جام حکومت نے صوبے میں گورننس، میرٹ اور قانون کی دھجیاں اڑادی ہیں، اپوزیشن

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز) بلوچستان اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت نے صوبے میں گورننس، میرٹ اور قانون کی دھجیاں اڑادی ہیں۔

ٹرانسفر، پوسٹنگ اور نئی بھرتیوں میں میرٹ کو بری طرح پامال کیا جا رہاہے۔بلوچستان اسمبلی کے اپوزیشن چیمبر میں قائد حزب اختلف اور جے یوآئی کے پارلیمانی لیڈر ملک سکندر ایڈوکیٹ نے حزب اختلاف میں شمال جماعتوں، بی این پی مینگل، پشتونخوا میپ کے پارلیمانی لیڈروں اور آزاد رکن اسمبلی نواب اسلم رئیسانی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی کے گزشتہ روز کے اجلاس میں ہم نے محکمہ تعلیم میں بھرتیوں میں بے ضابطگیوں پر آواز اٹھائی تھی۔

وزیراعلی نے بے ضابطگیوں کی تحقیقات معائنہ ٹیم کے حوالے کی ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلی کی جانب سے کمیٹی کا قیام آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے، کیوں کہ ملک میں 70 سالوں سے کمیٹیاں بنانے کی روش جاری ہے مگر نتیجہ کچھ نہیں نکلتا۔

تحقیقات سے قبل تمام تعیناتیاں کالعدم قرارقراردی جائے۔ملک سکندر ایڈوکیٹ نے کہا کہ تعلیم اور صحت کے محکموں میں بلوچستان کے مقامی نوجوانوں کو نظر انداز کر کے دوسرے صوبوں سے لوگوں کو بغیر ٹیسٹ اور انٹرویو کے بھرتی کیا جارہا ہے۔ صوبے میں ہر دو ماہ بعد سیکریٹری تبدیل ہوتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں شفافیت کیسے ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان حکومت عوام کی خیرخواہ نہیں ہے۔ اس قسم کے رویے اور بے ضابطگیوں کے خلاف حزب اختلاف کی جماعتیں جلد مشاورت کر کے لائحہ عمل طے کریں گی۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں