تربت شہر میں چوری کی متعدد واقعات میں ریاستی ایجسنیوں کے اہلکار ملوث نکلے

تربت /رپورٹ (ریپبلکن نیوز) تربت میں چوری واردات  میں ریاستی اہلکار ملوث نکلے

تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے ضلع کیچ کے ہیڈکورٹر تربت میں گزشتہ ایک ہفتے سے متعدر گھروں میں چوری کے کئی وارت سامنے آئے ہیں جن میں ریاستی خفیہ اداروں کے اہلکاروں کے ملوث ہونے کے ثبوت سامنے آئے ہیں۔ 

گزشتہ دنوں نامعلوم افراد نے تربت کے زور بازار میں سیٹھ حامد نامی شخص کے گھر میں گھس کر سب سے پیلے شناختی کارڈ اور موبائل فون اپنے قبضے میں لے لئے اس کے بعد گھر کے سارے زیورات اور نقدی لوٹ کر فرار ہوگئے جبکہ اس سے قبل تربت کے ہی  آبسر اور واستو بازار میں بھی اسی طرح چوری وارت ہوئے ہیں

نمائیدہ ریپبلکن نیوز نے چوروں کے ہاتھوں لوٹے جانے والے افراد سے بات کی اور تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ تمام گھروں میں واردات کے دوران چور اردو زبان میں بات کرتے تھے۔

تربت کے شہریوں نے ریپبلکن نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ چور دن دہاڑے بڑے بڑے گاڈیوں میں بھرے بازاروں کے اندر لوٹ مار کر چلے جاتے ہیں لیکن انتظامیہ اس پر بلکل حرکت میں نہیں آتی ہے۔

جبکہ شہر میں بڑھتے ہوئے چوری کے وارداتوں کے خلاف شہریوں نے احتجاج کا فیصلہ کیا تو انہیں ڈی سی کیچ نے احتجاج روک دیا اور کہا کہ وہ اپنے طور پر اس معملے کو حل کرنے کی کوشش کرینگے۔ 

جبکہ ڈی سی کیچ کے دفتر سے ایک اہلکار نے اپنا نام بتانے کی شرط میں نمائدہ ریپبلکن نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کہ ڈی سی کیچ نے اپنے طور پر ان واقعات کے بارے میں تحیقات کی ہیں جن کی ہمیں معلوم ہوا ہے کہ ایجنسیوں سے تعلق رکھنے والے عناصر ان چوریوں میں ملوث ہیں جس کے بعد ڈی سی نے تحقیات روک دی ہے۔ 

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں