بے شرمی کی انتہا، کٹ پتلی وزیر داخلہ ضیا لانگو نے گرفتار بلوچ خواتین کو دہشتگرد قرار دے دیا

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز) کٹ پتلی صوبائی وزیر داخلہ میرضیاء اللہ لانگو نے کہا ہے کہ آواران سے گرفتار ہونے والے چار خواتین دہشتگردوں کیلئے سہولت کاری کا کام کرتے تھے گرفتار خواتین سے اسلحہ بھی برآمدکیاگیا موجودہ حکومت نے ناراض بلوچوں کے ساتھ باقاعدہ طور پر مذاکرات کیلئے کوئی رابطہ نہیں کیا تاہم جو لوگ قومی دھارے میں شامل ہونا چاہتے ہیں وہ عدالتوں میں کیسز کا بھی سامنا کرینگے۔

ان خیالات کااظہارانہوں نے غیر ملکی خبررساں ادارے سے بات چیت کرتے ہوئے کیا، کٹ پتلی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ ضلع آواران سے گزشتہ روز لاپتہ ہونے والے خواتین ڈپٹی کمشنر آواران کے زیر حراست میں ہیں یہ چاروں خواتین سے اسلحہ برآمدہوا اوران کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی اور قانونی کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ خواتین تخریب کاری کے غرض کیلئے آئی تھی اور دہشتگردوں کیلئے اسلحہ اٹھا یا تھا تو ایسے خواتین کوگرفتار کرنا ہماری مجبوری بن جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ غیرت مند معاشرے میں خواتین کو جنگ کیلئے استعمال نہیں کرتے یہ چار خواتین جو کہ حراست میں ہیں ان کا تعلق بی ایل ایف سے ہے۔ بعد ڈپٹی کمشنر سی ٹی ڈی اور حساس اداروں کی موجودگی میں چار خواتین کو گرفتار کر لیا اور ان سے اسلحہ بھی برآمد کر لیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر آواران نے بھی بتا یا تھا کہ حساس ادارے کی جانب سے بھی خواتین کا دہشتگرد تنظیم سے تعلق ہونے کا اعتراف کیاتھا۔

وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ ناراض بلوچ قومی دھارے میں شامل ہوکر اسلحہ پھینک دیں جو لوگ دہشتگردی میں ملوث ہیں عدالتوں میں کیسز کا سامنا کریں کیونکہ دہشتگردوں نے بے گناہ ہزاروں افراد کے قتل میں ملوث ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ناراض بلوچوں کے ساتھ باقاعدہ طور پر مذاکرات کیلئے کوئی رابطہ نہیں کیا تاہم جو لوگ قومی دھارے میں شامل ہونا چاہتے ہیں وہ کیسز کا سامنا کریں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں