بلوچستان: چھ ہفتوں میں افغان طالبان کے حامی چھ عالم دین قتل

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز) پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں گزشتہ چھ ہفتوں میں افغانستان سے تعلق رکھنے والے چھ دینی علما نامعلوم افراد کی گولیوں یا مساجد میں بم دھماکوں کا نشانہ بنے ہیں۔
ان علما کو قتل کرنے کی ذمہ داری کسی بھی تنظیم نے قبول نہیں کی جس سے لوگوں کے ذہنوں میں کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔


صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے پشتون آباد میں 24 مئی کو نمازِ جمعہ کے دوران ایک مسجد کے محراب میں بم دھماکہ ہوا تھا جس میں تین افراد مارے گئے تھے۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ مسجد کے امام طبیعت خراب ہونے کے باعث امامت نہیں کر رہے تھے اور دوسری صف میں کھڑے تھے۔ وہ دھماکے میں محفوظ رہے لیکن اُن کے بھتیجے نے جمعے کا خطبہ دینے کے بعد نماز کی امامت کی تھی۔ جو دھماکے میں مارے گئے۔ تاہم اصل ہدف امام مسجد ہی تھے۔


جمعیت علماء اسلام (نظریاتی گروپ) کے بعض رہنماﺅں کے بقول مسجد کے امام افغان طالبان کے بہت قریب سمجھے جاتے تھے۔
دوسرا دھماکہ بھی جمعے ہی کی نماز کے دوران کوئٹہ کے نواحی علاقہ کچلاک کے کلی قاسم میں ایک مسجد میں ہوا تھا۔کلی قاسم کی مسجد میں بھی امام سمیت چار افراد ہلاک جب کہ متعدد زخمی ہوئے تھے۔ مسجد کے امام کا نام حمد اللہ بتایا گیا۔


حمد اللہ کے بارے میں افغان میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ افغان طالبان کے موجودہ سربراہ ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کے چھوٹے بھائی تھے۔
ملا ہیبت اللہ اخونزادہ سے متعلق برطانیہ کے ایک خبر رساں ادارے نے خبر دی تھی کہ تحریک طالبان افغانستان کے سربراہ بننے سے پہلے وہ کچلاک بازار کے قریب ایک مدرسے میں درس و تدریس سے وابستہ تھے اور اس سے ملحقہ مسجد میں امام کے فرائض بھی انجام دے رہے تھے۔
کچلاک کے ایک دکاندار ظاہر خان کٹواز کا کہنا ہے کہ ان کے دو بھائی حافظ حمد اللہ کے مدرسے میں قرآن حفظ کر چکے ہیں۔


انہوں نے بتایا کہ حافظ حمد اللہ کا مدرسہ اپنے بھائی ہیبت اللہ کے سابقہ مدرسہ سے چار یا پانچ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے جہاں بعض اوقات افغان طالبان کے سربراہ ٹیلی فونک خطاب بھی کرتے تھے جب کہ دھماکے والے دن بھی ان کا خطاب ہونا تھا۔اس واقعے کے دو روز بعد کوئٹہ کے نواحی علاقے کلی گل محمد میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کر کے ایک افغان عالم دین محمد اعظم کو قتل کر دیا تھا۔ ملزمان واقعے کے بعد باآسانی فرار ہو گئے تھے۔


اس کے بعد دالبندین میں مہاجرین کے کیمپ میں ایک افغان عالم محمد عالم کو نامعلوم افراد نے قتل کیا تھا۔
لورالائی میں افغان کمانڈر ملا داد اللہ کے قریبی عزیز ملا محمد صادق کو اور اس کے چند روز بعد پاک افغان سرحد کے پاس چمن بازار کے قریب ایک افغان عالم محمد سرور کو نامعلوم افراد نے گولیوں کا نشانہ بنایا تھا۔


کوئٹہ کے سینئر پولیس افسر ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) عبد الرزاق چیمہ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ افغان علما کو نشانہ بنانے کی تحقیقات بعض خفیہ ادارے کر رہے ہیں۔
تحقیقات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ جب کوئی پیش رفت ہو گی تو خفیہ ادارے پولیس سے معلومات کا تبادلہ ضرور کریں گے۔ اب تک ان اداروں نے تحقیقات کے بارے میں پولیس کو آگاہ نہیں کیا۔پاکستان کے ایک اہم خفیہ ادارے کے افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ افغان طالبان کے بعض اہم رہنماﺅں اور علمائے کرام کو نشانہ بنانے کے واقعات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔


ان کے بقول ان کارروائیوں میں افغان خفیہ ادارے ‘این ڈی ایس’ کے کارندے ملوث ہوسکتے ہیں کیوں کہ ان کا مقصد پاکستان کے بارے میں افغان طالبان میں بدگمانی پیدا کرنا اور امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات ناکام بنانا ہے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں