سیندک پروجیکٹ: مضر صحت کھانوں سے لوگ مختلف بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز) سیندک پروجیکٹ میں مضر صحت کھانے سے لوگ مخلتف بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں، جبکہ افسران پروجیکٹ کے لیے مختص رقم کمیٹی ممبران کے ساتھ آپس میں تقسیم کرتے ہوئے بدترین کرپشن کا ارتکاب کر رہے ہیں۔

سیندک پروجیکٹ میں کام کرنے والےایک ملازم کا کہنا ہے کہ سیندک پروجیکٹ کے لیے مختص رقم کمیٹی ممبران اور افسران آپس میں تقسیم کرلیتے ہیں جبکہ مضر صحت کھانوں کی وجہ سے متعدد لوگ مختلف بیماریوں کا شکار ہوچکے ہیں۔

کمیٹی ممبران اور افسران ریستوران کے لیئے مختص کی ہوئی رقم کا صیح اندازہ نہیں بتاتے، اندازے کے مطابق میس کے لیئے ایک مہینہ کا رقم پچیس سے تیس لاکھ تک ہو سکتا ہے۔میس کمیٹی ممبران معیاری چیزیں خریدنے کے بجائے دو نمبر کے اشیائے خورد و نوش لیتے ہیں جن سے اکثر ملازم معدہ ، آنتوں اور دیگر امراض کا شکار ہو جاتے ہیں۔دوسری طرف ستم ظریفی یہ ہے کہ جو ملازم میس کا کھانا نہیں کھاتے ان کو کوئی معاوضہ نہیں دیا جاتا۔

انہوں نے کہا کہ دیگر شعبوں میں شروع سے ہی کرپشن ہوتا تھا اب رہی سہی میس بھی کرپشن کی نذر ہوتا دیکھائی دے رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صحافیوں کا حالیہ دورہ برائے نام تھا، جنہوں نے ریسٹ ہاوس میں رہہ کر ملازمین کے بجائے افسران اور چائنیز کا موقف پیش کیا جو رد صحافت اور زرد صحافت تھی۔

کئی عرصوں کے بعد صحافی تو آگئے لیکن ان کو بھی کچھ ڈالر دے کر خاموش کرایا گیا، چارٹ سے پتہ چلتا ہے کہ دیئے ہوئے ہر خوراک کا قیمت سو روپیہ سے زیادہ نہیں ہے۔

اس کے باوجود ہزاروں ڈالر خورد برد کا شکار ہو جاتا ہے، کسی کی زندگی سے کھیلنا انتہائی بُرا عمل ہے، خدارا لوگوں کو گندی خوراک اور مضر صحت خوراک نہ دینے سے گریز کیا جائے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں