بلوچستان یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے یونیورسٹی میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندی غیر آئینی و غیر قانونی عمل ہے۔ عقیل بلوچ

بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل لیاری کے چئیرمین عقیل بلوچ نے ایک بیان میں بلوچستان یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے یونیورسٹی کے اندر سیاسی سرگرمیوں پر پابندی کو غیر آئینی و غیر قانونی عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومتی ادارے دانستہ طور پر بلوچستان کے سیاسی جمود کو مزید ابتری کی جانب گامزن کرنے کی پالیسیوں کو تقویت دے رہے ہیں تاکہ بلوچستان کے طالب علم سیاسی طور پر غیر متحرک رہ کر ہمیشہ پسماندگی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوجائے۔

اس غیر آئینی اقدامات سے قبل بھی بلوچستان کے طالب علموں کو پریشان کرنے کے لئے مختلف حربے استعمال کئے گئے، ان تمام حربوں کا مقصد بلوچستان یونیورسٹی اسکینڈل کیس کو دبا کر اصل مسائل سے پردہ پوشی کرنا ہے اور طالب علموں کی توجہ اصل مسائل سے ہٹا کر سطحی مسئلوں میں الجھانا ہے۔

چئیرمین نے مذید کہا کہ یونیورسٹی اسکینڈل کو دبانے کے لئے وائس چانسلر کو برطرف کرنا، یونیورسٹی کے اندر کشمیر یکجہتی مارچ کا انعقاد کرنا، یونیفارم کی شرائط اور اب سیاسی سرگرمیوں پر پابندی سے واضح اور صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ ان تمام اعمال میں طاقتور اشخاص کا ہاتھ ہے جو نہیں چاہتے کہ بلوچستان کے طالب علم باشعور ہو کر ملکی ترقی میں خدمات سر انجام دے سکیں۔

چئیرمین نے بلوچستان کے تمام طالب علموں تنظیموں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ طالب علموں کو درپیش مسائل کے حل کیلئے یکجہتی کا مظاہرہ کریں تاکہ بلوچستان کے تعلیمی اداروں کی جو رونقیں ماند پڑھ گئی ہیں دوبارہ بحال ہو اور طالب علم اپنے تعلیمی کئیریر پر بہتر طریقے سے توجہ مرکوز رکھ سکیں

مزید خبریں اسی بارے میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں