خاران دھماکے و پنجگور میں اہلکار کو قتل کرنے کی زمہ داری بی ایل اے نے قبول کر لی

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز ) بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان آزاد بلوچ نے نامعلوم مقام سے سیٹلائٹ فون پر میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز ہمارے سرمچاروں نے خاران میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفس کے عمارت پر دستی بم سے حملہ کیا جس کا مقصد تعلیمی نظام سے جڑے ان تمام افراد کو تنبہیہ کرنا تھا جو بلواسطہ یا بلاواسطہ ریاست کی ایجوکیشن ہائجیکنگ پالیسی کا حصہ ہیں۔ آج یہ کسی ذی شعور کیلئے ڈکھی چپی بات نہیں کہ خاران سمیت بلوچستان بھر میں قریب تمام تعلیمی اداروں پر قابض ایف سی نے ہر زاویہ سے قبضہ جمایا ہوا ہے جسکا مقصد 14 اگست و دیگر ایسے موقعوں پر مختلف پروگرامز سجا کر بلوچ قومی تحریک کے خلاف طلباء کے ذہنوں میں اپنے فرسودہ نظریات کو ٹھونسنا ہے۔ ہمارے سرمچاروں نے عین اس وقت حملہ کیا جب دفتری انتظامیہ 14 اگست کی نام نہاد جشن آزادی کی تقریبات کی تیاریوں میں مصروف تھی۔ نیز ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ سے جڑے اُن تمام افراد کو سختی سے تنبہیہ کرتے ہیں کہ اپنی حرکتوں سے باز آجائیں جو تعلیم کا مقدس لبادہ اوڑھے تعلیمی اداروں میں قابض ریاست کی فوجی حکمت عملیوں کو تقویت دے رہے ہیں۔

ترجمان نے مزید کہا کہ 9 اگست کی شام کو ہمارے سرمچاروں نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نوروز مسکانزئی کے گھر پر دستی بم سے حملہ کیا۔ یاد رہے اس سے قبل 2016 کو بھی ایک حملے میں ان کے گھر کو ہمارے سرمچاروں نے تنبہاً نشانہ بنایا تھا جس کے باوجود وہ قابض فوج کی ایجوکیشن ہائجیکنگ پالیسی کا حصہ بنے رہے۔ اور حال میں 14 اگست کی تقریبات کو سرانجام دینے کیلئے اساتذہ سمیت طلباء و طالبات کو ذاتی انٹرسٹ کے تحت مجبور کرا کہ زبردستی ان پروگراموں کا حصہ بنانے جیسے قومی جرم کے مرتکب تھے۔ لہزا یہ حملہ ان کیلئے ایک اور وارننگ تھی۔

مزید برآں آزاد بلوچ نے پنجگور کے علاقے وشبود میں خفیہ اداروں کے اہلکار کے قتل کی زمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ 15 جولائی کو رات گئے ہمارے سرمچاروں نے ریاستی ایجنٹ محمد فاروق جن کا بنیادی تعلق ساہیوال سے ہے اور جو خود کو کراچی کا شہری ظاہر کرتا تھا کو ان کے گھر پر فائرنگ کر کے ہلاک کیا۔ محمد فاروق جو کہ ایک ریٹائرڈ پنجابی فوجی تھے جنہیں خفیہ اداروں کی جانب سے پنجگور کے علاقے وشبود میں ایک نجی ادارے میں بطور ڈاکٹر تعینات کیا گیا تھا۔ ان کا کام علاقے میں دوران علاج عورتوں سے بلوچ جہد کاروں کے معلومات اکھٹا کرنا تھا۔ بعد ازاں ان سے برآمد شدہ موبائل میں بلوچ خواتین کی خفیہ طریقے سے لی گئی تصاویر ملے جنہیں خفیہ ادارے ایک نئے پالیسی کے تحت بلیک میلنگ کا ایک آلہ بنانے کا ارادہ رکھتے تھے تاکہ ان خواتین سے بلوچ آزادی پسندوں کے ٹھکانوں کا پتہ لگا سکیں۔ یہ تصاویر بطور ثبوت ہمارے پاس موجود ہیں۔ بلوچ عوام ریاستی اداروں کے ایسے نت نئے ہتھکنڈوں سے ہوشیار رہے۔

آزاد بلوچ نے جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ایک آزاد بلوچ سماج کے قیام تک اس طرح کے حملے جاری رہیں گے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں