سابق وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے جوان بیٹے کو قتل، معصوم نواسے کو اغوا کر لیا ہے، خاتون کی پریس کانفرنس

بارکھان (ریپبلکن نیوز) سرفراز بگٹی نے اکلوتے اور جوان بیٹے کو قتل جبکہ چار سالہ نواسے کو اغوا کر لیا ہے، ایک بوڑھی ماں کی بارکھان میں پریس کانفرنس یہ سسکتی خواتین کا تعلق ڈیرہ بگٹی کے علاقے پیلاوغ سے ہیں جو ضلع کوہلو کے علاقے کاہان میں پریس کانفرنس کررہی ہیں اس بوڑھی ماں کے بیٹے ذولفقار عرف بٹیلا کو چار روز قبل بیکڑ کے علاقے میں سابق وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کے لوگوں نے قتل کردیا ہے اور اس کے چار سالہ معصوم بچے کو اغوا کر کے لے گئے ہیں۔

خواتین نے پولیس تھانے میں جاکر اپنے اکلوتے بیٹے کا قتل اور نواسے کے اغوا کا مقدمہ سرفراز بگٹی کے دست راست وڈیرہ شاہ مراد نوحکانی بگٹی کے خلاف درج کرنا چاہا لیکن مقدمہ تو درن نہیں ہو سکا الٹا سرفراز بگٹی اور اس کے کمانڈر شامراد نوحکانی ان خواتین کو فون کر کے دھمکی دے رہے ہیں کہ اگر دوبارہ پولیس تھانے گئی تو آپ کے چار سالہ پوتے کی لاش بھیج دینگے۔
خواتین کا کہنا ہیں کہ شامراد نوحکانی نے فوج کر کے اعراف کیا ہے کہ اس کے بیٹے کو میں نے قتل کیا ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بگٹی قبیلے کی ذیلی شاخ نوحکانی سے تعلق رکھنے والے مزار خان بگٹی نے کہا ہے کہ سابق وزیر داخلہ میر سر فراز بگٹی کے کارندہ شاہ مراد نوہکانی نے میرے بھانجے کو قتل اور اس کے بیٹے کو اغوا کر لیا ۔ انھونے کہا ہے کہ میرے بھانجے کو دھوکے سے بلا کر قتل اور اس کے 4 سالہ بیٹے کو اغوا کر لیا گیا

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت اور ایجنسیوں کے نام پر سابق صوبائی وزیر داخلہ میر سر فراز بگٹی نے غریبوں کا جینا حرام کر رکھا ہے ۔
مزار خان بگٹی نے وزیر اعظم پاکستان ،آرمی چیف ، چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعلی بلوچستان، چیف سیکٹریری بلوچستان سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے بھانجے کے قاتلوں کو گرفتار کر کے اس کے بیٹے کو بازیاب کرایا جائے بصورت دیگر اس معصوم بچے کو وہ لوگ جان سے مار دیں گے ۔

انھونے اس بات کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ ہمارے میڈیا کے سامنے آنے کے بعد میرے اور میری بہن کی جان کو بھی خطرہ ہے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں