بھیڑیوں کی حیران کردینے والی صفات، جو انسانوں میں ختم ہوتی دکھائی دیتی ہے

 بھیڑیا اپنی زہانت، طاقت اور بہادری کی وجہ سے جانا جاتا ہے، یہ جانور کبھی مردار نہیں کھاتا،  یہ جنگل کے بادشاہ کا طریقہ ہے اور نہ ہی بھیڑیا محرم مؤنث پر جھانکتا ہے  یعنی باقی جانوروں سے بالکل مختلف کہ اپنی ماں اور بہن کو شہوت کی نگاہ سے دیکھتا تک نہیں۔

 بھیڑیا اپنی فی میل پارٹر کا اتنا وفادار ہوتا ہے  کہ اس کے علاوہ کسی اور مؤنث سے تعلق قائم نہیں کرتا اسی طرح مؤنث بھی بھیڑئیے کے ساتھ وفاداری رہتی ہے۔  بھیڑیا اپنی اولاد کو پہچانتا ہے کیونکہ ان کی ماں اور باپ ایک ہی ہوتے ہیں۔

 جوڑے میں سے اگر کوئی مرجائے تو دوسرا مرنے والی جگہ پر کم از کم تین ماہ کھڑا افسوس کرتا ہے۔  بھیڑییے کو عربی میں ابن البار کہا جاتا ہے ، یعنی نیک بیٹا، کہ جب  والدین بوڑھے ہوجاتے ہیں تو ان کے لئے شکار کرتا ہے اور ان کا پورا خیال رکھتا ہے۔ بھیڑیا کی بہترین صفات میں بہادری ، وفاداری ، خودداری ، اور والدین سے حسن سلوک مشہور ہیں۔

تصویر پر ذرا غور کریں

سب سے آگے تین چلنے والے بوڑھے اور بیمار بھیڑییے ہیں۔ دوسرے پانچ منتخب طاقتور جو بوڑھے اور بیمار بھیڑیوں کے ساتھ ( فرسٹ ایڈ )تعاون کرنے والے ہیں۔  ان کے پیچھے طاقتور ، دشمن کے حملے کا دفاع کرنے والے چاک و چوبند بھیڑییے ہیں۔ درمیان میں باقی عام بھیڑییے ہیں۔ سب کے آخر میں بھیڑیوں کا مستعد قائد ہے جو سب کی نگرانی کررہا ہے کہ کوئی اپنی ڈیوٹی سے غافل تو نہیں اور ہر طرف سے دشمن کا خیال رکھتاہے اس کو عربی میں ( الف ) کہتے ہیں یعنی اکیلا ہزار کے برابر۔

یہ ایک سبق ہے انسانوں کے لیے کہ بھیڑیئے بھی اپنے لیے بہترین خیرخواہ قائد منتخب کرتے ہیں اور اپنوں کا بھرپور خیال رکتھے ہیں۔

متعلقہ عنوانات
Back to top button