سیندک پروجیکٹ میں افیسروں کا احتساب کون کرے گا!

کوئٹہ/رپورٹ (ریپبلکن نیوز) سیندک پروجیکٹ میں سب سے پہلے پاکستان کے کمپنی R.D.C سیندک ریسورچسز ڈویلپمنٹ کارپوریشن نے کام شروع کیا تھا ۔سال 1992 میں R.D.C کا نام تبدیل کر کے S.M.L سیندک میٹلز لمیٹڈ رکھا گیا ۔ملازمین کو ایک سال ٹریننگ دینے کے بعد 93 میں تانبا اور سونے کا پیداواری عمل بھی شروع کر چکا تھا اس وقت جو ملازمین سیندک پروجیکٹ میں کام کر رہے تھے وہ وفاقی ملازم شمار ہوتے تھے۔

وفاق نے انہیں سرکاری ملازمین کی طرح ان کی تنخوائیں سکیل کے بنیاد پر دی جاتی تھیں ۔اور دیگر تمام مراعات بشمول الاؤنسز ، جمعے کی چھٹی ، بیماری کی چھٹی، عید کی چھٹی ، سفری الاؤنس، مکان الاؤنس ، بھی دیے جاتے تھے ۔ بھرتیوں کےلیے باقاعدہ اخباروں میں اشتہارات چھپتے تھے ۔سکیل 2 سے لیکر 14 تک کی بھرتیاں مطلوبہ قابلیت کی بنیاد پر کی جاتی تھیں۔

پاک چائنا دوستی اور پائیدار ترقی کے شرط کی بنا پر کچھ چینی انجینئرز بھی کام کرتے تھے جو پلانٹ میں فنی اور تکنیکی خرابی دور کرنے کے لیئے پاکستانی انجینئروں کے ساتھ مشترکہ کام کرتے تھے دو سال کام چلنے کے بعد چائنیز انجینئروں نے پارٹنر شپ کی آڑ میں پولٹیکل ڈیپارٹمنٹ کی ملی بھگت کے ساتھ محکمہ معدنیات کو رپورٹ کیْ کہ سیندک میں کام کرنا ” کھودا پہاڑ اور نکلے چوہے ، کے مترادف ہوگا ۔ R.D.C کو دیوالیہ کرنے پاکستانی افیسرز چینیوں کے ساتھ جھنڈے تلے ایک ہو گۓ تھے اس وقت چینی کمپنیوں کی نظر نہ صرف ایشیا بلکہ مشرق وسطیٰ تک پھیلی ہوئی تھی۔ R.D.C کے دیوالیہ کے بعد ملازمین نے پنشن اور دیگر فنڈز کے لیئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تو عدالت نے سیندک سے نکالنے والے تمام ملازمین کو قانون کے تحت سکیل کے بنیاد پر پنشن اور دیگر مراعات کا حقدار ٹہھرایا۔

کچھ رقم یونین کے ممبروں نے کیس لڑنے کے لیئے غبن کی اور کچھ رقم ملازمین کو دی گٸ ۔ اس کے بعد کمپنی کا نام ‘ سیندک میٹلز لمیٹڈ رکھ دیا گیا ۔پھر سیندک میٹلز لمیٹڈ نے دو سال تک سیندک پروجیکٹ کو چلایا۔

مالی بے ضابطگیوں ، اور کرپشن کے ناطے ایک دفعہ پھر سیندک پروجیکٹ کو خسارے کی بنا پر بند کرنا پڑا پھر 2002 کے معاہدے کے تحت سیندک پروجیکٹ کو چینی کمپنی کو لیز پر دے دیا گیا۔لیز پر دیتے وقت ملازمین کے لیئے کیا شرائط رکھا گٸ تھیں یہ معاہدہ آج تک فاہلوں میں بند اسلام آباد میں رکھا ہوا ہے۔

صرف اتنا سننے میں آیا تھا کہ اسکی آمدنی سے بلوچستان کو دو فیصد دیا جائے گا ۔ آج یہی دو فیصد ایک فیصد افسران کے لیئے مختص کیا گیا 2003 میں چینی کمپنی MCC نے نئے سرے سے تانبا اور سونے کی صفائی کا کام شروع کیا اس وقت سوائے افسروں کے کوئی بھی لیبر کام کرنے کے لیئے تیار نہیں تھا۔

کیونکہ ایرانی بارڈر کھلنے کی وجہ سے پاک ایران سرحدی شہر تفتان میں کاروبار عروج پر تھا پاکستانی افیسر لوگوں کو سیندک پروجیکٹ میں کام کرنے کے لیئے منت سماجت کرتے تھے پھر بھی کوئی ڈرائیور ، مزدور کام کرنے کے لیئے راضی نہیں ہوتا تھا ۔سال 2004 میں ڈالر روپیہ کے مقابلے میں 34 روپے کا تھا۔کمپنی میں بھرتی ہونے کا شرط 100 یا 80 ڈالر رکھی گئی تھی۔اس طرح مزدوروں کا تنخواہ 34×100 کے حساب سے 3500 تین ہزار پانچسو روپے بنتے تھے اور کچھ کا 2500 روپے بنتے تھے۔

ہر مزدور سیندک پروجیکٹ کے چکر اور پکنک کے لیئے ایک یا دو مہینہ مزدوری کر کے چلے جاتے تھے مطلب کمپنیاں تو بدل گئ کمپنیوں کے نام بھی بدلے گئے، حالات بھی بدل گئے اگر نہیں بدلے تو بد بخت ملازمین کے حالات نہیں بدلے ! یہاں ایک بات کا ذکر بھی کرتا چلوں ۔ کہ SML جب بند ہو گیا تو بہت سے ملازمین دوبارہ نہیں آئے۔البتہ کچھ جونیئر طبقے کے ملازمین سیاسی سفارش کی بنیاد پر Mcc میں دوبارہ بھرتی ہوئے۔جوں جوں کمپنی چلتی رہی مختلف لوگ منیجنگ ڈائریکٹر بنتے رہے آخر کار سابق صدر پرویز مشرف کے دور کے مشیر اور موجودہ سینٹ چیئرمین کے بھائی رازق سنجرانی کو سیندک میٹلز لمیٹڈ کا منیجنگ ڈائریکٹر چنا گی ۔

تجربہ کاروں کے مطابق منیجنگ ڈائریکٹر بننے کے لیئے جتنا تجربہ ، سروس، درکار ہوتی ہے متعلقہ شخص پر ایک بھی قابلیت کے شرائط پورے نہیں پائے گئے تھے خیر بلوچستان ہی سے چیئرمین سینٹ بننا، منیجنگ ڈائریکٹر بننا ہمارے لیئے بیحد خوشی کی بات ہوگی لیکن دکھ اس بات پر ہوتا ہے کہ چاغی ہی سے منیجنگ ڈائریکٹر کا انتخاب ہونا اور ملازمین کے مساٸل کا حل نہ ہونا نہ صرف سیندک بلکہ ریکوڈک کو اونے پونے بیچنے کے مترادف ہوگا ۔ خیر 2007 میں ڈالر کے قدر میں اضافہ ہو چکا تھا۔

ایک دفعہ پھر ملازمین نے تنخواؤں ، کے لیئے ایڑی چوٹی کا زور لگایااور بھر پور احتجاج کیا نتیجتًہ پھر منیجنگ ڈائریکٹر نے کوئیٹہ سے سیندک آنے کی مصائب برداشت کیے اور تمام مساہل کے حل کی یقین دہانی کرائی ۔اگر موصوف کے تمام بیانات عوام کے سامنے رکھ دوں تو لمبی چوڑی داستان بن جاۓ گی اور لوگ ان سے نفرت کا اظہار کریں گے MD اکثر سیندک، کو خوشحال چاغی کے نام سے تشبیہ دیتے تھے لیکن جتنا ظلم اور نا انصافی موصوف کے دور میں ملازمین کے ساتھ ہوئی کسی اور منیجنگ ڈائریکٹر کے دور میں کبھی نہیں ہوئی ۔اسی کے دور میں ملازمین کے تمام بونس Bonus ختم کیئے گئے اضافی چھٹیاں بند کردی گئیں تنخواہوں میں اضافے روک دیے گئے۔

اگر کوئی ملازم دس ، 12 سال کی مدت میں کسی مجبوری یا بیماری کی وجہ سے ملازمت چھوڑ جاتا وہ کسی بھی فنڈ کا حقدار نہیں کہلاتا ۔اتنا فاہدہ ضرور ملا کہ منیجنگ ڈائریکٹر کے اپنے رشتہ دار خالد گل کو خوب کمیشن مل رہی تھی جس کی وجہ سے ڈپٹی ڈائریکٹر اور وائس پریذنٹ افیسر ملازمین کی مسائل کے حل کے لیئے لاپروائی کرتے ہیں ۔ملازمین ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں ۔سیندک پروجیکٹ کے ملازمین آخر تو ملازم ہی ہیں جنہوں نے اپنے گھربار چھوڑ کر 2003 سے یہاں ملازمت کررہے ہیں ۔ملازمین کو افیسروں نے اپنا زاتی غلام بنایا ہوا ہے ۔اور یہی غلام اپنے مساہل کوحل کرنے کے بجائے اپنے اپنے خانوں اور معتبروں کے پوجا کرتے ہیں ۔

R.D.C کے دیوالیہ کے بعد ملازمین نے پنشن اور دیگر فنڈز کے لیئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تو عدالت نے سیندک سے نکالنے والے تمام ملازمین کو قانون کے تحت سکیل کے بنیاد پر پنشن اور دیگر مراعات کا حقدار ٹہھرایا۔

کچھ رقم یونین کے ممبروں نے کیس لڑنے کے لیئے غبن کی اور کچھ رقم ملازمین کو دی گٸ ۔ اس کے بعد کمپنی کا نام ‘ سیندک میٹلز لمیٹڈ رکھ دیا گیا ۔پھر سیندک میٹلز لمیٹڈ نے دو سال تک سیندک پروجیکٹ کو چلایا ۔مالی بے ضابطگیوں ، اور کرپشن کے ناطے ایک دفعہ پھر سیندک پروجیکٹ کو خسارے کی بنا پر بند کرنا پڑا پھر 2002 کے معاہدے کے تحت سیندک پروجیکٹ کو چینی کمپنی کو لیز پر دے دیا گیا۔لیز پر دیتے وقت ملازمین کے لیئے کیا شرائط رکھا گٸ تھیں یہ معاہدہ آج تک فاہلوں میں بند اسلام آباد میں رکھے ہوئے ہے۔

صرف اتنا سننے میں آیا تھا کہ اسکی آمدنی سے بلوچستان کو دو فیصد دیا جائے گا ۔ آج یہی دو فیصد سے ایک فیصد افسران کے لیئے مختص کیا گیا 2003 میں چینی کمپنی MCC نے نئے سرے سے تانبا اور سونے کی صفائی کا کام شروع کیا اس وقت سوائے افسروں کے کوئی بھی لیبر کام کرنے کے لیئے تیار نہیں تھا ۔کیونکہ ایرانی بارڈر کھلنے کی وجہ سے پاک ایران سرحدی شہر تفتان میں کاروبار عروج پر تھا پاکستانی افیسر لوگوں کو سیندک پروجیکٹ میں کام کرنے کے لیئے منت سماجت کرتے تھے پھر بھی کوئی ڈرائیور ، مزدور کام کرنے کے لیئے راضی نہیں ہوتا تھا ۔سال 2004 میں ڈالر روپیہ کے مقابلے میں 34 روپے کا تھا ۔کمپنی میں بھرتی ہونے کا شرط 100 یا 80 ڈالر رکھی گئی تھی ۔اس طرح مزدوروں کا تنخواہ 34×100 کے حساب سے 3500 تین ہزار پانچسو روپے بنتے تھے اور کچھ کا 2500 روپے بنتے تھے ۔ہر مزدور سیندک پروجیکٹ کے چکر اور پکنک کے لیئے ایک یا دو مہینہ مزدوری کر کے چلے جاتے تھے مطلب کمپنیاں تو بدل گئ کمپنیوں کے نام بھی بدلے گئے، حالات بھی بدل گئے اگر نہیں بدلے تو بد بخت ملازمین کے حالات نہیں بدلے ! یہاں ایک بات کا ذکر بھی کرتا چلوں کہ SML جب بند ہو گیا تو بہت سے ملازمین دوبارہ نہیں آئے۔

البتہ کچھ جونیئر طبقے کے ملازمین سیاسی سفارش کی بنیاد پر Mcc میں دوبارہ بھرتی ہوئے ۔جوں جوں کمپنی چلتی رہی مختلف لوگ منیجنگ ڈائریکٹر بنتے رہے آخر کار سابق صدر پرویز مشرف کے دور کے مشیر اور موجودہ سینٹ چیئرمین کے بھائی رازق سنجرانی کو سیندک میٹلز لمیٹڈ کا منیجنگ ڈائریکٹر چنا گیا ۔تجربہ کاروں کے مطابق منیجنگ ڈائریکٹر بننے کے لیئے جتنا تجربہ ، سروس، درکار ہوتی ہے متعلقہ شخص پر ایک بھی قابلیت کے شرائط پورے نہیں پائے گئے تھے خیر بلوچستان ہی سے چیئرمین سینٹ بننا، منیجنگ ڈائریکٹر بننا ہمارے لیئے بیحد خوشی کی بات ہوگی لیکن دکھ اس بات پر ہوتا ہے کہ چاغی ہی سے منیجنگ ڈائریکٹر کا انتخاب ہونا اور ملازمین کے مساٸل کا حل نہ ہونا نہ صرف سیندک بلکہ ریکوڈک کو اونے پونے بیچنے کے مترادف ہوگا ۔ خیر 2007 میں ڈالر کے قدر میں اضافہ ہو چکا تھا ۔

ایک دفعہ پھر ملازمین نے تنخواؤں ، کے لیئے ایڑی چوٹی کا زور لگایااور بھر پور احتجاج کیا نتیجتًہ پھر منیجنگ ڈائریکٹر نے کوئیٹہ سے سیندک آنے کی مصائب برداشت کیے اور تمام مساہل کے حل کی یقین دہانی کرائی ۔اگر موصوف کے تمام بیانات عوام کے سامنے رکھ دوں تو لمبی چوڑی داستان بن جاۓ گی اور لوگ ان سے نفرت کا اظہار کریں گے MD اکثر سیندک، کو خوشحال چاغی کے نام سے تشبیہ دیتے تھے لیکن جتنا ظلم اور نا انصافی موصوف کے دور میں ملازمین کے ساتھ ہوئی کسی اور منیجنگ ڈائریکٹر کے دور میں کبھی نہیں ہوئی ۔اسی کے دور میں ملازمین کے تمام بونس Bonus ختم کیئے گئے اضافی چھٹیاں بند کردی گئیں تنخواہوں میں اضافے روک دیے گئے ۔اگر کوئی ملازم دس ، 12 سال کی مدت میں کسی مجبوری یا بیماری کی وجہ سے ملازمت چھوڑ جاتا وہ کسی بھی فنڈ کا حقدار نہیں کہلاتا ۔اتنا فاہدہ ضرور ملا کہ منیجنگ ڈائریکٹر کے اپنے رشتہ دار خالد گل کو خوب کمیشن مل رہی تھی جس کی وجہ سے ڈپٹی ڈائریکٹر اور وائس پریذنٹ افیسر ملازمین کی مسائل کے حل کے لیئے لاپروائی کرتے ہیں ۔ملازمین ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں ۔سیندک پروجیکٹ کے ملازمین آخر تو ملازم ہی ہیں جنہوں نے اپنے گھربار چھوڑ کر 2003 سے یہاں ملازمت کررہے ہیں ۔ملازمین کو افیسروں نے اپنا زاتی غلام بنایا ہوا ہے ۔اور یہی غلام اپنے مساہل کوحل کرنے کے بجائے اپنے اپنے خانوں اور معتبروں کے پوجا کرتے ہیں ۔

ملازمین کو ایک سال ٹریننگ دینے کے بعد 93 میں تانبا اور سونے کا پیداواری عمل بھی شروع کر چکا تھا اس وقت جو ملازمین سیندک پروجیکٹ میں کام کر رہے تھے وہ وفاقی ملازم شمار ہوتے تھے وفاق نے انہیں سرکاری ملازمین کی طرح ان کی تنخوائیں سکیل کے بنیاد پر دی جاتی تھیں ۔اور دیگر تمام مراعات بشمول الاؤنسز ، جمعے کی چھٹی ، بیماری کی چھٹی، عیدین کی چھٹی ، سفری الاؤنس، مکان الاؤنس ، بھی دیے جاتے تھے ۔ بھرتیوں کےلیے باقاعدہ اخباروں میں اشتہارات چھپتے تھے ۔سکیل 2 سے لیکر 14 تک کی بھرتیاں مطلوبہ قابلیت کی بنا پر کی جاتی تھیں ۔پاک چائنا دوستی اور پائیدار ترقی کے شرط کی بنا پر کچھ چینی انجینئرز بھی کام کرتے تھے جو پلانٹ میں فنی اور تکنیکی خرابی دور کرنے کے لیئے پاکستانی انجینئروں کے ساتھ مشترکہ کام کرتے تھے دو سال کام چلنے کے بعد چائنیز انجینئروں نے پارٹنر شپ کی آڑ میں پولٹیکل ڈیپارٹمنٹ کی ملی بھگت کے ساتھ محکمہ معدنیات کو رپورٹ کیْ کہ سیندک میں کام کرنا ” کھودا پہاڑ اور نکلے چوہے ، کے مصدق ہوگا ۔ R.D.C کو دیوالیہ کرنے پاکستانی افیسرز چینیوں کے ساتھ جھنڈے تلے ایک ہو گۓ تھے اس وقت چینی کمپنیوں کی نظر نہ صرف ایشیا بلکہ مشرق وسطیٰ تک پھیلی ہوئی تھی۔ R.D.C کے دیوالیہ کے بعد ملازمین نے پنشن اور دیگر فنڈز کے لیئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تو عدالت نے سیندک سے نکالنے والے تمام ملازمین کو قانون کے تحت سکیل کے بنیاد پر پنشن اور دیگر مراعات کا حقدار ٹہھرایا ۔ کچھ رقم یونین کے ممبروں نے کیس لڑنے کے لیئے غبن کی اور کچھ رقم ملازمین کو دی گٸ ۔ اس کے بعد کمپنی کا نام ‘ سیندک میٹلز لمیٹڈ رکھ دیا گیا ۔پھر سیندک میٹلز لمیٹڈ نے دو سال تک سیندک پروجیکٹ کو چلایا ۔مالی بے ضابطگیوں ، اور کرپشن کے ناطے ایک دفعہ پھر سیندک پروجیکٹ کو خسارے کی بنا پر بند کرنا پڑا پھر 2002 کے معاہدے کے تحت سیندک پروجیکٹ کو چینی کمپنی کو لیز پر دے دیا گیا۔لیز پر دیتے وقت ملازمین کے لیئے کیا شرائط رکھا گٸ تھیں یہ معاہدہ آج تک فاہلوں میں بند اسلام آباد میں رکھے ہوئے ہے ۔صرف اتنا سننے میں آیا تھا کہ اسکی آمدنی سے بلوچستان کو دو فیصد دیا جائے گا ۔ آج یہی دو فیصد سے ایک فیصد افسران کے لیئے مختص کیا گیا 2003 میں چینی کمپنی MCC نے نئے سرے سے تانبا اور سونے کی صفائی کا کام شروع کیا اس وقت سوائے افسروں کے کوئی بھی لیبر کام کرنے کے لیئے تیار نہیں تھا ۔کیونکہ ایرانی بارڈر کھلنے کی وجہ سے پاک ایران سرحدی شہر تفتان میں کاروبار عروج پر تھا پاکستانی افیسر لوگوں کو سیندک پروجیکٹ میں کام کرنے کے لیئے منت سماجت کرتے تھے پھر بھی کوئی ڈرائیور ، مزدور کام کرنے کے لیئے راضی نہیں ہوتا تھا ۔سال 2004 میں ڈالر روپیہ کے مقابلے میں 34 روپے کا تھا ۔کمپنی میں بھرتی ہونے کا شرط 100 یا 80 ڈالر رکھی گئی تھی ۔اس طرح مزدوروں کا تنخواہ 34×100 کے حساب سے 3500 تین ہزار پانچسو روپے بنتے تھے اور کچھ کا 2500 روپے بنتے تھے ۔ہر مزدور سیندک پروجیکٹ کے چکر اور پکنک کے لیئے ایک یا دو مہینہ مزدوری کر کے چلے جاتے تھے مطلب کمپنیاں تو بدل گئ کمپنیوں کے نام بھی بدلے گئے، حالات بھی بدل گئے اگر نہیں بدلے تو بد بخت ملازمین کے حالات نہیں بدلے ! یہاں ایک بات کا ذکر بھی کرتا چلوں ۔ کہ SML جب بند ہو گیا تو بہت سے ملازمین دوبارہ نہیں آئے ۔البتہ کچھ جونیئر طبقے کے ملازمین سیاسی سفارش کی بنیاد پر Mcc میں دوبارہ بھرتی ہوئے ۔جوں جوں کمپنی چلتی رہی مختلف لوگ منیجنگ ڈائریکٹر بنتے رہے آخر کار سابق صدر پرویز مشرف کے دور کے مشیر اور موجودہ سینٹ چیئرمین کے بھائی رازق سنجرانی کو سیندک میٹلز لمیٹڈ کا منیجنگ ڈائریکٹر چنا گیا ۔تجربہ کاروں کے مطابق منیجنگ ڈائریکٹر بننے کے لیئے جتنا تجربہ ، سروس، درکار ہوتی ہے متعلقہ شخص پر ایک بھی قابلیت کے شرائط پورے نہیں پائے گئے تھے خیر بلوچستان ہی سے چیئرمین سینٹ بننا، منیجنگ ڈائریکٹر بننا ہمارے لیئے بیحد خوشی کی بات ہوگی لیکن دکھ اس بات پر ہوتا ہے کہ چاغی ہی سے منیجنگ ڈائریکٹر کا انتخاب ہونا اور ملازمین کے مساٸل کا حل نہ ہونا نہ صرف سیندک بلکہ ریکوڈک کو اونے پونے بیچنے کے مترادف ہوگا۔

خیر 2007 میں ڈالر کے قدر میں اضافہ ہو چکا تھا ۔ایک دفعہ پھر ملازمین نے تنخواؤں ، کے لیئے ایڑی چوٹی کا زور لگایااور بھر پور احتجاج کیا نتیجتًہ پھر منیجنگ ڈائریکٹر نے کوئیٹہ سے سیندک آنے کی مصائب برداشت کیے اور تمام مساہل کے حل کی یقین دہانی کرائی ۔اگر موصوف کے تمام بیانات عوام کے سامنے رکھ دوں تو لمبی چوڑی داستان بن جاۓ گی اور لوگ ان سے نفرت کا اظہار کریں گے MD اکثر سیندک، کو خوشحال چاغی کے نام سے تشبیہ دیتے تھے لیکن جتنا ظلم اور نا انصافی موصوف کے دور میں ملازمین کے ساتھ ہوئی کسی اور منیجنگ ڈائریکٹر کے دور میں کبھی نہیں ہوئی ۔اسی کے دور میں ملازمین کے تمام بونس Bonus ختم کیئے گئے اضافی چھٹیاں بند کردی گئیں تنخواہوں میں اضافے روک دیے گئے ۔اگر کوئی ملازم دس ، 12 سال کی مدت میں کسی مجبوری یا بیماری کی وجہ سے ملازمت چھوڑ جاتا وہ کسی بھی فنڈ کا حقدار نہیں کہلاتا ۔اتنا فاہدہ ضرور ملا کہ منیجنگ ڈائریکٹر کے اپنے رشتہ دار خالد گل کو خوب کمیشن مل رہی تھی جس کی وجہ سے ڈپٹی ڈائریکٹر اور وائس پریذنٹ افیسر ملازمین کی مسائل کے حل کے لیئے لاپروائی کرتے ہیں ۔ملازمین ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں ۔سیندک پروجیکٹ کے ملازمین آخر تو ملازم ہی ہیں جنہوں نے اپنے گھربار چھوڑ کر 2003 سے یہاں ملازمت کررہے ہیں ۔ملازمین کو افیسروں نے اپنا زاتی غلام بنایا ہوا ہے ۔اور یہی غلام اپنے مساہل کوحل کرنے کے بجائے اپنے اپنے خانوں اور معتبروں کے پوجا کرتے ہیں ۔

سیندک کے ملازمین جب بھی اپنی تنخواؤں کی بات کرتے ہیں تو یہی پجاری معتبر انہیں ڈرا دھمکا کر یہی کہتے ہیں کہ کام کرنا ہے کام کرو ورنہ ملازمت چھوڑ دو آپکی جگہ بہت سے آدمی بیروزگار پڑے ہوئے ہیں ۔اگر ملازم ملازمت کو چھوڑ بھی دے تو یہ اسکی جگہ انتہائی کم تنخواہ پر اپنی حمایت یافتہ افراد کو بھرتی کرتے ہیں اور ملازمت چھوڑنے والے ملازم کو کوئی فنڈ نہیں دیتے ہیں ۔اگر کوئی ملازم افیسروں کے خلاف آواز بلند کرے تو انکو مختلف طریقوں سے خاموش کراتے ہیں ترقی مخالف گروپوں کے ساتھ وابستگی کا الزام بھی لگاتے ہیں ۔ملازمین کے تنخواہ کے بارے میں کوئی قانون وضع نہیں کہ مہنگائی کے تناسب سے ملازمین کو کتنا تنخواہ دی جائے۔

ملازمین سے صرف اپنا وقتی کام نکالتے ہیں اگر دوران کام کوئی ملازم فوت بھی ہو جاتا ہے تو خالد گل منیجمنٹ کے دوچار افیسروں کے ہمراہ تعزیت کے لیئے دوچار لفظ ادا کرکے چلے آتے ہیں ۔اور ملازمین کے فنڈ سے مرے ہوئے شخص کے لواحقین کو کچھ رقم پیش کی جاتی ہے ۔میس کھانے پینے کے اخراجات میں بھی ملازمین سے کئی ڈالر کٹوتی کیجاتی ہیں ۔اگر یہی افیسر صرف ایک دن کام کی نوعیت دیکھ لے پھر ان کو پتہ چل جاتا ہے کہ مزدوری کیا ہوتی ہے کیونکہ وہ تو اپنی مرضی کے مالک ہیں جب دل چاہا دفتر گئے جب نہں چاہا نہ گئے اور مہینے کے آخر میں اپنا تنخواہ پوری وصول کرتے ہیں ۔چینی ، سیندک پروجیکٹ میں کام کرنے والے مزدوروں کے بجائے، افیسروں کو ترجیح دی جاتی ہے جبکہ ملازمین کے عزت نفس کو ہتک کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔لیبر قوانین کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا ۔آذاد میڈیا کے دور میں بھی سیندک کے ملازمین کے مساہل کو کوئی میڈیا کوریج تک بھی نہیں دیتا اور سیندک کو وزیروں اور ایم، پی، ایز کے لیئے نوگو ایریا بنا دیا گیا ہے مساہل کے حل نہ ہونے کی وجہ سے عام آدمی کا بھی سیندک پروجیکٹ سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے ۔منتخب نماہندے اور منیجنگ ڈائریکٹر اپنے اقتدار کے نشے میں ملازمین کے مساہل حل کرنے سے نالاں ہیں ۔جنکے کرتوت ملازمین کے سامنے واضح ہیں ۔صرف سوشل میڈیا پر ملازمین کے مساہل کے حل کرنا دعوے کے سوا کچھ نہیں ۔آخر میں سماجی کارکن نے کہا کہ ملازمین اپنے مساہل حل کرنے کے لیئے اتفاق و یکجہتی سے متحد ہو جائے سماجی رہنما نے کہا ہم ہر فورم پر ملازمین کے مساہل پیش کرینگے اور دنیا کو یہ بتائینگے کہ سونے اور تانبے کے پروجیکٹ میں ملازمین کے معیار زندگی کیسے گزر رہی ہیں۔

رپورٹ: الیاس بلوچ

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں