سیندک پروجیکٹ پر کام کرنے والے ملازمین کی مشکلات و شکایات پر تفصیلی رپورٹ

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز) پچھلے بیس سالوں سے سیندک پروجیکٹ کے ملازمین انتہائی ناگفتہ حالات سے گزر رہے ہیں جبکہ افسران عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں، منیجمنٹ سیندک پروجیکٹ کے ملازمین کو ہر طریقے سے دست و گریبان کر رہـے ہیں۔کھانے پینے سے لے کر بنیادی تنخواؤں تک ملازمین کو زلیل و خوار کیا جا رہا ہـے۔

جبکہ افسران کو کھانے پینے سے لے کر رہائش تک تمام سہولیات دیئے جا رہـے ہیں افسران ملازمت کے ساتھ ٹھیکیداری بھی کر رہے ہیں ۔ ٹھیکیداری میں انکو بڑا حصہ دیا جا تا ہے، خوردنی اشیا سے لے کر بڑی بڑی مشینوں تک ہر محکمہ کے افیسر کو ٹھیکیداری سونپ دی گئی ہے محکمہ Sales & Supply خورد برد کی بڑے پیمانے پر ریکارڈ جعلی طریقہ سے محفوظ کیا ہیں۔ منیجمنٹ منظم طریقے سے کرپشن کر رہی ہـے ۔

ہر افسر کروڑوں کی جائیداد کا مالک ہـے، ملازمین سے کٹوتی دُور کی بات اسکریپ میں بھی کروڑوں کرپشن کر رہـے ہیں ۔افسرز کرپشن میں مل کر چاہنیزوں کے ساتھ بی”B” ٹیم کا کردار ادا کر رہے ہیں ہر افسر کوئٹہ اور کراچی میں بنگلوں کا مالک ہیں، ملازمین کے حقوق اور آواز کو دبانے کے لیئے افسران کو کروڑوں ڈالرز کی پیشکش کی جاتی ہـے۔ کچھ افسر دو دو ڈیپارٹمنٹ کی تنخواہ بھی لے رہے ہیں۔پرائیویٹ کمپنی ہونے کے ناطے افسروں کو کوئی پوچھنے والا تک نہیں۔

افسران اپنی من مانی کر رہـے ہیں ہر ڈیپارٹمنٹ کے افسران نے اپنے قوانین بناۓ ہوئے ہیں چائنیز کمپنی افسروں سے اپنے کام نکالنے کے لیئے انہیں ہر طرح کی سہولت سے نوازتے ہیں، سفری الاؤنس ، فیملی کوارٹر ، بیماری کے اخراجات ، اضافی چھٹیاں جبکہ ملازمین کے لیئے کوئی سہولت نہیں رکھی گئی ہـے۔

ظاہر میں تو منیجنگ ڈائریکٹر اخبارات اور سوشل میڈیا میں بڑے دعوے تو کرتے ہیں مگر حقیقتاً وہ صرف اپنی برادری اور عزیز و اقارب کے لیئے کام کرتے ہیں تاکہ ان کے زریعے سے اپنی سیاسی دکانداری کو بہتر چمکائے۔

سیندک پروجیکٹ میں افسران کے لیئے الگ قانون اور ملازموں کے لیئے علیحدہ قانون بنایا گیا ہـے۔ سیندک پروجیکٹ کا ہرشعبہ کرپٹ ہـے۔ سیندک پروجیکٹ کے ملازمین کو تین مہینے بعد ایک مہینہ چھٹی دی جاتی ہـے جبکہ افسران کو ہر مہینے لا تعداد چھٹیاں دی جاتی ہیں۔

افسران کے لیئے فری فیملی کوارٹر کی سہولت دی جاتی ہے جبکہ ملازمین کے لیئے کوئی فیملی کوارٹر نہیں ایڈمن کے افسران کے لیے پک اپ کے لیئے فری آئل ، فری مینٹینینس اور گیٹ پاس دیا جاتا ہے جبکہ ملازمین کے موٹرسائیکل چلانے کی بھی اجازت نہیں۔

ہمارے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق سیندک افسران کے لیئے جنت جیسی نعمت سے کم نہیں جبکہ ملازمین کو تمام بنیادی سہولیات سے محروم کر رکھا گیا ہـے۔ صحت کے حوالے سے انہوں نے ملازمین سے بات کرتے ہوئے حقیقت جاننے کی بھی کوشش کی، ایک طِبیّ سماجی رہنما نے نمائندے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہاں ناقص خوراک ، آلودہ پانی ، اور مختلف کیمیائی زہریلی گیسوں کے اخراج سے ہرسال تقریبا 10 سے پندرہ افراد ہارٹ اٹیک ، فالج ، جوڑوں کی خرابی اور گردوں کی ناکاری کا شکار بھی ہوجاتے ہیں۔ناقص خوراک اور آلودہ پانی کو مختلف لیبارٹیوں سے چیک کیا گیا جنکا ph لیول اور کیلشیم ، کلورائیڈ ،میگنیشیم ، فلورائڈ بالکل نہیں پائے گئے۔

پانی میں گلیسرین اور دیگر کیمیکل ملا کر مشینریز اور دیگر قیمتی آلات کو زنگ نہ لگنے کے لیئے استعمال کیا جاتا ہـے، مذکورہ پانی استعمال کرنے سے دل کے شریانوں کو نقصان ہوتاہے جنکے باعث لوگ نہ صرف دل کی بیماریوں بلکہ اعصابی بیماری ، گردوں اور دیگر خطرناک بیماریوں کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔

ایک اور ملازم نے کہا کہ اس جدید دور میں بھی چائے بنانے والے پاؤڈر کو واشنگ مشین میں ڈال کر حل کیا جاتا ہے جن سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حفظانِ صحت کا خیال نہیں رکھا جاتا ہـے طبی سماجی کارکن نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ہمیں صحت کے حوالے سے کام کرنے کے لیئے سکیورٹی اور دیگر مشکلات کا سامنا ہے ہم کوشش کر رہے ہیں کہ بیماریوں کی وجوہات کو لوگوں کے سامنے آشکارا کریں تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ استفادہ حاصل کریں اور بیماریوں سے بچنے کے لیئے احتیاطی تدابیر کے اصولوں پر عمل کریں۔

ناقص خوراک اور آلودہ پانی کو مختلف لیبارٹیوں سے چیک کیا گیا جنکا ph لیول اور کیلشیم ، کلورائیڈ ،میگنیشیم ، فلورائڈ بالکل نہیں پائے گئے پانی میں گلیسرین اور دیگر کیمیکل ملا کر مشنریوں اور دیگر قیمتی آلات کو زنگ نہ لگنے کے لیئے استعمال کیا جاتا ہـے۔

مذکورہ پانی استعمال کرنے سے دل کے شریانوں اور والز کو نقصان ہو جاتا ہے جنکے باعث لوگ نہ صرف دل کی بیماریوں بلکہ اعصابی بیماری ، گردوں اور دیگر خطرناک بیماریوں کا شکار بھی ہو جاتے ہیں ایک اور ملازم نے کہا کہ اس جدید دور میں بھی چائے بنانے والے ملک پاؤڈر کو واشنگ مشین میں ڈال کر حل کیا جاتا ہے جن سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حفظانِ صحت کا خیال نہیں رکھا جاتا ہـے طبی سماجی کارکن نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ہمیں صحت کے حوالے سے کام کرنے کے لیئے سکیورٹی اور دیگر مشکلات کا سامنا ہے ہم کوشش کر رہے ہیں کہ بیماریوں کی وجوہات کو لوگوں کے سامنے آشکارا کریں تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ استفادہ حاصل کریں اور بیماریوں سے بچنے کے لیئے احتیاطی تدابیر کے اصولوں پر عمل کریں۔

رپورٹ: الیاس بلوچ

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں