میں کار پر فائرنگ سے جان پولزئی نامی شخص ماں سمیت جان بحق ہوگئے،واقعے کے محرکات معلوم نہ ہوسکے۔


۔۔۔ کولواہ کے گاؤں پارگ پر قبضہ کرکے مکینوں کو بیدخل کرکے بیشتر گھرو ں کو کیمپ میں تبدیل کردیا، علاقہ مکین آسمان تلے زندگی گزارنے پہ مجبور ہوگئے ہیں۔
۔۔۔ کیچ سے 6مارچ2019کوپاکستانی فوج کے ہاتھوں حراست بعد لاپتہ ہونے بلوچی زبان کے ادیب،شاعر نظر دوست حراست سے بازیاب ہوگئے۔


21اگست
۔۔۔۔کوہلو میں قابض فوج کا آپریشن، کاہان کے مختلف علاقوں بامبور، تلی، ترکڑی میں آج صبح سے پاکستانی فورسز نے عام آبادیوں کو محاصرہ کرکے آپریشن کا آغاز کردیا ہے دوران آپریشن فورسز گھر گھر تلاشی کے علاوہ پہاڑی راستوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے اور ہر طرح کی آمد و رفت پہ پابندی عائد کردی ہے۔


۔۔۔۔پہلی بارپاکستانی فوج نے اعتراف کی ہے کہ بلوچ نوجوان کی بازیابی لیے تاوان وصولی میں ملوث میجر کو سزا دی ہے۔ چاغی کے علاقے دالبندین سے 30 اگست 2016 کو فورسز کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے حفیظ اللہ محمد حسنی کے لواحقین سے فوج کے میجر نے ان کے رہائی کے بدلے 68 لاکھ روپے دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ بلوچستان کی طول وارض میں فوج حراست میں لینے کے بعد متاثرین سے تاوان وصول کی ہے لیکن ایسے واقعات بہت کم ہی سامنے آئے ہیں جس کی بنیادی وجہ فوج کا خوف ہے۔


۔۔۔۔۔۔آواران کے علاقے مشکے میں بڑے پیمانے پر آپریشن کرکے چھ افراد داد کریم ولد حمل،شیر جان ولد عبداللہ،حضور بخش ولد عبداللہ،صوالی ولد داد کریم سکنہ گجلی راغے علم خان ولد خیر محمد،غوث بخش ولد گل شیر کو حراست میں لینے بعد نامعلوم مقام منتقل کردیا تھا۔


22اگست
۔۔۔لسبیلہ کے علاقے ساکران سے قابض فوج نے تین نوجوان عالم مری،کہور خان مری اور امین علی مری کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیا ہے ان کو پندرہ اگست کو گھر چھاپہ مارکر حراست میں لیا گیا آج لواحقین نے آج تصدیق کی۔


۔۔۔ نوشکی سے کئی روز پرانی مسخ شدہ لاش بر آمد شناخت سرفراز کے نام سے ہوا ہے جو بائیس روز سے لاپتہ تھا۔واقعہ قبائلی دشمنی کا شاخسانہ ہے


۔۔۔مغربی بلوچستان کے علاقے درگس میں آئی ایس آئی کے ایجنٹوں نے دشت سے تعلق رکھنے والے تین بلوچ جہدکارنوجوان وحیدجان،زبیرجان اوراسحاق جان شہید کردیئے ہم ان نوجوانوں کو ان کی عظیم قربانی پر سرخ سلام پیش کرتے ہیں۔


23اگست۔۔۔ کوئٹہ کے علاقے کچلاک میں مسلح افراد فائرنگ سے عماد ولد غلام رسول نامی شخص جان بحق ہوگئے،محرکات معلوم نہ ہوسکیں۔
۔۔۔آواران کے علاقے کولواہ میں قابض فوج نے واہگ ولدمیاں دادکوگرفتارکرکے انہیں ان کے گھرلے گئے،اہلخانہ کے سامنے تشددکا نشانہ بنایا اوراس کے بعد زخمی حالت میں نامعلوم مقام منتقل کردیا ہے۔


۔۔۔۔ گوادر سے قابض فوج نے نوجوان عادل ولد اسماعیل کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیا ہے۔
24اگست ۔۔۔کیچ کے علاقے دشت فرنٹ بازار میں قابض فوج نے چھ افرادمحبوب ولد ابوالحسن،ریاض ولد داد محمد،نسیم ولد صالح محمد،درجان ولد مستری عبداللہ رفیق ولد لال بخش،اور مجید ولد خداداد کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام منتقل کردیا۔ 25اگست۔۔۔کیچ کے علاقے دشت زیارت میں دھاوا بول کر 65سالہ ضعیف شخص عیسیٰ ولد شمبے سکنہ دشت زیارت کو حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا۔

۔۔۔پاکستانی فوج نے آواران کے علاقے کولواہ گندچائی سے نصیر ولد شاہ داد سکنہ گندچائی اور حسو ولد الہی بخش سکنہ بزداد کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام منتقل کردیا ہے 28اگست ۔۔۔۔سبی سے کمسن بچہ زاہد ولد حاجی جمعہ کی لاش بر آمد بچے کو قتل کرنے بعد لاش جلادیا گیا تھا لواحقین کے مطابق زاہد بکریاں چرواہا تھا جس گزشتہ روز اغواء کیا گیا تھا واقع کے محرکات معلوم نہ ہوسکیں۔
۔۔۔ پنجگور کے علاقے چتکان سے پاکستانی فوج نے اکرام ولد ماسٹر احمد سکنہ پروم کو حراست میں لینے بعد نامعلوم مقام منتقل کردیا ہے۔


۔۔۔واشک کے علاقے سے پاکستانی فوج نے واشک کے علاقے راگئے ترپپ سے یوسف ولد باران،نور بخش ولد مولا بخش اور اختر ولد لکا کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام منتقل کردیا ہے۔


29اگست ۔۔۔نصیر آباد نامعلوم افراد کی فائرنگ سے اللہ دتہ ولد محمد خان بگٹی جان بحق ہوگئے۔ قتل کے محرکات سامنے نہ آ سکے
۔۔۔کیچ کے علاقے دشت فرنٹ بازارمیں قابض فوج نے علی الصبح ایک گھر پر چھاپہ مارکردوافرادرفیق ولد لال بخش اور مسلم ولد عیسی کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام منتقل کردیا ہے۔ ۔۔۔کولواہ کے علاقے کرکی سے پاکستانی فوج نے لوکل گاڑی سے الطاف ولد یار جان سکنہ کولواہ کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام منتقل کردیا ہے۔


30اگست ۔۔۔کوئٹہ میں دو افراد کی لاشیں ملی ہیں جن میں سے ایک کی شناخت ہوگئی ہے جبکہ دوسرے کو شناخت کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ہزارہ ٹاون قبرستان سے 28 سالہ نوجوان کی لاش ملی ہے جس کی شناخت عباس علی ولد غلام علی کے نام سے ہوئی ہے۔مقتول ہزارہ ٹاؤن کا رہائشی ہے جبکہ ان کے قتل کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہوسکے ہیں۔ ۔۔۔کراچی ائیر پورٹ سے نوجوان فیصل ولد ابراہیم سکنہ پنجگور پروم کو حراست بعد لاپتہ کردیا ہے۔فیصل سعودی عرب میں تعلیم حاصل کر رہا ہے جو چھٹیاں گزارنے پنجگور آیا ہوا تھا۔بعد ازاں اسکو چھوڑ دیا گیا۔
۔۔۔۔۔کوئٹہ میں مقامی روزنامہ کا سینئر سب ایڈیٹر اور شون ادبی دیوان کا جنرل سیکریٹری اور براہوئی زبان کے نوجوان شاعر جمیل احمد مسلح افراد کی فائرنگ سے زخمی۔ان واقعات کی محرکات معلوم نہ ہوسکیں۔ہوسکیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں