بندوق بردار اشتہارات!

کوئٹہ / مضمون (ریپبلکن نیوز) پچھلے کچھ عرصے سے برطانیہ میں ایک آگاہی مہم چلائی جارہی ہے جن کے منتظمین بلوچ ریپبلکن پارٹی اور ورلڈ بلوچ آئرگنائزیشن ہیں اور ان کے مطابق وہ صرف بلوچ قوم پر ہونے والے مظالم ہی نہیں بلکہ دیگر قوموں جن میں پشتون، سندھی، مہاجر اور اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کو درپیش ریاستی دہشتگردی جیسے واقعات کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

اس مہم کا آغاز برطانیہ میں عالمی کرکٹ کپ کے دوران ہوا جو مخلتف مراحل سے گزر کر معمولی طورپر کامیاب سمجھا جارہا ہے۔

جہاں عالمی میڈیا نے اس کو اپنے ہاں جگہ دیا وہی اشتہارات کی صورت میں کروڑوں لوگوں تک یہ پیغام پہنچ گیا کہ بلوچ ایک مظلوم قوم ہے اور انہیں ریاست پاکستان کی جانب سے نسل کشی کا سامنا ہے اور خاص طور پر جبری گمشدگیوں کے معاملے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں مذکورہ تنظیمیں بہت کامیاب رہی ہیں۔

ظاہر ہے بی آر پی اور ڈبلیو بی او کی لیڈر شپ کی جانب سے بڑی محنت کی گئی ہے اور بڑے پیمانے پر اخراجات ہوئے ہیں لیکن اس تمام عمل کا مقصد صرف اور صرف بلوچ قوم کو ریاستی سطح پر نسل کشی کا سامنا ہے یہ پیغام دنیا کے مہذب ممالک تک پہنچانا تھا، اس دوران میڈیا سے تعلق رکھنے والے بڑے نام والے لوگوں نے اس مہم کے حوالے سے سوشل میڈیا پر اپنے تاثرات پیش کیئے اس کے علاوہ سوشل میڈیا استعمال کرنے والے لوگوں جن میں پاکستانی اور دیگر غیر ملکیوں نے بھی سوشل میڈیا پر مہم کے تصاویر شائع کیئے اور اس حوالے سے اپنی رائے دی۔

اس مہم کی سب سے خاص بات یہ رہی کہ اس کو مخلتف انداز سے اور دلچسپ بنانے کی کوشش کی گئی تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس پر متوجہ ہوں۔

دوسرے مرحلے میں امریکہ میں اس مہم کا آغاز ہوگیا جس وقت پاکستانی وزیر اعظم عمران خان، ڈی جی آئی ایس آئی فیص حمید، اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوا امریکہ کے دورے پر تھے۔

اس بار جہاں امریکہ سمیت دنیا کے سب سے بڑے اخبار واشنگٹن پوسٹ سمیت وائٹ ہاؤس کے سامنے بڑے بڑے اشہارات آویزاں کر کے امریکی حکام کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی تھی کہ اچانک طارق فتح نامی شخص بندوق بردار بینرز اور اشہارات لیکر نمودار ہوگیا۔

طارق فتح نے ایک ٹرک پر مسلح کمانڈر اللہ نذر کے اور انکے ساتھیوں کے بندوق بردار بینرز اور پوسٹرز مخلتف مقامات پر کھڑے کیئے اور ان کے سامنے ویڈیو بناکر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کردی۔

جہاں ایک طرف انسانی حقوق کے پامالیوں کو اجاگر کیا جارہا ہے وہی دوسری طرف بندوق بردار افراد کی امریکہ جیسے ملک کے سڑکوں پر تشہیر چے معنی دارد ؟

طارق فتح ایک متنازع شخص ہے اور اس کو لیکر بلوچ حلقوں میں کوئی خاص مثبت رویعہ دیکھنے کو نہیں ملتا اور دوسری طرف وہ بی این ایم اور بی ایس و آزاد کے بڑے حمایتی نظر آتے ہیں اور مذکورہ تنظیموں کے رہنما اور کارکن ان کے مشوروں کو اپنے دیگر بلوچ رہنماؤں سے زیادہ فوقیت دیتے ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت طارق فتح کو یہ سب کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟ آیا طارق نے اپنے طرف سے یہ اشہتاری مہم چلائی ہے یاانہوں نے ایسا بی ایل ایف یا بی این ایم کی مشاورت کے بعد کیا؟

اگر بی این ایم اور بی ایل ایف وغیرہ کی حمایت حاصل تھی تو ان کو قوم کے سامنے اس کی وضاحت کرنی چایئے اگر انکی حماٰت حاصل نا تھیں تب بھی قوم کے سامنے باتیں واضح کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ان بندوق بردار اشہارات تو کسی بھی حوالے سے بلوچ قوم کی پرامن جدوجہد کیلئے فائدے مند نہیں بلکہ خطرناک حد تک نقصاندہ ہیں۔

اب یہ واضح ہوجانا چایئے کہ طارق فتح صاحب کو دشمن قوتوں نے استعمال کیا ہے یا کہ بی ایل ایف نے اشہارات کے احکامات جاری کیئے۔ اگر جاری کیئے تو اس کے فوائد بھی قوم کے سامنے لائے جائے۔ وگرنہ یہ عمل تو بلوچ دشمنی کے زمرے میں آتا ہے کہ جہاں بلوچ خود کو پرامن اور جمہوریت پسند ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہی عین وقت پر راکٹ بردار اشہارات تو کوئی احمق ہی سڑکوں پر لگا سکتا ہے۔

تحریر : زرکانی بلوچ 
نوٹ: درج بالا خیالات مصنف کی اپنی رائے ہے ریپبلکن نیوز اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں