جبری گمشدگیوں کے خلاف جاری مہم پر ریپبلکن نیوز کا اداریہ

کوئٹہ/اداریہ (ریپبلکن نیوز) بلوچستان سمیت پاکستان کے یگر علاقوں میں جاری جبری گمشدگیوں کے خلاف بلوچ ریپبلکن پارٹی اور ورلڈ بلوچ آرگنائزیشن کی برطانیہ میں جاری مشترکہ آگاہی مہم اب تک کی سب سے کامیاب مہم ہے جس نے پوری دنیا کی توجہ حاصل کرلی ہے۔

بلوچستان میں فوجی آپریشن، جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کے خلاف یورپ سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں بلوچ قوم پرست جاعتیں وقتاََ فوقتاََ آگاہی مہم، احتجاجی مظاہرے، ریلیاں، سیمینار اور کانفرنس سمیت مختلف پروگرامز ترتیب دیتے رہے ہیں لیکن اس بار طریقہ بالکل مختلف تھا جس نے دنیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔

اس بار صرف بلوچستان نہیں بلکہ بلوچستان کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخواہ، سندھ اور پاکستان میں مذہبی اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف بھی آواز بلند کی گئی ہے۔ کیونکہ پاکستان میں بلوچوں کی طرح پشتونوں اور سندھیوں سمیت مذہبی اقلیتوں کو بھی جبری گمشدگیوں کا سامنہ ہے۔

بلوچ ریپبلکن پارٹی اور ورلڈ بلوچ آرگنائزیشن نے جبری گمشدگیوں کے خلاف مہم کا باقاعدہ آغاز 8 جون کو کیا جو برطانیہ کے مختلف شہروں میں مختلف طریقوں سے اب تک جاری ہے۔

پہلے مرحلے میں برطانیہ کے شہر لندن میں سائیکلوں پر بلوچستان سمیت پاکستان کے دیگر علاقوں میں ہونے والی جبری گمشدگیوں کے بارے میں لوگوں کو آگاہی دی گئی اور لوگوں سے درخواست کی گئی کہ جبری گمشدگیوں کی روک تھام کے لیے وہ اپنا اپنا کردارادا کریں۔

جبری گمشدگیوں کے خلاف جاری مہم کے دوسرے مرحلے کے لیے بھی لندن کے اہم مقامات کا انتخاب کیا گیا جہاں 13 جون کو دونوں جماعتوں کی جانب سے جبری گمشدگیوں کی روک تھام کے لیے لندن کے اہم مقامات پر بڑے بڑے سائن بورڈ آویزاں کیے گئے جبکہ روڑ اور سڑکوں پر جبری گمشدگیوں کی روک تھام کے لیے پیغامات لکھے گئے، جن میں انگریزی زبان میں لکھا گیا "End Enforced Disappearences in Pakistan” شامل ہے۔ جسکا مطلب ہے پاکستان میں جبری گمشدگیوں کو روکھا جائے۔

ورلڈ بلوچ آرگنائزیشن اور بلوچ ریپبلکن پارٹی کی مشترکہ آگاہی مہم کا تیسرا مرحلہ 16جون کو پاکستان بمقابلہ ہندوستان ورلڈ کپ کرکٹ کھیل کے وقت شروع ہوا جہاں برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں کرکٹ اسٹیڈیم کے احاطے میں اور اسٹیڈیم کے داخلی و خارجی راستوں پر جبری گمشدگیوں کے خاتمے کے لیے پیغامات لکھے گئے۔

ان پیغامات نے برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں اور کرکٹ میچ دیکھنے کے لیے آنے والے کرکٹ شائقین کا توجہ اپنا طرف کھینچ لیا اور بڑی تعداد میں لوگوں نے ان پیغامات کو پڑا اور برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں نے سوشل میڈیا پر اس حوالے سے اپنے خیالات کا بھی اظہار کیا۔ جبکہ بہت سے برطانوی اور یورپی شہریوں نے بھی آگاہی مہم میں استعمال ہونےوالے ہیش ٹیگ EndEnforcedDisappearances کا استعمال کرتے ہوئے اس مہم میں حصہ لیا اور جبری گمشدگیوں کی روک تھام کے لیے آواز بلند کیا۔

آگاہی مہم کے چھوتے مرحلے کا آغاز 20 جون کو لندن میں کیا گیا جہاں لندن کے اہم شاہراوں پر بل بورڈز آویزاں کیے گئے جن پر پاکستان میں جبری گمشدگیوں کی روک تھام کے حوالے سے پیغامات درج تھے۔

جبری گمشدگیوں کے خلاف آگاہی مہم کا پانچواں مرحلہ 23 جون کو برطانیہ کہ شہر لندن میں شروع کیا گیا جب پاکستان اور ساوتھ افریقہ کرکٹ گراونڈ میں آمنے سامنے تھے۔ اس دوران کرکٹ اسٹیڈیم میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

آگاہی مہم کے اس مرحلے میں کرکٹ اسٹیڈیم کے باہر اسٹیڈیم کے داخلی و خارجی راستوں کے پاس گاڑیوں اور سائیکلوں پر پاکستان میں جبری گمشدگیوں کی روک تھام کے حوالے سے پیغامات درج کیے گئے، اور میچ دیکھنے آنے والوں میں پمفلٹس تقیسم کیے گئے، جس نے بڑی تعداد میں لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔

پاکستان بمقابلہ ساوتھ افریقہ کرکٹ میچ دیکھنے کے لیے پاکستان آرمی کے سربراہ قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور بھی موجود تھے۔ جبکہ کھیل کے اختتام پر چند پاکستانیوں نے جبری گمشدگیوں کے خلاف سائیکلوں پر لگائے گئے بینرز بھی پھاڑ دیئے تھے، اور بعد میں ان پاکستانیوں کے تصاویر پاکستانی فوج کے ترجمان آصف غفور کیساتھ دیکھے گئے۔

جبری گمشدگیوں کے خلاف بلوچ ریپبلکن پارٹی اور ورلڈ بلوچ آرگنائزیشن کی مشترکہ آگاہی مہم کے چھٹے مرحلے نے پاکستان کو مزید پریشانی میں مبتلہ کردیا، جہاں برطانیہ کے سب سےزیادہ پڑی جانےوالی اخبارات اور میگزین پر بلوچستان اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں جبری گمشدگیوں کے حوالے مضمون شائع کیے گئے جن پر بلوچستان، خیبرپختونخواہ، سندھ اور پاکستان میں مذہبی اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کے بارے میں لوگوں کو آگاہی دی گئی۔

جبکہ مہم کے ساتویں مرحلے میں 26 جون کو برطانیہ کہ شہر برمنگھم میں پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ کرکٹ کھیل کے دوران اسٹیڈیم کے باہر اور آس پاس عمارتوں پر جبری گمشدگیوں کی روک تھام کے حوالے سے بینرز اور بل بورڈز آویزاں کیے گئے۔

بلوچ ریپبلکن پارٹی اور ورلڈ بلوچ آرگنائزیشن کی طویل آگاہی مہم نے پوری دنیا کا توجہ آٹھویں مرحلے میں داخل ہوتے ہوئے اُس وقت فوراََ حاصل کرلیا جب 29 جون کو برطانیہ کے شہر لیڈز میں پاکستان بمقابلہ افغانستان میچ کھیلا جارہا تھا، اس دوران اسٹیڈیم کے باہر عمران خان کی تصویر کیساتھ بینرز آویزاں کیے گئے جس پر عمران خان کے وہ الفاظ لکھے گئے جو انہوں نے اقتدار میں آنے سے قبل کہے تھے جن میں لاپتہ افراد کی بازیابی اور جبری گمشدگیوں میں ملوث خفیہ اداروں کے خلاف کاروائی کرنا شامل تھے۔

پاکستان بمقابلہ افغانستان کرکٹ میچ کے دوران کرکٹ اسٹیڈیم کی فضا میں ہوائی جہازوں کے زریعے دلچسپ انداز میں لوگوں کو آگاہی دینے کی کوشش کی گئ، جس میں ہوائی جہازوں کے زریعے کرکٹ اسٹیڈیم کی فضا میں کھیل کے دوران جبری گمشدگیوں اور بلوچستان کے حوالے سے فضا میں بینرز لہرائے گئے جس نے فورََ اسٹیڈیم میں موجود لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کی توجہ حاصل کرلی۔

فضا میں لہرائے گئے بینرز پر "جبری گمشدگیوں کی روک تھام” کے لیے مدد کی اپیل کی گئ اور "بلوچستان کے لیے انصاف” کے پیغامات فضا میں لہرائے گئے۔

فضا میں بلوچستان کے حوالے سے لہرائے گئے بینرز کو دیکھ کر افغان باشندوں نے بلوچوں کے حق میں نعرے بلند کیے جس پر برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں نے افغان باشندوں کے خلاف غلط الفاظ استعمال کیے اور اس طرح افغانی اور پاکستانیوں میں جھگڑا ہوا جس میں بہت سے افغانی اور پاکستانی باشندے زخمی ہوئے۔

فضا میں لہرائے گئے بینرز نے پوری دنیا کی توجہ فوراََ حاصل کرلی اور چند مھنٹوں میں ہی دنیا کے اہم اخبارات اور آن لائن میگزین نے اس خبر کو نشر کیا اور بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں اور فوجی آپریشن میں ہونے والے مظالم کے حوالے سے بھی خبریں شائع کیں۔

فضا میں لہرائے گئے بینرز نے پاکستانی اداروں کو شدید پریشانی میں مبتلہ کردیا اور پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے بیان شائع کیا گیا کہ اس مہم میں ملوث افراد کی خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائیگی۔

بلوچ ریپبلکن پارٹی اور ورلڈ بلوچ آرگنائزیشن کی جبری گمشدگیوں کے خلاف مشترکہ آگاہی مہم کو سوشل میڈیا میں بھی پزیرائی مل رہی ہے اور بلوچ سوشل میڈیا صارفین سمیت پشتون، سندھی، مہاجر اور مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد سمیت پاکستانی مظالم کے خلاف بولنے اور لکھنے والے ہر مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ سوشل میڈیا میں بھی اس مہم میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ سوشل میڈیا میں EndEnforcedDisappearances کے ہیش ٹیگ کا استعمال کیا جارہا ہے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں