خوف کے سائے میں نواب اکبر خان بگٹی کی یاد۔! ریپبلکن | مضمون

کوئٹہ/مضمون (ریپبلکن نیوز) بلوچستان میں جب کوئی عزت و ناموس کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو بلوچستان کے ہر مقطب فکر کے لوگوں کو ڈاڈائے قوم شہید نواب اکبر خان بگٹی بڑے یاد آتے ہیں۔خاص طور پر بلوچ طلباء اور طالبات سوشل میڈیا پر بزرگ بلوچ قوم پرست رہنما شہید نواب اکبر خان بگٹی کو شدت سے یاد کرتے ہیں اور خاتون ڈاکٹر شازیہ کے واقع کا حوالے دیکر لکھتے اور کہتے ہیں کہ ایک سندھی میمن خاتون کی عزت کیلئے نواب اکبر خان بگٹی نے ریاست سے ٹکر لیا اور اپنی مال و دولت، محلات اور اپنی زندگی سمیت سب کچھ قربان کردیا۔ 

مگر آج بلوچ بچیوں کے عزتوں کے خلاف سرے عام کھیل کھیلا جارہا ہے مگر کوئی اس کے خلاف اٹھنے کو تیار نہیں۔ 

بلوچستان کے بلوچ اور پشتون اقوام غیرت اور انصاف کے نام سے جانے جاتے ہیں اور خواتین کو ان اقوام میں ایک عالیٰ مقام حاصل ہے۔ 

بلوچ روایات میں یہ ہے کہ جب کوئی جنگ ہورہا ہو اس دوران اگر کوئی عورت بیچ میں آجائے تو عورت کے احترام میں جنگ روک دی جاتی ہے

بولان میڈیکل کالج میں ایک معمولی پولیس اہلکار کی جانب سے بچیوں کے ساتھ بد اخلاقی اور انہیں نکالے جانے کے واقع کے بعد سب نے یہ کہنا شروع کردیا کہ آج نواب اکبر خان بگٹی شہید ہمارے درمیان ہوتے تو ایسے واقعات نہ ہوتے۔ 

پھر بلوچستان یونیورسٹی میں بچیوں کے غیر اخلاقی وڈیوں بنا کر انہیں بلیک میل کرنا یہ براہ راست بلوچ قومی غیرت پر حملے ہیں جبکہ ہمارا ردعمل ٹوئیٹر ٹوئیٹرکرنے اور فیس بک تک محدود ہوتا ہے۔ 

 آج بلوچ خاص طور پر نوجوان سوشل میڈیا پر تو بہت شور کرتے نظر آتے ہیں۔ مگر آٹھ دس دن گزرنے کے بعد سب ڈی ایس ایل آر کیمرہ اٹھا کر سٹالیش تصاویر بنا کر سوشل میڈیا پر مگن رہتے ہیں اور غیرت اور بدلہ کے نعرے لگانے والے تمام بڑے دعوے ہوا ہو جاتے ہیں۔ 

ڈاڈائے قوم نے اپنی زندگی سمیت سب کچھ قربان کر کے ہمیں کیا سبق دیا ؟ کیا ان کی اتنی بڑی قربانی کا مطلب یہی ہے کہ ہم بس ان کی مثالیں دیکر خود کو بریالزمہ کردیں؟ 

کیا اِن درجنوں طلباء تنظیموں نے کبھی شہید نواب اکبر خان بگٹی کے یوم شہادت کے موقع پر اپنے کالج یا یونیورسٹی میں کوئی تقریب انعقاد کر کے نئے نسل کو بتانے کی کوشش کی ہے کہ نواب اکبر خان بگٹی شہید نے کس لیئے قربانی دی ہے؟ کیا ان کی فکر چھبیس اگست دو ہزار چھ کو تراتانی میں دفن ہوگیا ؟

 کیا ان کے فکر اور ان کے تعلیمات کو نئے نسل تک پہچانا ان طلباء تنظیموں کی زمہ داری نہیں کہ ایک نواب نے جس کے پاس سب کچھ تھا لیکن جب بات قومی وسائل، مادر وطن اور نگ و ناموس کے دفاع کی آئی تو انھونے اپنا سب کچھ قربان کردیا۔ 

چھبیس اگست کو صرف نواب اکبر خان بگٹی شہید نہیں ہوئے بلکہ بلوچ قوم کے عزت اور سرزمین کا پاسبان بھی قتل ہوگئے، پاکستانی فوج نے تو انہیں شہید کردیا لیکن ان کے فکر اور تعلیمات کو اگلے نسل تک نہ پہچانے میں ہم میں سے کسی نے خاص طور پر انہی طلباء تنظیموں نے جن پر زمہ داری عائد ہوتی تھیں کوئی کردار ادا نہیں کیا بلکہ ہم ڈاڈائے قوم سے غداری کے مرتکب ہوئے ہیں۔ ٹھیک ہے ہر کوئی پہاڑوں پر جاکر لڑ نہیں سکتا لیکن اپنے تعلیمی اداروں میں منعقدہ پروگراموں میں ہم نے کبھی ان کے نظریات کے حوالے سے اپنے نوجوانوں کو آگاہ نہیں کیا تو اب ہم کس منہ سے ان کے حوالے دیتے پھر رہے ہیں۔ نواب بگٹی شہید ایک تھا جس نے اپنی قربانی سے اس قوم کو ایک راستہ دکھایا اس سے آگے قوم کے ان پڑھے لگے نوجوانوں اور دانشوروں پر زمہ داری عائد ہوتی تھی کہ وہ ان کے زندگی اور عظیم مقصد کیلئے قربانی اور کردار کو اپنے بچوں تک پہنچاتے جس میں ہم سب بری طرح ناکام رہے۔

آج بھی وقت ہے کہ تمام بلوچ طلباء تنظیمیں اپنے سرکلز میں ڈاڈائے قوم شہید نواب اکبر خان بگٹی کے قومی تشخص اور بقاء کیلئے جدوجہد، قربانی اور فکر پر بات کریں اور آنے والے نسلوں کو بتائے کہ بلوچ ڈاڈائے قوم شہید نواب اکبر خان بگٹی کے بچے اور پیروکار ہیں اور وہ اپنے نگ و ناموس کے دفاع کرنا جانتے ہیں اور موت کے خوف کے سائے میں ہم ڈاڈائے قوم شہید نواب بگٹی کو محض یاد نہیں کرینگے بلکہ ان کے بتائے اور راستے اور فکر پر عمل بھی کرینگے۔ 

تحریر؛ مرید بگٹی

نوٹ: درج بالا خیالات مصنف کی اپنی رائے ہے ریپبلکن نیوز اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں