بلوچ ریپبلکن پارٹی کی جانب سے شہید نواب اکبر خان بگٹی کی یاد میں سیمینار کا انعقاد، نواب براہمدغ بگٹی کا خطاب

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز) بلوچ ریپبلکن پارٹی کے مرکزی ترجمان شیر محمد بگٹی نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بی آر پی جرمنی چیپٹر کی جانب سے شہید نواب اکبر خان بگٹی کی 13 ویں بھرسی کے موقع پر جرمنی کے شہر فرنکفرٹ مین میں ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔

سیمینار سے بلوچ ریپبلکن پارٹی کے سربراہ نواب براہمدغ بگٹی، بی آر پی جرمنی چیپٹر کے صدر جواد بلوچ، بی آر ایس او کے رہنما صفیا ایازی، پاکستانی صحافی طحہ صدیقی، ڈاکٹر پرویز ہود بائی، سینیئر بلوچ زانتکار صدیق آزاد، انشل سخسینا، بلوچ نیشنل موومنٹ جرمنی زون کے جنرل سیکٹرٹری اصغر بلوچ، پشتون دانشور گران امیر، بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کے جنرل سیکرٹری عبداللہ عباس اور پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما صفدر خان نے خطاب کیا جبکہ بی آر پی جرمنی چیپٹر کے جنرل سیکرٹری محمد بلوچ نے تقریب کی میزبانی کیں۔

بلوچ ریپبلکن پارٹی جرمنی زون کے سیکرٹری جنرل محمد بلوچ نے پروگرام کا افتتاح شہیدوں کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی سے کیا۔ محمد بلوچ نے پروگرام کے افتتاح میں شہید نواب اکبر خان بگٹی کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن وہ دن ہے جب ریاستِ پاکستان نے ایک 80 سالہ بررگ کو شہید کردیا، ہم ایک ایسے طاقت کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں بہت طاقتور ہے ، متحد و یک مشت ہوکر ہم اسے شکست دیتے ہوئے اپنی سرزمین کا دفاع کرسکتے ہیں۔

آج ہم ایک ایسے لیجنڈ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے یکجاہ ہوئے ہیں جس نے بلوچ قومی بقا، بلوچ ننگ و ناموس اور وطن کی دفاع میں جامِ شہادت نوش کرتے ہوئے ہمیں قومی احساس بیدار کیا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ایسا کوئی دن نہیں گزرتا جب کسی گھر سے کوئی لاپتہ نا ہوتا ہو یا کسی کی لاش نا ملتی ہو، بلوچستان میں روز ماتم کا سما ہے اور ان مظالم کو اجاگر کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے رہے ہیں۔

بلوچ ریپبلکن پارٹی کے صدر اور آزادی پسند رہنما نواب براہمدغ بگٹی نے تقریب سے بذریعہ اسکائپ خطاب کرتے ہوئے تقریب کے تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا اور شہید نواب اکبر خان بگٹی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

نواب براہمدغ بگٹی نے کہا کہ آج کے دن ہمارےقائد نواب اکبر خان بگٹی کی قربانی اسکی جدوجہد اور سکے ساتھیوں کی قربانیوں کو سمجھنے کا دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب میں چھوٹا تھا میرے والد فوت ہوگئے تھے تب سے میری پرورش نواب صاحب نے کیا۔انکی جدوجہد میرے الفاظ کا محتاج نہیں انکی جدوجہد سے پوری قوم واقف ہے

انہوں نے کہا کہ ہر انسان میں اچھائی اور خرابی ہوتی ہے اسی طرح مجھ میں بھی اچھائی اور خرابی ہونگے لیکن مجھ میں جو اچھائیاں ہیں وہ شہید نواب اکبر خان بگٹی کی بدولت ہیں۔ آج کے دن ہر سال ہم یکجاہ ہوکر شہید کو یاد کرتے ہیں اس سے ہمارا قومی جزبہ مزید تازہ ہوتا ہے۔تاریخ گواہ کہ آج بلوچستان میں جو بلوچ قربانیاں دے رہے ہیں یہ ایک تسلسل ہے جسے دبانے یا ختم کرنے میں پاکستان ناکام ہے۔ ہمارے شہیدوں کی قربانیوں کی بدولت آج بلوچ قومی تحریک جاری ہے۔

نواب براہمدغ بگٹی نے کہا کہ آج کے دن ہم سوگ اور غم نہیں مناتے بلکہ خوشی مناتے ہیں، ہر بلوچ جو بلوچستان یا بیرون ملک ہیں یا مہاجر کی زندگی گزار رہے ہیں فخر محسوس کرتے ہیں کہ ان کے لیڈر نواب اکبر خان بگٹی نے اپنی جدوجہد کو اپنے خون سے ثابت کیا۔

بلوچ ریپبلکن پارٹی جرمنی چیپٹر کے صدر جواد بلوچ نے سیمینار کے شرکا اور اسپیکرز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم سب یہاں شہید نواب اکبر خان بگٹی کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے اکھٹے ہوئے ہیں، جس نے بلوچستان کے پہاڑوں میں بلوچ وطن کی دفاع کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیں۔

پاکستانی صحافی طحہ صدیق نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کی خاموشی اور میڈیا بلیک آوٹ پر میں نے ایک مضمون لکھا تھا جسے لکھتے وقت میں نے بلوچستان میں بہت سے صحافیوں سے بات چیت کیا، جنہوں نے مجھے کہا کہ آزادی پسندوں کے بارے میں لکھنے پر مکمل پابندی ہے، مذہبی معاملات پر بات کرنا بھی منع ہےاور دیگر حساس معاملات پر لکھنے پر بھی ریاستی اداروں کی جانب سے منع کیا گیاہے۔

گوادر میں ماہی گیروں کو انکے حق سےمحروم کیا جارہا ہے جسے پاکستانی میڈیا میں بالکل جگہ نہیں دی جاتی،جب بات بلوچستان کی آتی ہے تو وہاں آرمی کی حکومت ہے جو چینی سرمایہ کاری کے تحفظ کے لیے حکومت کے خلاف کبھی لکھنے کی اجازت نہیں دیتے، جبکہ بلوچستان میں افغان ملی ٹینسی بھی ہے جس پر کبھی بات نہیں کی جاتی کیوں آرمی نہیں کرنے دیتا۔

بلوچستان میں پاکستانی عسکری ادارے مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں، لشکرِ جھنگوی ، لشکرِ طیبہ جیسے تنطیموں کو بلوچستان بھر میں پھیلا دیا گیاہے جس پر پاکستانی میڈیا کبھی بات نہیں کرتا کیونکه پاکستان آرمی کی جانب سے اجازت نہیں دی جاتی۔

بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتِ حال پر بھی پاکستانی میڈیا میں بات نہیں ہوتی، ہزاروں بلوچوں کے ڈوکیومینٹڈ کیسز ہیں لیکن پھر بھی ان پر تبصرہ نہیں کیاجاتا، کبھی کبھی ایک دو لاپتہ افراد پر بات ہوجاتی ہے۔ لاپتہ افراد کا مسئلہ مکمل طورپر سنسر ہے جس پر بات کرنے کی بالکل اجازت نہیں ہے۔

جبکہ پاکستان کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال پر چیختا ہے لیکن ملک میں انسانی حقوق کی سنگین صورتِ حال پر پاکستانی میڈیا کو کوریج نا دینے پر مکمل طورپر پابند کیا گیا ہے۔

مجھے ایک صحافی نے بتایا کہ وہ سی پیک پر کام کر رہا ہے جسے حراساں کیا گیا اور اس مسئلہ پر نا لکھنے کی دھمکیاں دی گئیں بہت سے صحافیوں کو آواز اٹھانے پر اغوا کیا جاتا ہے۔ جبکہ صوبے میں منشیات پر بھی لکھنے کی پابندی ہے منشیات کی اسمگلنگ پر بھی سنسرشپ کا سامنا ہے۔ اور لینڈ مافیا کے خلاف بولنے پر پاکستانی عسکری اداروں نے صحافیوں کو منع کر رکھا ہے ، ڈیٹھ اسکواڈز جو دہشتگردی میں ملوث ہیں اور بلوچ آزادی پسندوں کو اغوا اور قتل میں ملوث ہیں جن میں شفیق مینگل شامل ہے جو ایک ڈیتھ اسکواڈ چلا رہا ہے جسے پاکستانی عسکری اداروں کی مدد حاصل ہے جو صوبے میں میڈیا سے وابستہ صحافیوں کو دھمکانے ، اغوا اور قتل میں ملوث ہے۔

بلوچستان کے اخبارات کو پاکستان کی جانب سے اشہارات دینا بند کردیا گیا ہے تاکہ وہ اپنی موت مرجائیں اور بلوچستان کے مسائل کو اجاگر ہونے سے روکا جاسکے۔ حکومتیں آتی اور جاتی ہیں لیکن ملک قائم رہتا ہے ادارے قائم رہتے ہیں ، اداروں کو میڈیا کی سنسرشپ ختم کردینی چایئے خاص طورپر بلوچستان میں میڈیا بلیک آوٹ کو ختم ہوجانا چاہیے۔

پاکستان بھر میں صحافیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں، عسکری اداروں کے بتائے ہوئے داہرہ کار سے باہر بات کرنے پر صحافیوں کو اغوا و قتل کیا جاتا ہے، پاکستانی فوج کے تعلقات عا مہ آئی ایس پی آر کی جانب سے صحافیوں کو ہدایات جاری کیے جاتے ہیں جبکہ فوج کی جانب سے پروپیگنڈہ کے لیے باقاعدہ میڈیا ادارے چلائے جارہے ہیں۔

بلوچ ریپبلکن پارٹی جرمنی چیپٹر کے کارکن دلمراد بلوچ کے فرزند کمسن علی بلوچ نے جرمن زبان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے ماں باپ کے ہمراہ 2016 میں جرمنی آیا تھا، کیونکہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال بہت خراب ہے۔ شہید نواب اکبر خان بگٹی کو اس لیے شہید کیا گیا کیونکہ انہوں نے بلوچ قوم پر ہونےو الے مظالم کے خلا ف آواز اٹھایا، وہ بلوچوں کا رہنما تھا۔بلوچستان میں زندگی کے سہولیات نا ہونے کے برابر ہے جس کے خلاف شہید نے آواز بلند کیں۔کمسن علی بلوچ نے اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کے دیگر اداروں سے درخواست کیں کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکھیں۔

بلوچ ریپبلکن اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن جرمنی چیپٹر کے رہنما صفیا ایازی نے شہید نواب اکبر خان بگٹی کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا اور انکی زندگی کے چند پہلوں اور تاریخی واقعات پر روشنی ڈالی۔

بلوچ زانتکار صدیق آزاد نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب ہم دنیا کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں پتا چلتا ہے لیڈر قوموں کو خوشحالی کی طرف لیجانے کا زریعہ ہوتے ہیں۔ جب بات بلوچستان کی ہو تو شاہ شہیداں نواب اکبر خان بگٹی کے بغیر تاریخ ادھوری رہہ جاتی ہے، شہید نواب اکبر خان بگٹی نے جو قربانی دی ایسی مثالیں ہمیں صرف کتابوں میں ملتیں تھیں لیکن شہید اکبر خان کی عظیم قربانی کو ہم سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہید کا فلسفہ مظلوم قوموں کے لیے مشعل راہ ہے، جب پنجابی فوج نے ڈیرہ بگٹی پر بمباری کیں تو بلوچوں نے آواز اٹھائی، احتجاج کیا، مظاہرے کیے، تو نواب صاحب نے کہا کہ یہ ریاست پرامن مظاہروں کی زبان نہیں سمجھتا۔ 26 اگست میں جب پنجابی فوج نے نواب صاحب پر بمباری کرتے ہوئے انہیں شہید کیا تو پورے بلوچستان میں آگ لگ گئیں۔آج بھی بلوچستان بھر میں بلوچوں کی آزادی کی تحریک جاری ہے لیکن آج بھی چند بلوچ پنجابی کے ساتھ کھڑے ہیں، شہید اکبر خان بگٹی کے خون سے دھوکہ کرنے قومی غداری ہے۔ بلوچستان شہیدوں کی سرزمین ہے، شہید نواب صاحب نے اپنی خون سے نئی تاریخ رقم کردی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں بہت مرتبہ شہید نواب اکبر خان بگٹی سے ملاقات کر چکا ہوں۔ میں انکی کچھ یادریں آپ لوگوں کے سامنے شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ 1962 میں بلوچستان میں صرف ایک کالج تھا جہاں میں بھی زیرِ تعلیم تھا ان دنوں بلوچ وانندہ گل نامی طلبا تنظم کافی متحرک تھیں جسکا میں جنرل سیکرٹری تھا۔ ان دنوں ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا تھا جسکی زمہ داریاں بلوچ وانندہ گل کو سونپی گئ تھیں، اس پروگرام شہید نواب صاحب نے بھی شرکت کیا۔ اس پروگرام یہ حکمت عملی ترتیب دینی تھیں کہ پاکستانی اسمبلیوں میں بلوچوں کے حقوق کی صدا کیسے بلند کرنی ہے، اس پراگرام کے دوسرے دن نواب صاحب مجھے اپنے پاس بلوایا اور میں انکے پاس گیا جہاں انہوں نے مجھے پنجابی سامراج کے منصبوں اور چالوں کے بارے میں آگاہ کیا۔

بلوچستان میں بہت سے سرداروں نے اپنی دولت اور سرداری کی تحفظ کے لیے پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور آج بھی ایسے لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں۔

میر قادر بخش زہری اور بنی بخش زہری بلوچستان کے نامور سردار تھے جنیں ماربل کنگ کہا جاتا تھا، نا صرف بلوچستان بلکہ انکا کاروبار اٹلی تک پھیلا ہوا تھا۔انہوں نے اپنی دولت کو محفوظ رکھنے کے لیے پاکستانی اداروں کا ساتھ دیا۔

انہوں نے کہا کہ اُس وقت بھی بلوچوں کے لیے آواز اٹھانے والوں کو جھوٹے مقدمات درج کرتے ہوئے انہیں زندانوں میں بند کیا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں کاروان اخبار کا ایڈیٹر تھا میں نے حقیقت پر مبنی بلوچستان کی محرومیوں پر ایک مضمون لکھتے ہوئے اخبار پر شائع کیاجس کے بدلے پاکستانی اداروں نے اخبار کو بند کردیا۔ تو شہید نواب صاحب نے مجھے بلایا اور کہا کہ اپنا مضمون پرھو، میں نے وہ مضمون پڑھا اور نواب صاحب کو بہت پسند آیا۔میں نے اپنی گریجویشن ختم کرنے کے بعد کراچی گیا جہاں ایک ماہنامہ لانچ کیاجس پر سرکار ناخوش تھامیرے لیے تمام رائیں بند کردی گئیں، میرے پاس دو راستے تھے یا میرے گرفتاری دے دیتا یا ملک چھوڑ دیتا، یہ سلسلہ چلتا رہا اور میں ملک سے نکل گیا اور بغداد پہنچ گیا۔ جہاں ایرانی شاہ اور بھٹو کے خلاف ہم نے آواز بلند کرنے کے لیے احوضی عربوں اور کردوں کے ساتھ مل کر ایک اخبار لانچ کیا۔اور اس اخبار کے زریعے ہم نے مظالم کو اجاگر کیا۔

بلوچ نیشنل موومنٹ جرمنی زون کے جنرل سیکرٹری اصغر بلوچ نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا بلوچستان انتہائی گمبیر صورت حال سے دوچار ہے اور پشتون بھی اسی صورت حال سے دوچار ہیں ہم سوچتے تھے کہ صرف بلوچوں کے ساتھ یہ ظلم ہورہا ہے لیکن ہم نے دیکھا کہ سندھی اور پشتونوں کے ساتھ بھی ظلم ہورہا ہے انہیں بھی جبری گمشدگیوں کا سامنا ہے۔

 تقریب سے پاکستانی انسانی حقوق کے کارکن اور سائنسدان پرویز ہود بھائی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں پاکستان میں رہتا ہوں اور وہی کام کرتا ہوں، یہاں کی موجودہ صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے مجھے بہت پریشانی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں مکمل میڈیا بلک آوٹ ہےبلوچوں کے حقوق سلب کیے جارہے ہیں، لوگوں کو انکے جائز حقوق سے محروم رکھا جارہا ہے،حالانکہ بلوچستان قدرتی دولت سے مالامال خطہ ہے لیکن بلوچوں کے وسائل پر انکا اختیار قبول نہیں کیا جارہا جو انکا بنیادی حق ہے۔ پنجاب بلوچستان کے وسائل کو لے جاتا ہے جس پر بلوچوں میں غصہ پایا جاتا ہے، ہر کوئی انصاف چاہتا ہےاور ہر کوئی اپنے وسائل پر اپنا اختیار چاہتا ہے جو سب کا بنیادی حق ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کوطاقت کے زور پر پاکستان کا حصہ بنایا گیا اس تاریخی حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج بلوچستان پاکستان کا ایک صوبہ ہے اور آنے والے وقتوں میں پاکستان کے ساتھ رہے گا یا نہیں یہ آنے والا وقت ہی ثابت کریگا۔ انہوں نے کہا کہ دو قومی نظریہ ایک دھوکہ تھا ایک جھوٹ تھا جسے مشرفی پاکستانی نے ثابت کردیا ہے، انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں آزادیِ فکر اور آزادی رائے کو بہال ہونا چایئے۔

تقریب سے بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کے سیکرٹری جنرل عبداللہ عباس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب کو پتا ہے کہ بلوچستان میں کیا صورت حال ہے، بلوچستان میڈیا کے لیے ایک بلیک ہول ہے، جہاں بین الاقوامی صحافیوں کے داخلے پر پابندی ہے۔بلوچستان میں اس وقت تاریخ کی بدترین انسانی حقوق کی صورت حال ہے۔ بلوچستان کے قدرتی معدنیات اور قومی دولت کو لوٹا جارہا ہے، بلوچستان قدرتی دولت سے مالامال خطہ ہے لیکن وہاں کے باسی غربت کی لکھیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں میڈیا پر مکمل پابندی ہے پاکستانی میڈیا صرف چین پاکستان اکنامک کوریڈور سے منسلک منصوبوں کو ہی کوریج دیتی ہے اور بلوچ قومی رہنماوں کے خلاف پاکستانی میڈیا کو بطورِ ٹول پروپیگنڈہ ٹول استعمال کیاجارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مارچ 2005 کو فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کے حکم پر ڈیرہ بگٹی میں بمباری کی گئی جس میں بڑی تعداد میں لوگ شہید ہوئے تھے جن میں بچے ، عورتین اور بزرگ بھی شامل تھے۔اس کے بعد 26اگست 2006 کو شہید نواب اکبر خان بگٹی پر حملہ کرتے ہوئے انہیں شہید کیا گیاجس کے بعد سے بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورت حال انتہائی خراب ہوئیں۔

  بلوچستان میں بلوچ رہنماوں کا اغوا اور قتل عام شروع کیا گیا، 2009 میں غلام محمد، شیر محمد اور لالا منیر کو اغوا بعد شہید کیا گیا جس کے بعد بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ شروع ہو ا جو آج تک جاری ہے۔ بلوچستان میں ڈیتھ اسکواڈ کو مکمل طورپر آزادی دی گئی ہے کہ وہ منشیات کی اسمگلنگ کریں اور زمینوں پر قبضہ کریں یا دیگر جرائم کا ارتکاب کریں جس کے بدلے وہ بلوچ انسانی حقوق کے کارکنان، صحافیوں اور بلوچ کارکنان کو اغوا بعد فورسز کے حوالے کرتے ہیں۔

 بلوچستان میں اجتماعی قبریں بھی دریافت ہوئیں ہیں، جن میں پائے گئے لوگوں کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی ہے کیونکہ حکومت کی جانب سے ایسا نہیں کرنے دیا جاتا۔ گزشتہ کچھ عرسے کلیکٹو پنشمنٹ بھی شروع کیا گیا ہے جس میں ان کارکنان کے رشتہ داروں کو نشانہ بناجارہا ہے جو بیرون ملک مقیم ہوں یا پاکستانی اداوروں کی پہنچ سے دور ہوں۔

 بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں اور جبری گمشدگیوں کے خلاف اقوام متحدہ ایک کمیٹی تشکیل دیں اور انہیں روکھنے کےلیے اپنا کردار ادا کریں۔

  بھارتی سوشل میڈیا ایکٹی ویسٹ انشل سک سینا نے ہندوستان سے بذریعہ اسکائپ خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں رہنا خود ایک جدوجہد ہے، پاکستان میں ہندو کیسے زندگی گزار رہے ہیں سب کو معلوم ہے، حال ہی میں خبر آئی تھیں کہ چالیس سے زیادہ ہندو لڑکیوں کو اغوا کیا گیا جس پر حکومت اور ریاستی ادارے مکمل خاموش رہے جس سے اندازہ ہوتا ہے اس سب میں پاکستانی ادارے خود ملوث ہیں۔

 پاکستان ہمیں انسانی حقوق پر لیکچر دیتا ہے، ہندوستان میں ہر سال ہزاروں پاکستانی ہندو اس لیے آتے ہیں کہ انہیں ہندوستانی قومیت مل جائے۔ لیکن کبھی کوئی ہندوستانی پاکستان نہیں گیا۔ پاکستان میں عیسائی لڑکیوں کو چینی باشندوں کے پاس فروخت کیاجارہا ہے۔ پاکستان بھر میں اقلیتوں کے خلاف شدید خراب صورتِ حال ہے۔ جبکہ اب سکھ باشندوں کو ہندوستان کے خلاف بڑکانے کی کوشش کی جارہی ہے ہندوستان کے خلاف لیکن پاکستان اس میں بھری طرح ناکام ہے۔ لیکن بلوچستان میں ایک جگہ ہےجہاں ہندلاج مندر ہے جس میں ہندو مکمل محفوظ ہیں کیونکہ وہ بلوچستان کا علاقہ ہے جبکہ پاکستان کے دیگر علاقوں میں ہندوں کے ساتھ ناروا سلوک جاری ہے۔ بلوچستان  کے بعد اب پشتون اور سندھی بھی اپنے آزادی کا مطالبہ کر رہے ہیں کیونکہ ان کے ساتھ ظلم کیا جارہا ہے۔ جبکہ بلوچ اُس وقت سے ظلم سہہ رہے ہیں جب سے بلوچستان پر قبضہ کیا گیا۔  بلوچستان قدرتی دولت سے مالامال ہے لیکن پھر بھی بلوچستان سب سے پسماندہ علاقہ ہے۔

 پشتون کارکن گرام امیرن نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے سیمینار میں حصہ لیتے ہوئے میں خوشی محسوس کر رہاہوں، بلوچستان ریاستِ پاکستان کے قیام سے قبل ایک آزاد ریاست تھا جسے قیامِ پاکستان کے بعد پاکستانی آرمی نے بزورِ طاقت قبضہ کیا۔ جیسے بنگلہ دیش میں مظالم ڈھائے گئے اسی طرح بلوچستان میں بھی مظالم جاری ہیں، جہاں لوگوں کو اغوا اور قتل کیا جاتا ہے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔

 بلوچوں کے خلاف اس جنگ میں اب تک ہزاروں عورتوں، بوڑھوں اور بزرگوں اور نوجوانوں کو درپدر کیاجاچکا ہے جبکہ بڑی تعداد میں بلوچ سیاسی کارکان، صحافی، طلبا کو اغوا و شہید کیا جاچکا ہے۔ جبکہ ریاست کی ان مظالم کو ایمنسٹی انٹر نیشنل ، ہیومن رائٹس واچ اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ میں آزادی کی اس جدوجہد میں بلوچوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔

  جبکہ پشتون سرزمین بھی  اسی صورت حال سے دوچار ہے، ہم سوچتے تھے کہ یہ مظالم صرف بلوچوں کے ساتھ ہے لیکن ہم نے دیکھا سندھی اور پشتونوں کے ساتھ  بھی ؒظلم ہورہاہے انہیں بھی جبری گمشدگیوں کا سامنا ہے۔ ہم کیوں ایک دوسرے کے بارے میں نہیں جانتے، کیوں ایک دوسرے پر ہونے والے مظالم پر آگاہ نہیں ہیں، کیونکہ پاکستانی میڈیا ان مسائل کو اجاگر نہیں کرتا۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما صفدر خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ  کا اگر مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بلوچی زبان ارین زبان سے ہے ہمارا تعلق بلوچوں کے ساتھ گزشتہ سات ہزار سالوں سے ہے ہم ایک ساتھ رہے ہیں ۔ میں پاکستان کے وجود سے انکاری ہوں، پاکستان ایک مصنوعی ملک ہے، برطانیہ نے 1946 میں کہا کہ پشتونوں نے پاکستان کے حق میں  ووٹ دیا جو تاریخ کا سیاہ جھوٹ ہے۔ ہمارے پاس حق ہے پنجابستان سے اپنی آزادی لینے کا، ہم جمہوری اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے اپنی آزادی کو یقینی بنائیں گے۔

 ہم ایک ساتھ متحد ہوکر اس جدوجہد کو کامیاب بنائیں گے اور اپنی آزادی حاصل کریں گے۔ افغانستان میں طالبان نہیں بلکہ ٹرین پاکستانی آرمی کے اہلکار دھماکہ کرتے ہیں پاکستان آرمی ایک پروفیشنل کلر آرمی ہے۔  جو پشتون پاکستان آرمی میں ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں غدار ہیں جو پنجاب کی ایما پر لوگوں کے قتل عام میں ملوث ہیں۔  آج ہم سب شہید نواب اکبر خان بگٹی کو خراجِ عقیدت پیش کرنے موجود ہیں، میں شہید کو سرخ سلام یش کرتا ہوں۔ بلوچستان اس وقت حالتِ جنگ میں  ہے جہاں لوگوں کو لاپتہ اور شہید کیاتا جاتا ہے۔

بی آر پی جرمنی چیپٹر کے سابق صدر اشرف شیر جان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سکرین پر جو شہید نواب اکبر خان بگٹی کی تصاویر ہم دیکھ رہے ہیں کیا اسے کسی مال و دولت کی کمیتھیں اگر وہ چاہتا اپنے خاندان کے ہمراہ بیرون ملک چلا جاتا اور آرامدہ زندگی گزارتا۔ حالانکہ بہت سے لوگوں نے انہیں مشورہ دیا کہ ملک چھوڑ کر کہی چلے جائیں لیکن وہ ہمیشہ کہتا تھا کہ میں اس غلام کی غلامی کو کبھی قبول نہیں کرونگا۔ وہ کہتے تھے کہ جب تک میری ہڑیوں میں زور ہے میں اسکے سامنے کھڑا رہونگا اور اپنی قومی جدوجہد جاری رکھونگا۔ جب دشمن قریب آتا رہا شہید نواب اکبر خان کے وسائل میں کمی آتھیں گئیں تو شہید کے ساتھیوں نے نواب صاحب سے کہا کہ آپ چلے جائیں ہمارے وسائل ختم ہونے والے ہیں دشمن قریب آرہا ہے، تو شہید نے ساتھیوں سے کہا کہ تم لوگ چلے جاو میں خود ان کو دیکھ لونگا۔ 

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں