بیان بازی چھوڑکر براہ راست بلوچستان کےتحریک کی حمایت کریں، نوابزادہ حیربیارمری کا بھارت سے مطالبہ

نیوز ڈیسک (ریپبلکن نیوز)مانیٹرنگ نیوز ڈیسک رپورٹس کے مطابق بلوچ رہبر و فری بلوچستان موومنٹ کے سربراہ حیر بیاری مری نے فنانشل ایکسپریس آن لائن کو ایک خصوصی انٹرویوں دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر کوانٹرنیشنلائیزڈ کرنے کی پاکستانی حرکتوں نے انڈیا میں سونامی جیسے جزباتوں کو ابھارا ہے، اور اب یہ توقعات بھی بہت زیادہ ہوگئی ہے کہ مودی سرکار آزاد بلوچسان کے تحریک کی حمایت کریگی اور اقوام متحدہ میں پاکستان آرمی کی بلوچوں کے خلاف جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھائینگے۔

2016 میں جناب مودی نےہندوستان کی قومی یوم آزادی کے موقع پر بلوچستان کا زکر کرتے ہوئے کہا وہ بلوچ عوام کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر اور بلتستان کے لوگوں کا بھی شکریہ ادا کرتے جنہوں نے انہیں خوش آمدید کیا ہے۔ اس کے بعد کچھ بھی آگے نہیں بڑھا۔


فنانشل ایکپریس آنلائن کے ساتھ حصوصی انٹرویو دیتے ہوے فری بلوچستان موومنٹ کے رہنما حیربیارمری نے کہا کہ توقعات کے برخلاف آزاد بلوچستان کے حمایت میں مودی سرکار نے اپنی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں لائی ہے۔ اب تک کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ حیربیار مری نے کہا ہے مودی جی کی قومی آزادی کے دن بلوچستان کے بارے میں بیان نے بلوچوں کے مصائب کو اور بڑھا دیا ہے کیونکہ پاکستان آرمی نے سفاکیت کو اور بڑھا دی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ مودی سرکار کا کردار بیان بازی تک محدود تھا جس سے عملا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔


اس وقت پاکستان شاید سوچھ رہا تھا کہ انڈیا کلیتا بلوچستان کی تحریک کو سپورٹ کریگی جس کی وجہ سے پاکستان نے بلوچستان میں اپنی سفاکیت اورشدت سے بڑھا دی لیکن جیسے کہ میں نے پہلے کہا ہے کہ اس اسپیچ کے بعد انڈیا نے کچھ نہیں کیا۔ یہ بلوچستان کی آزادی کی تحریک کیلیے مددگار ثابت نہیں ہوا بلکہ اس کے برعکس پاکستان کے آرمی کو اس کا فائدہ ہوا۔ جناب حیربیارمری نے کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے بارے مودی سرکارکی پہلی ٹرم بیان بازی تک محدود ہوا اور دوسری ٹرم میں بھی ہم اس کی طرف بلوچستان بارے کوئی ٹھوس پالیسی نہیں دیکھ پارہے ہیں۔


انسانی حقوق کے بارے پاکستان کی بے بنیاد جنونی اور وہمی شورشرابے نے بلوچستان اور مقبوضہ پاکستانی کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دنیا میں آشکار کیا ہے۔ حیربیارمری کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی وجود کو کھودے گا اگر ایک دفعہ بلوچستان نے اس سے اپنی آزادی حاصل کر لی۔ یہ کیوں ہے کہ انسانی حقوق کی سب سے بڑا خلاف ورزی کرنے والی ملک کو اجازت دی گئی ہےکہ یہ بہروپیا اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کا چیمپئن بننے کا ڈرامہ کرے؟ انڈیا کو چاہیے کہ وہ بلوچستان کو اپنی حقوق حاصل کرنے کی کوششوں میں مدد دے۔


انٹرویو کے ترمیم شدہ اقتباسات
۱۔۔سوال ۔۔ پاکستان انڈیا پر الزامات لگا رہا ہے وہ کشمیر میں انسانی حقوق کی حلاف ورزی کر رہا ہے۔ اس نے اس ایشو کو اقوام متحدہ میں بھی اٹھایا ہے، جبکہ انسانی حقوق کے ایشو کو کوئی بھی ملک اٹھا سکتا ہے۔ بلوچستان اور سنکیانگ میں انکی انسانی حقوق کی ریکارڈ کو دیکھتے ہوے چائنا اور پاکستان کا اپنا بلکل کوئی جائز مسلمہ موقف نہیں۔ آپ کے خیال میں بلوچستان اور سنکیانگ میں انکی خراب انسانی حقوق کی ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے اقوام متحدہ انکو کیوں بحث کر رہاہے؟


جواب۔ اقوام متحدہ ایک غیرجانبدار ادارہ نہیں، یہ بڑے ریاستوں کا ایک خصوصی کلب ہے، انکو اپنے ممبرریاستوں کے مصروفیات سے فرست نہیں کیونکہ وہ پالیسیاں بناتے ہیں یو این کے اداروں کو چلاتے ہیں اور کمیٹیوں کی صدارت کرتے ہیں۔ پاکستان 1947 سے یو این کی ہر ادارے اور کمیٹی کو سیاسی آلہ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ چائنا بھی یو این پر اثرانداز ہے اور دوسرے ممالک چائنا پرشاذونادر ہی تنقید کرتے ہیں کیونکہ انکے ساتھ انکا فوجی اور معاشی تعلقات ہیں۔ بلوچستان ایک مقبوضہ ملک ہے، قواعد پر چلنے والے دنیا میں پاکستان کو اسکی یو این کی ممبر شپ سے کب سے محروم کردیا جانا چاہیے تھا کیونکہ اس ملک نے کھلم کھلا یو این چارٹر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیرقانونی طور پر طاقت استعمال کرتےہوئے بلوچستان پرقبضہ کیا ہے، میں نے بار ، بار کہا ہے کہ یواین کی چارٹر کے آرٹیکل 2 اور آرٹیکل 4 اپنے ممبرممالک کو اجازت نہیں دیتے کہ وہ کسی آزاد ریاست کے خلاف طاقت کا استعمال کرے۔

پاکستان نے بلوچستان پرفوجی طاقت کے بل بوتے پر قبضہ کیا ہے اور ہمارے پاس اسکا ثبوت موجود ہیں کہ جناح نے بلوچستان پر قبضہ کرنے کیلئے پاکستانی فوج کو حکم دیا تھا۔ بلوچستان خالص ایک بین الاقوامی ایشو ہے جسے یو این نے نظرانداز کیا ہے جبکہ کشمیر کو کئی بار زیربحث لایا گیا ہے ۔ کچھ ہندوستانی یہ کہتے ہیں کہ یہ نہرو تھا جس نے یو این کو اپروچ کیا جب پاکستان نے کشمیر پر قبضہ جما لیا۔ تاہم یہ کئی اسباب میں سے ایک سبب ہوسکتا ہے لیکن میں شدت سے یقین رکھتا ہوں کہ کشمیر کا ایشو عالمی سطح پر اب بھی زندہ ہے کیونکہ پاکستان نے اسے انٹرنیشنل ایشو بنانے کیلئے اپنی تمام تر توانیاں اور پیسے خرچ کیے ہیں۔ یو این کی ہر ممبر اسٹیٹ کو طاقت اور اثرورسوخ ہے اور پاکستان 1947 سے باقاعدہ اس اثر ورسوخ کو انڈیا کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ جبکہ دوسری طرف انڈیا پاکستان کے خلاف ایک موثر دیرپا اسٹریٹجی تشکیل دینے میں ناکام رہا ہے۔


۲سوال ۔ بلوچستان میں پاکستان کی ظلم و بربریت دنیا جہاں میں معروف ہیں ، جنوبی ایشیا میں اس کی بدنما ریکارڈ کو دیکھتے ہوے، کیا پاکستان خود کو کشمیر میں انسانی حقوق کے بارے پریشان ہونے والا ایک ملک کا دعوی کرسکتا ہے؟


جواب ۔۔ گوکہ ہندوستان کی مسلمانوں نے پاکستان کو اسلام کے نام پر بنایا لیکن اسلام سے اسکا سرےسے کوئی تعلق نہیں اور پاکستان کے مسلمان پنجابی اسے اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کر رہے ہیں یہ لوگ پاکستان کے زیرقبضہ کشمیر کو آزاد کشمیر کہتے ہیں۔ دنیا میں تقریبا 200 کے قریب ممالک ہیں کسی ایک نے بھی اپنے ملک کے نام کے ساتھ آفیشل طور پر لفظ آزاد استعمال نہیں کیا۔ کیوں کوئی اپنے ملک کے نام کے ساتھ آزاد رکھے؟، کیا وہ افغانستان کو آزاد افغانستان اور تاجکستان کو آزاد تاجکستان کہہ کر پکاریں؟


پاکستان کمشیر پر مگرمچھ کا آنسو رو رہا ہے جس کی کوئی اہمیت نہیں۔ اگر انکو انسانی حقوق کا کوئی لحاظ یا عزت ہوتا تو ہم مسلمانوں کیلئے کوئی ہمدردی ہوتا تو بلوچستان پر ہرگز قبضہ نہ کرتے اور بلوچوں کا نسل کشی شروع نہ کرتے۔ ملین کے حساب سے مسلمان بنگالیوں کا ریپ اور قتل عام نہ کرتے۔ فلسطینیوں کے قتل میں اردن کا ساتھ نہ دیتے۔ افغانوں کے خلاف ہرگز جنگ نہ کرتے اور جہاد کے نام پر لاکھوں کے حساب میں انکا قتل عام نہ کرتے۔ اور چائنا کو اپنا آہنی برادر ہرگز نہ کہتے جہنوں نے ملیونز کے حساب میں یوگرمسلمانوں کو کیمپوں میں بند کرکے رکھا گیا ہے۔ پاکستان برطانیوی نوآبادیاتی دور کا شیطانی پیداوار ہے۔ پاکستان کو ایک نارمل ریاست ہرگز نہیں کہا جاسکتا اس نے کبھی بھی اپنے رویہ سے ثابت نہیں کیا ہے اسکی ایک نوآبادیاتی زہنیت ہے، اس لیے اس کے الفاظ عمل سے کوسو دور ہیں۔ سوال نمبر۔3 ۔پاکستان ہمیشہ یہ پروجیکٹ کر رہا ہے کہ وہ کشمیر کے بارے پریشان ہے لیکن انکا یہ نعرہ کہ کشمیر بنےگا پاکستان اسکی نیت کو ظاہر کرتی ہے اگر واقعی یہ حق خود اداریت کے بارے مخلص ہوتے تو بلوچستان کے مطالبے پر کیوں پر عمل نہیں کرتے ؟


حیربیارمری۔ ‘’کشمیر بنے گا پاکستـان “کا یہ نعرہ پاکستان کی اصل نیت کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ ساری کشمیرپر قبضہ کرتا ہے جس طرح 1948 میں اس نے بلوچستان پر قبضہ کیا۔ پاکستان کشمیر پر قبضہ کرنے کی اپنی کوششوں کو کبھی بند نہیں کریگا۔ کیونکہ کشمیر کی بہت بڑی اسٹریٹجک لوکیشن ہے اور اسکے بہت بڑے پانی کے وسائل ہیں۔ وہ موثر آلہ جسے پاکستان ہمیشہ اپنے مزموم ارادوں کیلئے استعمال کر رہا ہے، وہ ہے مذہب۔ جہاں تک بلوچستان کو آزادی نہ دینے کا معاملہ ہے ، وہ اسلیے کہ پاکستان کا وجود بلوچ وسائل پر انحصار کر رہا ہے اور ظاہر ہے کہ اسکی جغرافیہ کا پچاس فیصد موجودہ مقبوضہ بلوچستان پر مشتمل ہے۔ نوآبادیاتی طاقتیں اپنی مقبوضوں کوکبھی آزادی نہیں دیتے۔ مقبوضہ قوموں کو اپنی آزادی حاصل کرنے کیلئے متحد ہوکر مزاحمت کرتےہوے قابض قوتوں کے غلامی کے زنجیروں کو تھوڑنا چاہیے۔ آج بلوچ یہی کر رہا ہے اور انشاللہ جلدی ہم اپنے ملک کو واپس لینگے۔ ایک دفعہ بلوچستان آزاد ہوا تو پاکستان کا وجود ختم ہوجائے گا۔ بلوچ ، پشتون اور سندھی پاکستان سے بیزار ہوچکے ہیں۔ یہ سارے مقبوضہ قومیں اپنی آزادی چاہتے ہیں۔ پنجاب اور سندھ ہندوستان کے علیحدہ الگ ہوے حصے ہیں، پشتونوں کے علاقے افغانستان اور بلوچستان کے حصہ تھے۔ بلوچستان ایک آزاد ملک تھا۔ جب بلوچستان اپنی آزادی حاصل کریگی، پاکستان خودبخود ختم ہوجائے گی، کیونکہ افغانستان اپنے علاقوں کو واپس لیگی۔ باقی بچا کچھا پاکستان ہندوستان سے پہلے سے الگ ہونے والے علاقے یعنی سندھ اور لینڈلاک مغربی پنجاب پر مشتمل ہوگا۔ ہندوستان اپنی تاریخی علاقوں کو پھر واپس اپنے اندر ضم کر سکتا ہے۔


4۔ 2016 میں وزیرآعظم مودی نے آزادی کے دن کے تقریب کے موقع پر بلوچ آزادی پسند جہد کا حوالہ دیا اس وقت سے آج تک کچھ نہ ہوا۔ بلوچ رہنماؤں کا وزیرآعظم مودی سے کیا توقعات ہیں؟


حیربیارمری۔ مودی جی نے 2016 کو اپنے اسپیچ میں بلوچستان کا زکر کیا اور میرے سمجھ کے مطابق مودی جی کے اسپیچ سے پہلے کچھ بلوچ تنظیموں اور انڈین اداروں کے درمیان کسی حد تک رابطے تھے، تاہم نریندرمودی کے اسپیچ کے بعد بلوچ تنظیموں اور انڈین اداروں کے درمیان رابطے کے لائن کٹ گئے۔ ہم نے توقع کی کہ انڈیا بلوچستان کے حمایت میں اپنی پالیسی تبدیل کریگی جس سے ہندوستان کے مفادات کا تحفظ ہوسکتا تھا، لیکن کوئی مثبت پیشرفت نہ ہوسکی۔ مودی کی اسپیچ نے بلوچوں کیلئے مزید مشکلات پیدا کیے۔ اسپیچ کے بعد پاکستان نے مزید ظلم بڑھا دی۔ مزید لوگوں کو غائب کیا گیا۔ اسپیچ کے فورا بعد پاکستان آرمی نے بلوچستان میں اپنے فوجی جارحیت بڑھا دی۔ اس وقت پاکستان شاید سوچھ رہا تھا کہ انڈیا کلیتا بلوچستان کی تحریک کو سپورٹ کریگی جس کی وجہ سے پاکستان نے بلوچستان میں اپنی سفاکیت اورشدت سے بڑھا دی، لیکن جیسے کہ میں نے پہلے کہا ہے کہ اس اسپیچ کے بعد انڈیا نے عملا کچھ نہیں کیا۔ یہ بلوچستان کی آزادی کی تحریک کیلیے مددگار ثابت نہیں ہوا بلکہ اس کے برعکس پاکستان کے آرمی کو اس کا فائدہ ہوا۔ جناب حیربیارمری کا کہنا تھا کہ بلوچستان بارے مودی سرکارکی پہلی ٹرم بیان بازی تک محدود ہوا اور دوسری ٹرم میں بھی ہم اس کی طرف بلوچستان بارے کوئی ٹھوس پالیسی نہیں دیکھ پارہے ہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں