سبی میں 315 مزاحمتکاروں نے ہتیار ڈال دیئے، گہرام بگٹی تقریب کے مہمانِ خاص

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز) پاکستانی حکام نے داعویٰ کیا ہے کہ تین سو سے زاہد بلوچ آزادی پسند مزاحمتکاروں نے ہتیار ڈال دیئے ہیں۔ یہ دعوعٰ سبی میں ایک تقریب کے دوران کیا گیا۔

پاکستانی حکام  کے مطابق سبی میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں 315 فراریوں نے ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شمو لیت اختیار کرلی ہے۔

حکام کے مطابق ہتھیارڈالنےوالے315فراریوں میں صوبائی حکومت کی جانب سےنقدرقوم کی تقسیم کیئے گئےان ہتھیارڈالنےوالےفراریوں کاتعلق سبی،ڈیرہ بگٹی اورکوہلوسے ہے، جبکہ تقریب کےمہمان خصوصی رکن صوبائی اسمبلی نوبزادہ گہرام بگٹی تھے۔

دوسری جانب آزاد اور علاقائی زرائع سے ہتھیار ڈالنے والوں کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں قوم پرست رہنما نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت کے بعد سے بلوچستان میں مسلح کاروائیوں میں شدت آئی  تھی جس نے پورے بلوچستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا اور تب سے پاکستانی فوج ہمیشہ  سے دعوے کرتی رہی ہے  کہ مسلح فراری سرینڈر ہورہے ہیں، اگر ان تعداد کو اکھٹا کیا جائے تو انکا شمار لاکھوں میں ہوتا ہے۔

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے صحافی اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں مسلح افواج کے افسران مقامی بااثر افراد سے مل کر مقامی کسان اور مزدوروں کو پکڑ کر فوٹو سیشن کروا کر انہیں فراری قرار دیکر اعلیٰ حکام سے کروڑوں روپے ان فراریوں کے دوبارہ آباد کاری کے نام پر وصول کرتے ہیں جو کہ کرپشن کی ںظر ہوجاتے ہیں۔

اگر اتنی بڑی تعداد میں بلوچ مزاحمتار ہتیار ڈال رہے ہیں تو بلوچستان میں مزاحمتی کاروائیوں میں کمی کے بجائے اضافہ کیوں ہورہا ہے؟ اس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستانی حکام جھوٹ کا سہارا لے رہے ہیں

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں