بلوچ خواتین اب تک پاکستانی فورسز کی قید میں!

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز) بلوچستان کے علاقے کوئٹہ سے جبری طورپر لاپتہ خواتین کو تاحال رہا نہیں کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ دن بلوچستان کے علاقے ہزار گنجی سے ریاستی فورسز کے ہاتھوں جبری طورپر لاپتہ بگٹی قبیلے سے تعلق رکھنے والے چھ افراد جن میں تین خواتین اور بچے بھی شامل تھے کو تاحال ریاستی فورسز نے رہا نہیں کیا ہے۔

دوسری جانب سوشل میڈیا صارفین کی جانب بلوچ خواتین کی جبری گمشدگی کے خلاف شدید ردِ عمل کا اظہار کیا گیا ہے اور بلوچ خواتین کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیاجارہا ہے۔ سوشل میڈیا پر بلوچ خواتین کی رہائی کے لیے آگاہی مہم بھی چلائی جارہی ہے جس میں #StopAbductionOfWomenInBalochistan کے ہیش ٹیگ کو استعمال کیا جارہا ہے۔

خیال رہے کہ ریاستی فورسز نے گزشتہ دن بلوچستان کے علاقے ہزار گنجی سے سات سالہ امین ولد حاجی دوست علی بگٹی، حاجی دوست علی بگٹی ولد ملوک بگٹی عمر ساٹھ سال، فرید بگٹی عمر 80 سال، عزتوں بی بی بنت ملحہ بگٹی، مرادخاتوں بنت نزغو بگٹی اور مہناز بی بی بنت فرید بگٹی کو دورانِ سفر بس سے اتار کر حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا تھا جو تاحال لاپتہ ہے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں