بلوچ سیاست کے مینار: تحریر واجہ خورشید نگوری

کوئٹہ/مضمون (ریپبلکن نیوز) وقت و حالات اور تاریخ کا جبر و ستم ظریفی کہیں یا خود بلوچوں کی ناقص کارکردگی بلوچستان جو کھبی اس خطے کے عظیم مملکتوں  میں شمار ھوتی تھی جن کی ایک جداگانہ آزاد حیثیت اور پہچان رہی ھے آج تین حصوں میں تقسیم پاکستانی ایرانی اور افغانی بلوچستان کہلاتے ہیں اور بلوچوں کی جو صورتحال بنی ہے وہ بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ یہ وہ خطہ زمین ھے نہ صرف اپنی جغرافیاٸی محل وقوع طویل ساحل اور بیش بہا قدرتی وساٸل کے بدولت مشہور ھے بلکہ اس پاک مٹی نے زندگی کے ہر شعبوں میں بڑے نامور و قدآور انسانوں کو بھی جنم  دیا ھے  جنہوں نے ماضی میں گھوڑوں کے ٹاپوں اور تلواروں کی جھنکار میں جوانمردی اور بہادری کے جوہر دکھاۓ اور وہ کردار نبھاۓ جو نہ صرف بلوچوں کیلۓ باعث فخر ھے بلکہ دنیا کیلۓ بھی  بہترین مثال بن چکے ہیں اور آج تاریخ کے سنہرے صفوں میں شامل ہم اس پر فخر کرسکتے ہیں تاریخ بھی ہمیں یہ  بتاتی ھے کہ یہ وہ عظیم لوگ ہیں جو کھبی نہیں مرتے بلکہ ہمیشہ زندہ رہنے والے ابدمان انسان ھوتے ہیں     ۔ دنیا کی تیز رفتاری اور مسلہ مساٸل اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ انسان ان ہی الجھنوں کے شکار کچھ یاد ہی نہیں رہتا آج جب کسی مہربان دوست نے فون کرکے بتایا کہ کل 26 اگست ھے نواب اکبر خان بگٹی کی یوم شہادت یہ سنتے ہی میری ذہن ماضی کے بھولے یادوں کے دریچے کھولتے اور چھیرتے ہوئے  بھول بھلیوں میں گردش و سفر کرتے ہوۓ مجھے 1986..87 کے اس دن ومقام پر پہنچا دیۓ جب میں اپنے ایک محترم دوست مرحوم چاکر خان بلوچ کے ساتھ نواب شہید سے ملاقات کرنے گۓ تھے ۔ ان کی وہ تمام عالمانہ و فلسفیانہ باتیں آج بھی میرے کانوں میں گھونج رہے ہیں ۔نواب اکبر خان بگٹی شہید کون تھے آیا وہ محض ایک قباٸلی نواب تھے اس بارے میں دوچار بے ربط سطریں ان کے حضور بطور عقیدت پیش کرنے کی جسارت کروں اس اعتراف کے ساتھ حق تو یہ ھے حق ادا نہ ھوا۔

نواب اکبر خان بگٹی شہید کا اصل نام شہباز خان بگٹی ہے نواب محراب خان بگٹی کے گھر جنم لینے والے شہباز خان بگٹی کے دو بھاٸی بھی تھے ایک ان سے بڑا میر عبدالرحمان بگٹی جبکہ دوسرا میر احمد نواز بگٹی کے نام سے مشہور رہے ہیں اور وہ دونوں بھی عظیم انسان دونوں کا بلوچ سیاست و سیاسی جدوجہد میں بڑا کردار رھا ہے ۔ میر عبدالرحمان بگٹی سابقہ قلات اسٹیٹ نشنل پارٹی سے منسلک رہے مرحوم بزنجو میر گل خان نصیر میر عبدالعزیز کرد ملک فیض محمد یوسف زٸی بابو عبدالکریم شورش حسین عنقا ودیگر اکابرین کے ساتھی بیلی رہے اور ان کے ساتھ جدوجہد کرتے رہے ۔ اسی طرح میر احمد نواز بگٹی نشنل عوامی پارٹی نیپ کے پلیٹ فارم سے جدوجہد کرتے رہے ہراول دستے کا کردار نبھایا اور آخر تک میر بزنجو مرحوم کے ساتھ و شان بشانہ رہے ۔  

نواب بگٹی شہید پاکستان کے ناٸب وزیر دفاع بھی رہے ۔باقاعدہ سیاست کی آغاز 1957.58 میں کی ۔1962 سے لیکر 1970 تک نشنل عوامی پارٹی کا حمایتی و ہمدرد اور اس کے ساتھ رہے ۔1970 کے الیکشن میں نشنل عوامی پارٹی کی جیت میں ان کلیدی کردار رہا مگر شومی قسمت بلوچستان میں حکومت سازی کے دوران اپنے سیاسی دوستوں سے خفا ھوکر نہ صرف ان سے علیدگی اختیار کی بلکہ ان کے سامنے ڈٹ گئے جس کے سبب  بلوچستان میں قاٸم نیپ حکومت برخاست ھونے کے ساتھ بلوچ و بلوچستان کو زبردست نقصان پہنچا ۔ نواب شہید بلوچستان کے گورنر اور وزیر اعلٰی بھی رہے ۔ مجھے یاد ھے 1986.87 میں پاکستان نشنل پارٹی کی کنونشن ہورہی تھی اسی دوران نواب صاحب نے مرحوم بزنجو کو پیغام بیجھا اگر آپ چاہیں میں اپنے پارٹی جمہوری وطن پارٹی کو پاکستان نشنل پارٹی میں ضم کرنے کیلۓ تیار ھوں اس کے باوجود یہ انضمام نہ ھوسکا ۔

1988 کے الیکشن میں نواب صاحب نے سردار عطااللہ مینگل اور بی ایس او سے فارغ نوجوانوں کے قاٸم کردہ بی این واٸی این کے ساتھ مل کر بلوچستان نشنل الاٸنس قاٸم کرکے  1988 کے الیکشن میں حصہ لیا اور سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرکے بلوچستان میں صوباٸی حکومت تشکیل دی جس میں وہ وزیراعلٰی منتخب ہوئے  تقریباً 18 ماہ تک یہ حکومت برقرار و قاٸم رہی لیکن اسی حکومت کے دوران بی این اے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر اس میں شامل پارٹیاں الگ الگ راستوں پر چل پڑے اور اس ٹوٹ پھوٹ کی ذمہ دار سردار عطااللہ مینگل قرار پاۓ۔

1990 کے الیکشن میں ہر ایک جماعت بشمول جمہوری وطن پارٹی نے جداگانہ حصہ لیا مگر خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کرسکے ۔پاکستان نشنل پارٹی جو میر صاحب کے وفات کے بعد انتشار کا شکار رہا 1990 کے الیکشن میں توڑی بہت کامیابی کے ساتھ ابھر کر سامنے آٸی اور بلوچستان میں قاٸم صوباٸی حکومت میں شامل ہوا ۔

1997 میں سردار عطااللہ مینگل نے جلاوطنی ختم کرکے بلوچستان کی سیاست میں بھرپور حصہ لیا پی این پی اور بی این ایم کے اپنے دھڑے کا انضمام کرکے بلوچستان نشنل پارٹی کی بنیاد ڈالی اور اسی سال منقعدہ ھونے والے الیکشن میں حصہ لے کر بی این پی سب سے بڑے پارلیمانی پارٹی بن کر ابھرا لیکن چونکہ حکومت سازی کیلۓ ان کے پاس اکثریت نہیں تھی تو لہذا ان کیلۓ حکومت قاٸم کرنا ممکن نہ تھا اسی کمی کو پورا کرنے کیلۓ نواب سے رجوع کیا گیا اور یہ طے پایا کہ مخلوط حکومت قاٸم ھوگی جس میں نواب شہید کی جماعت جمعیت اور بی این پی مل کر حکومت تشکیل دیں گے اور یہ معاہدہ کیا گیا کہ پہلے ڈھاٸ سال بی این پی بطور وزیر اعلٰی اس حکومت کی سربراہی کرے گی اس کے بعد باقی ماندہ ڈھاٸ سال  نواب صاحب کی پارٹی اس حکومت کی سربراہی کریں گے مگر ہم نے دیکھا ڈھاٸ سال گزرنے کے بعد سردار صاحب نہ صرف اپنے وعدے سے مکر گۓ بلکہ کلپر بگٹیوں کے مسلے کو ایشو بناکر نواب صاحب سے الجھ گۓ اور ان کی پارٹی کو حکومت سے برخاست کیا گیا ۔جس کے سبب ایک بار پھر بلوچ سیاست دانوں میں رسہ کشی کا ایک سلسلہ چل نکلا ۔ بلوچ سیاست دان ایک دوسرے کے قریب آنے کی بجاۓ ایک دوسرے سے نبرد آزما ہوۓ مجھے یاد ہے اسی دوران سردار اختر مینگل نے اخباری نماٸیندوں سے  بات چیت کرتے ہوۓ ایک سوال کے جواب میں کہا ہم نے کمبل کو چھوڑا ھے مگر کمبل ہمیں نہیں چھوڑتا ۔اس کے جواب میں نواب بگٹی شہید نے پریس کانفرنس کرکے کہا اب جب بات اس مقام تک پہنچی ھے تو ہمارا مقصد اور پوری طاقت اب اس حکومت کو رخصت کرنے کیلۓ ھوگی ۔

جنرل مشرف کے مارشل لا دور میں دیگر بے شمار قومی مساٸل کے ساتھ اہم ترین مسلہ گوادر   کو وفاق کے کنٹرول میں لانے اور چین کے ساتھ سی پیک کے نام پر پاکستان اور چین کے درمیان معاہدات بنے جو آگے چل کر اس وقت تصادم کی شکل اختیار کر گۓ جب سیوی میں ایک لیڈی ڈاکٹر جو بلوچستان میں خدمات سر انجام دے رہی تھی کو ایک فوجی افسر نے بے عزت کرکے طرح طرح کے الزامات لگانے کا سلسلہ شروع ھوا۔ اس مسلہ نے جلتی پر تیل   کا کام کرکے ایک خونی جنگ کی ابتدا ہوٸ کیونکہ  ملک کے آرمی چیف اس جرم کے مرتکب مجرم کی نہ صرف پشت پناہی کرتے رہے بلکہ کھلم کھلا ان کی حمایت اور بلوچ عوام پر طر ح طرح الزامات لگاتے رہے  نواب صاحب ایک بلوچ اور بلوچ روایات کے امین اس جرم کو نہ صرف ایک بڑا جرم سمجھتے تھے بلکہ بلوچ روایات کے خلاف اپنے میار یا باھوٹ کی بے عزتی  اور اپنے روایات میں مداخلت اور ان روایات کو  بچانے کی جدوجہد کرتے رہے جس کے متعلق بلوچوں کی ایک تاریخ رہی ھے آخرکار اسی مسلے اور دیگر قومی مساٸل نے آہستہ آہستہ تصادم کی شکل اختیار کی پاکستانی حاکموں کو  ماضی کی طرح ایک اور  جنگ بلوچوں پر مسلط کرنا مقصود تھا اس صورتحال میں  ایک بہادر عظیم بلوچ  رہنما  کیلۓ اپنے موقف سے ہٹنا ناممکن بات ھوتی ھے لہذا حکمرانوں نے نواب صاحب کو شہید کرکے رسواٸ کی داغ ہمیشہ کیلۓ اپنے پیشانی پر لگا دیۓ اور نواب شہید اپنے عظیم روایات کو زندہ رکھتے ھوۓ عظمت کے بلندیوں پر پہنچ کر دنیا کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوۓ کہ بلوچ ایک عظیم و زندہ قوم ھے اور یہ وہ اعزاز اور مقام ھے جو بہت کم لوگوں کو نصیب ھوتی ھے۔ 

بلوچ سیاسی جدوجہد ایک صدی سے جاری ھے اور اس عظیم جدوجہد کے چند مینار رہے ہیں جس سے بلوچ  شعوروآگہی حا صل کرتے رہے اپنی قومی جدوجہد کو آگے بڑھاتے رہے ان میناروں نواب بگٹی شہید وہ روشن مینار ھے جو ہمیشہ اپنی روشنی سے بلوچ عوام منور کرتا رہے گا انشااللہ ۔

تحریر: واجہ خورشید نگوری
 نوٹ: درج بالا خیالات مصنف کی اپنی رائے ہے ریپبلکن نیوز اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں