جبری گمشدہ بلوچوں کے لواحقین عید کیسے مناتے ہیں ؟

خصوصی رپورٹ(ریپبلکن نیوز) خوشی اور غم کے مواقعوں پر جب اپنے ساتھ نہ ہو تو خوشی  بے رنگ اور غم مزید درد ناک بن جاتے ہیں ۔

عام طور پر اکثر ہمارے بھائی، باپ، یا کزن  نوکری یا روزگار کے سلسلے میں ہم سے دور چلے جاتے ہیں، کوئی بیرون ملک تو کوئی اپنوں سے دور کسی شہر میں مگر جیسے جیسے عید قریب آتی ہے تو بیوی، بچوں اور ماں باپ کے فون آتے ہیں کوئی کہتا ہے میرے لیے اچھا سا جوڑا لانا کوئی اچھے جوتے کی فرمائش کرتا ہے تو کوئی اپنے  لیئے رنگ دار مہندی کے مطالبات منونے کی کوشش میں لگی رہتی ہے اور یقین کریں ہاتھ تنگ ہونے پر بھی دل کرتا ہے کہ آج کسی کو کوئی چیز کی کمی نہیں ہونی چاہیے اور عید پر جب گھر جاتے ہیں تو ماں باب اور بچوں کی خوشیاں دیکھ کر ان سے مل کر دل  کو جو سکون ملتا ہے اور جو پیار ملتا ہے وہ ناقابل بیان ہوتی ہے۔ 

لیکن ان کا درد کیسا ہوگا جن کے پیارے سالوں سے غائب کردئیے گئے ہیں  جو ہر عید پر دروازے پر اپنے پیاروں کی راہ دیکھ رہے ہوتے ہیں ، مہلب کیسے عید مناتی ہوگی اپنے والد کے بغیر ؟  شیر گل  بگٹی کی بھوڑی ماں  عید کے دن پڑوسیوں کو ان کے بچوں کے ساتھ مل کر خوشیاں مناتے ہوئے ان پر کیا گزرتی ہوگی ؟ علی حیدر کئی سالوں سےاپنا عید کیسے منا رہا ہے ؟   ایسے ہزاروں ماں، بہن، بیٹے اور بیٹیاں ہیں جو دس ، پندرہ سالوں سے اپنا عید خوشیاں کے بجائے آنسووں کے ساتھ اپنے پیاروں کے انتظار میں گزار رہے ہیںاور ان کی امید ہوتی ہے کہ شاید اگلی عید اپنوں کے ساتھ منائے گے۔ 

اگلی عید پر شاید ابو آجائے گے ، مہلب کیلئے مہندی لائے گے،یاسین بگٹی کا بیٹا انتظار میں رہیگا کہ ابو آئینگے نئے کپٹرے لائیں گے عید ساتھ منائے گے ۔ 

ہمارے لیئے لاپتہ افراد کے لواحقین کا درد سمجھنا شاید بہت مشکل ہے  ، مگروہ  جو لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ کرتے ہیں،  عید کو بلوچستان سے چھٹیاں لیکر کوئی پنڈی، کوئی پشاور تو کوئی راولاکوٹ جاکر اپنے بچوں کے ساتھ عید مناتے ہیں اگر وہ کسی دن واپس جائے اور ان کے بچے یا باپ انہیں نہ ملے اور پتہ چلے کہ ان کو کوئی اٹھا کر لے گیا ہے تو ان پر کیا گزر ے گی ان کو یہ بات ضرور سوچ لینی چائیے۔ 

اگر کسی بلوچ نے کوئی گناہ کیا ہے تو انہیں عدالت میں پیش کر کے انہیں قرار واقع سزا دیں  اگر کسی کا مسلح مزاحمتی تنظیم سے تعلق ہے،  ہوگا کسی کا تعلق نواب براہمدغ بگٹی سے،  ہوگا کوئی جو حیر بیار مری سے رابطے میں ہو، اللہ نظر سے بھی رابطے کوئی نا کوئی ہوگا،  مگر عدالتیں موجود ہیں جو آپ نے بنائی ہیں قانون ہے جس کے تحت تم نے حلف لیا ہے تو پھر انہی قوانین کو پامال کر کے عدالتوں پر عدم اعتماد کر کے تم بھی کوئی محب وطن ہونے کا ثبوت نہیں دے رہے ہو۔ 

یہ مت بھولیں کہ خدا کے سامنے بھی جانا ہے اور قیامت کے روز خدا کی عدالت میں بھی پیش ہونا ہے وہاں کیا جواب دوگے۔ 

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں