ریاستی ٹارچر سیل سے بازیاب ہونے والا کیچ کا رہائشی شخص دم توڑ گیا

کوئٹہ( ریپبلکن نیوز) ریاستی فورسز کے حراست سے نیم مردہ حالت میں رہا ہونے والا شخص جان کی بازی ہار گیا۔

تربت سے ریپبلکن نیوز کے نمائندہ کے بھیجے گئے رپورٹ کے مطابق پاکستان افواج نے اس سال تین مارچ کو ڈاکٹر ظفر بلوچ ولد سلیم بلوچ نامی شخص کو کیچ کے علاقے تمپ کے کلوہ میں ان کے گھر سے اغوا کے بعد لاپتہ کردیا تھا۔

اغوا کے دو ماہ بعد یعنی تیرہ مئی کو انہیں نیم مردہ حالت میں رہا کردیا گیا جس کے بعد انہیں کراچی کے آغا خان ہسپتال میں علاج کیلئے داخل کرایا گیا تھا جہاں تین ماہ تک ان کا علاج ہوتا رہا مگر افواج کےزیر حراست شدید تشدد کی وجہ سے ان کے بعض اعزا نے کام کرنا بند کردیا تھا اور وہ دو ستمبر کو ہسپتال میں دم توڑ گئے۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں قوم پرست جماعتوں کا کہنا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں سیاسی کارکنان سمیت مخلتف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو ریاستی عسکری اداروں نے غیر قانونی حراست میں رکھا ہے اور ان پر غیر انسانی تشدد کا کیا جارہا ہے۔

یاد رہے کہ کچھ دن قبل پاکستان افواج نے خود ہی انکشاف کیا تھا کہ بلوچستان میں تعینات اہلکار لوگوں کو مخلتف الزامات لگا کر ان کو حراست میں لینے کے بعد ان سے بھاری رقوم وصول کرتے ہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں