بلوچ بچے کے اغوا میں ملوث پاکستان آرمی کے میجر کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز) بلوچ لاپتہ بچے کے والد سے تاوان وصول کرنے کے جرم میں پاکستان آرمی کے ایک حاضر سروس میجر کو عمر قید کی سزا سنادی گئیں۔

تفصیلات کے مطابق پاکستانی فوج کے ایک حاضر سروس میجر کو اپنے اختیارات کا ناجائز فاہدہ اٹھانے پر ملٹری کورٹ کی جانب سے عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے، جسے حراست میں لینے کے بعد جیل منتقل کردیا گیا ہے۔

مذکورہ میجر نے 2016 میں اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ایک بلوچ بچے کو نوشکی سے اغوا کیا اور بچے کے والدین سے 68 لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا۔ مجبور والدین نے بچے کی بازیابی کے لیے رقم کا بندوبست کرکے ادائیگی بھی کر دی لیکن بچہ پھر بھی گھر نہ پہنچ سکا۔

ذرائع کے مطابق میجر نے اغوا شدہ بچے کے والدین سے مزید 50 لاکھ روپے کا مطالبہ کر دیا، جس کے بعد بچے کے والدین نے کوئٹہ پریس کلب کے باہر احتجاج کیا تو معاملہ اُس وقت کے کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض تک پہنچا، جنہوں نے معاملے کی فوری تحقیقات کا حکم دے دیا۔

فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے بلوچ بچے کے اغوا میں ملوث میجر کو جرم ثابت ہونے پر ملازمت سے برخاست کرنے اور 25 سال قید کی سزا سُنائی تھی۔

عسکری ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سزا یافتہ میجر نے فیصلے کے خلاف ملٹری برانچ جی ایچ کیو میں اپیل دائر کی تھی، جہاں ملٹری برانچ نے معاملے پر نظرثانی کی اور فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے معاملہ آرمی چیف کو بھجوا دیا اور اب آرمی چیف نے سزا کی توثیق کر دی ہے۔

خیال رہے کہ بلوچستان بھر میں ایسے کیسز کی تعداد ہزاروں میں ہوگی جہاں پاکستان آرمی کے آفیسرز نے لوگوں کو اغوا کرنے کے بعد بھاری تاوان وصول کیا ہے، جبکہ بہت سے ایسے کیسز بھی رپورٹ ہوئے ہیں کہ پاکستان آرمی نے لوگوں کو اغوا کرنے کے بعد بھاری تاوان وصول کرنے کے باوجود بھی مذکورہ شخص کو دورانِ حراست شہید کردیا ہو۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں