ترقی کی راہ پر گامزن بلوچستان میں آکسیجن نا ملنے پر ہسپتال میں بچہ دم توڑ گیا

کوئٹہ/رپورٹ (ریپبلکن نیوز) بلوچستان کے ضلع کوہلو میں ایک معصوم بچہ ہسپتال میں بجلی نا ہونے اور بروقت آکسیجن نا ملنے کی وجہ سے دم توڑ گیا، بلوچستان کے وہ حکمران جو اسٹیبلشمنٹ کی بولی بولتے ہوئے کہتے ہیں کہ بلوچستان ترقی کی راہ پر گامزن ہیں انہیں چلو بھر پانی میں ڈوب مرجانا چایئے۔

کوہلو کے ہسپتال میں جب نوزائد بچے کو لایا گیا تو ہسپتال میں بجلی نہیں تھی، انتظامیہ نے یہ کہہ کر جنریٹر بھی آن نہیں کیا کہ پیٹرول ختم ہوگئی ہے جبکہ بچے کے والد نے کہا کہ وہ پیٹروم خود لائیگا تو انتظامیہ نے کہا کہ جنریٹر چلانے والا شخص ہسپتال میں موجود نہیں ہے۔

خیال رہے کہ اپنی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ بلوچستان میں صحت کا نظام نا ہونے کی وجہ سے اکثر بچے اس دنیا میں اپنی آنکھیں کھولنے سے پہلے ہی دم توڑ دیتے ہیں۔

دوسری جانب بلوچستان حکومت کی طرف سے دعوعٰ کیا جاتا ہے کہ بلوچستان ترقی کی راہ پر گامزن ہے، لیکن عام عوام کو اب تک یہ ترقی نظر نہیں آتی، شاید یہ موجودہ حکمران اپنے بینک بیلینس کے اضافے کو ترقی سمجھتے ہیں۔

بلوچستان قدرتی دولت سے مالا مال خطہ ہے جس کے وسائل سے پاکستانی معیشت کا پیہہ چلتا ہے، اگر حساب لیا جائے تو پنجاب کا بچہ بچہ بلوچوں کا قرضدار نکلے گا، جبکہ پنجاب آج پاکستان کا سب سے ترقی یافتہ صوبہ ہے لیکن بلوچستان میں بچے پیدا ہوتے ہی دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں۔

بلوچستان کا ضلع ڈیرہ بگٹی جو گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان بھر کو گیس فرائم کر رہا ہے لیکن وہاں صحت کا نظام نا ہونے کی وجہ سے زچگی کے لیے خواتین بڑے شہروں کا رخ کرتے ہیں اور اس دوران راستے میں ہی متعدد خواتین اور بچوں کی زندگیوں کا خاتمہ ہوچکا ہے۔

دوران زچگی اموات ا یشیامیں بلوچستان پہلے نمبر پر ہے

نا صرف ڈیرہ بگٹی بلکہ بلوچستان بھر میں یہی صورتحال ہے، چھوٹی بیماریوں کے علاج کے لیے بھی لوگوں کو بڑے شہروں کی جانب رخ کرنا پڑھتا ہے۔

بلوچستان میں عام بیماریوں کا علاج دستیاب نہیں جبکہ اب بلوچستان میں کینسر اور ہیڈز کے مریضوں کی تعداد میں بھی کافی اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، حال ہی میں ایک رپورٹ میں بلوچستان میں پانچ ہزار ایڈز کے مریضوں کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ کینسر کے کیسز اس سے کئی زیادہ ہیں۔ بلوچستان میں ایڈز اور کیسنر جیسی بڑی بیماریوں کا علاج دستیاب نا ہونے کی وجہ سے کئی لوگ دم توڑ چکے ہیں اور سینکڑوں لوگ اپنی موت کے منتظر ہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button