سی پیک سے چین کے بیدخلی کاپاکستانی منصوبہ

کوئٹہ / مضمون (ریپبلکن نیوز) گوکہ سی پیک (چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور) چین وپاکستان کے نام سے منسوب ہے لیکن آنے ولے دنوں میں یا تو چین مکمل طور پر اس پروجیکٹ سے خارج کیا جائیگا یا اُس کا کنٹرول پوزیشن محدود کرکے ایک عا م شراکت دار کے طور پر رہ جائیگا۔

کیونکہ دنیا کی تمام عالمی قوتوں کی طرح پاکستان بھی نہیں چاہتا ہے کہ چین ایک دن عدم ادائیگی کے بہانے گوادر پر زمباوے اور سری لنکا کے بندرگاہوں کی طرح قبضہ کرکے بیٹھ جائے۔ پاکستان سے پہلے اِسی خدشے کے پیش نظر ملائیشیانے سنگاپور تک 27 بلین ڈالر کے ہائی سپیڈ ریلوئے منصوبہ اور 20بلین ڈالر کے مشرقی ساحل کو مغرب سے ملانے والی 688 کلومیٹرریلوئے لنک پروجیکٹ کو کینسل کیا۔وہاں بظاہر یہ عذر پیش کیا گیا کہ چین کے ان منصوبوں سے ملائیشیا کو کوئی فاہدہ نہیں ہوگا کیونکہ چین ان تمام پروجیکٹس پرکام کیلئے استعمال ہونے والے ساز وسامان سے لیکر مزدور تک چین سے لاتا ہے۔

اس طرح جو پیسہ چین یہاں خرچ کرتا ہے وہ واپس چین جاتا ہے۔حال ہی میں دو افریقی ممالک سیرالیون نے 318 ملین ڈالر کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کےمنصوبے کو منسوخ کیا اور تنزانیہ نے اس منصوبے کے تحت 10 بلین ڈالر کے پروجیکٹوں کو رد کردیا کیونکہ اُنھیں بھی یہ بات سمجھ آگئی کہ یہ کالونیلزم کی نئی اور بدترین شکل اُبھر رہی ہے جس کے تحت چین پہلے غریب ملکوں کو قرضوں کے بوجھ تلے دبائے گا بعد میں جب وہ ان قرضوں کا بوجھ نہیں ڈھوپائیں گے تو اُنھیں مجبوراًاپنی آزادی رہن رکھنی پڑے گی۔لہذا اُنھوں نے اس پروجیکٹ کے ابتدائی مرحلوں میں خود کو الگ کر کے دائمی غلامی کے چنگل میں پھنسنے سے آزاد کرنے کاراستہ اختیار کیا حالانکہ مذکورہ چینی پروجیکٹس سے اُنھیں وقتی طور پرریلیف ملنے کا امکان موجود تھا لیکن اُنھوں نے اسے شہد میں زہر جان کر لینے سے انکار کیا۔ اسی خدشے کے پیش نظرواشنگٹن کے تھنک ٹنیک سینٹر فار گلوبل ڈیولپمنٹ نے بڑی دقیق تجزیہ کے بعد یہ نتیجہ اخز کیا ہے کہ مسقبل میں مالدیپ،لاوس، پاکستان،جبوٹی،منگولیہ،مونٹینیگرو،تاجکستان،کرغیستان ون بیلٹ ون روڈ کے منصوبے کے تحت چینی قرضوں کے بوجھ تلے ایسے دب سکتے ہیں کہ اُن کا پھر سے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا مشکل لگتا ہے۔

پاکستانی حکام بھی کب کا یہ جان چکے ہیں کہ وہ دوستی کے نام پر لئے گئے قرضوں اور منصوبوں میں چینی شراکت داری سے اُسکے چنگل میں بُری طرح پھنس چکے ہیں اوراگر قرضوں اور شراکت داری کا یہی رفتار رہا تو دنیاکی کوئی طاقت پاکستان کو چین کا کالونی بننے سے نہیں روک سکتا۔لیکن پاکستانی حکمران اپنی بے پناہ داخلی و خارجی، اقتصادی و سیاسی مسائل میں الجھنے کی وجہ سے چین کو براہ راست نا کہنے کی پوزیشن میں نہیں تھے اُوپرسے اُنکے چین کے ساتھ سی پیک و دیگر معاہدات سے امریکہ اور دیگر قوتیں خوش بھی نہیں تھیں۔

پاکستان نے امریکہ کو راضی کرنے بیک وقت دو سخت قدم اُٹھا کرساتھ میں امریکہ کو ایک بڑا لالچ دے کر اپنے جال میں پھنسایا ایک طرف اُس نے سی پیک کی طرح پاک روس اکنامک کوری ڈور کا شوشا چھوڑااور روس کے ساتھ قربتیں بڑھانے کا تاثردیا دوسری طرف امریکہ کی کمزور ی افغانستان میں دہشتگردوں کے حملوں میں شدت لانے نئی قوت اور بھاری سرمایہ جھونک دیا اس وقت افغانستان میں سرگرم 20 کے قریب دہشتگرد تنظیموں کی اکثریت براہ راست آئی ایس آئی کے پیرول پرہیں جبکہ طالبان و داعیش وغیرہ میں اپنے گروپس رکھنے باوجود لشکر طیبہ اورجیش محمد جیسی تنظیمیں پاک افغان سرحد پر ڈھیرہ ڈالے ہوئے ہیں جو آزادانہ سرحد کے اُس پار کاروائیاں کرکے اس پار آجاتے ہیں اور ایک سروے کے مطابق لشکر طیبہ افغانستان میں موجود دہشتگرد تنظیموں میں قوت کے لحاظ سے پانچویں نمبر پر ہے۔یوں پاکستان نے اپنے بلیک میلنگ کے روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ایک طرف امریکہ کو روس و چین کی آمد سے ڈرایا دوسری طرف افغانستان میں اُس کیلئے دہشتگردوں کے حملوں میں شدت لایا۔ایسے میں جب امریکہ اور اتحادی سوچ رہے تھے کہ کیا نیا کیا جائے جو افغانستان سمیت پورا خطہ ہاتھ سے نہ نکل جائے تو پاکستان نے بظاہر ایک دلکش منصوبہ پیش کیا جس کی رو سے پاکستان چین کو گوادر سے بیدخل کرنے راضی ہے،روس کیساتھ معاہدات بھی حسب سابق امریکہ کی رضامندی سے مشروط ہوں گی اور افغانستان سے امریکی افواج کو نکلنے محفوظ راستہ دینے طالبان کو امریکہ کیساتھ بات چیت کے میز پر لایا جائے گا۔

بدقسمتی سے امریکہ پاکستان بارے اپنے سابقہ تمام منفی بیانات وبداعتمادی کے باوجود اُس کے چنگل میں پھنس گیا۔اور یوں پاکستان بارے امریکی لہجے میں شیرینی آتی گئی اور طالبان دہشت گرد سے سیاسی قوت قرار پائے اور امریکہ طالبان گفت وشنید کا آغاز ہوا۔ پاکستان کی خواہش پر امریکہ نے سعودی عرب کو گوادر میں آئل ریفائنری منصوبے میں سرمایہ کاری پر آمادہ کیا۔ یہاں سعودی عرب کو سرمایہ کاری پر مائل کرنے میں اُس خفیہ معاہدے کی تفصیل سے آگاہی نے بھی بنیادی کردار ادا کیا کہ جو دوسری بلوچ مزاحمت کے دؤراں 1958 ء میں پاکستانی صدر اسکندرمرزا اور شہنشاہ ایران کے درمیان طے پایا تھا جسکی رو سے پاکستان ساٹھ سال تک بلوچستان کے خشکی و سمندر میں موجود تیل کے ذخائر کو ہاتھ نہیں لگائے گا (جن کا تخمینہ 6ٹریلین بیرل کے برابرلگایا جاتا ہے)کہ جس سے ایران میں نکالے جانے والے تیل پر اس کے گہرے منفی اثرات مرتب ہوں گے بدلے میں ایران پاکستان کو اپنی سالمیت برقرار رکھنے سفارتی و عسکری مدد فراہم کر ے گا۔ ماضی میں اسی معاہدے کے تحت جب بھی بلوچستان میں آزادی کی تحریک اُبھری ہے ایران نے پاکستان کی بھرپورمدد کی ہے۔اور آج بھی وہ پاکستان کو اس تحریک کو کچلنے اور اندرسے کھوکھلا کرنے ہر طرح کی سازشوں میں ساتھ مدد فراہم کررہا ہے۔

امکانات ہیں کہ گوادرمیں پہلے مرحلے میں سعودی عرب اور عرب امارات سرمایہ کاری کریں گے دوسرے مرحلے میں قطر بھی سعودی عرب اور امارات سے اختلافات کے باوجو د امریکہ کے کہنے پرسرمایہ کاری کرے گا اور تیسرے مرحلے میں خود امریکہ شامل ہوگا ان تمام کا مجموعی سرمایہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق پچاس سے ساٹھ بلین ڈالر کے قریب ہوگا جو 2030 تک جو سی پیک کے تکمیل کا سال ہوگا 110, 120 بلین ڈالر کے قریب پہنچ جائے گا جبکہ اُس وقت تک چینی سرمایہ کاری90, 95 بلین ڈالر تک پہنچنے کے امکانات ہیں۔سعودی عرب اب تک دس ارب ڈالر کے دستاویزات پر دستخط کر چکاہے اور ساحلی پٹی پر 30سے 36ہزار ایکٹرزمین خریدنے کے گفتگو میں مصروف ہے اب جب امریکہ کی سرپرستی میں کئی سرمایہ دار عرب ممالک گوادر میں سرمایہ کاری راضی ہوچکے ہیں تو پاکستان کیلئے مشکل نہیں کہ رسمی طور پر روس کو بھی سی پیک میں شامل کرنے اور پاک رشیا اکنامک کوری ڈور کی بات آگے بڑھائے تاکہ تمام قوتوں کو اس سے کسی نہ کسی طرح منسلک کرکے بلوچ قوم کے خلاف سب کی ہمدردیاں حاصل کرے جو اس وقت سی پیک اور اس جیسی تمام پاکستانی منصوبوں کو اپنے وجود کو خطرے کے طور پر دیکھتی ہے اور ان کے سامنے آخری حد تک جانے کسی بھی قربانی سے نہیں ہچکچارہی ہے۔

 افغان وبلوچ کے بدلے چین کی بیدخیلی: پاکستان بدترین بحرانی کیفیت اور اپنے بارے امریکہ میں منفی رائے رکھنے کے باوجو د امریکہ کے ساتھ یہ ڈیل کرنے کامیاب ہوا جس کے تحت وہ چین کے سی پیک میں اُسکے لئے مشکلات پیدا کرے گا۔ اپنی باتوں میں سنجیدگی کے اظہار کے طور پر فوج نے نواز شریف کی حکومت کو ہٹایا جس سے خدشہ تھا کہ وہ اس منصوبے کے خلاف اس حد تک جانے کیلئے شاید راضی نہ ہویا خواہ مخواہ کے مشکلات پیدا نہ کردے۔یا اس کو یہ بات سمجھانے میں وقت درکار ہو جو پاکستان کے پاس بالکل بھی نہیں کہ وہ ان ڈالروں کے بدلے سونے کی چڑیا بلوچستان کو ہاتھ سے گنوائے گا۔جو قرضہ چین سے لے کر اب خُرد بُرد ہورہے ہیں اس کے بدلے کل گوادر اور بلوچستان سے چین اُنھیں بے دخل کردے گا اس کا مطلب ہے نہ رہا بلوچستان تو نہ رہے گا پاکستان۔داخلی کشکمش سے سی پیک کے رفتار میں سست روی اور پاکستان اور چین کے تعلقات میں سردمہر ی آنے لگی جس کی وجہ سے بلتستان انرجی جیسے پروجیکٹ سردخانے کی نذرہوئے۔ایسے ہی سی پیک کے فنڈ ز سے 171.6ملین ڈالر زوزیر اعظم نے ترقیاتی منصوبوں کے نام پر اپنے پارٹی ایم پی،ایم این وغیرہ کو جاری کئے جو چین کوہرگز پسند نہیں لیکن پاکستان کی طرح چین بھی بلیک میل ہے کیونکہ جو معاہدات پاکستان نے اُس کے ساتھ کئے ہیں وہ آج تک عام آدمی تو کیا پارلیمنٹ میں بھی پیش نہیں کئے گئے۔یقیناً اُن معاہدات میں پاکستانی حکمرانوں نے ایسے شرائط پر پیسے لئے ہیں کہ جو سرزمین کے اصل اسٹیک ہولڈر بلوچ کے مزید اشتعال کا سبب بنے بلکہ اُن کا ایسا استحصال شاید عالمی ضمیر کو بھی جھنجھوڑ دے۔چنانچہ چین کو معلوم ہے کہ جو معاہدات چین نے پاکستان کے ساتھ کئے ہیں اور جس طرح پاکستان نے دہشتگردی کو ریاستی پالیسی بناکر اُس کے بھنور میں بُری طرح پھنس چکا ہے اس کے باعث پاکستان بہت دیر تک کوئی بھی کارڈ کھیل نہیں سکتا آج اگراپنے داخلی و خارجی دباؤ کو کم کرنے جز وقتی امریکہ کو کوئی وعدہ دے کر راضی کیا ہے تو کل اِس کی وعدہ خلافی کرکے اُسے پہلے سے بھی زیادہ ناراض کرے گا۔یوں یہ ہیرونچی نما ملک پھر سرجھکائے چین کے ہی پاس آئے گا۔

اس لئے وہ سی پیک میں دوسروں کی شرکت اور سی پیک کے فنڈز دیگر شعبوں میں منتقلی،سی پیک پروجیکٹس کے کاموں میں سسُت روی،چین کی طرف سے دئے گئے ملازمتوں اور اسٹوڈنٹ ویزوں میں پاکستانی حکام کی آخری درجے کی بددیانتی جس سے مقامی لوگوں کے دلوں میں نفرت پھیلنے کا شعوری اہتمام شامل ہے پر ناراض ہونے کے باوجود سخت بیانات و اقدامات سے اجتناب کررہا ہے۔ امریکہ کے ساتھ اس کثیر الجہتی پاکستانی فراڈ کے نتیجے میں پاکستان کو بیک وقت کئی ریلف ملے پہلے اُس کے اُوپر سے بین القوامی دباؤ کسی حد تک کم ہوگیا جس کی وجہ سے وہ بدترین تنہائی کا شکار تھا دوسرا اُس کے دہشتگردوں پر ڈرون حملے بند ہوئے،تیسرا اُسے آئی ایم ایف سمیت کئی ممالک سے قرضہ ملنے لگے چوتھا اُس کے پروردہ طالبان دہشتگرد سے سیاسی قوت قرار پائے پانچواں بلوچ جہد بارے امریکہ کے موقف میں بظاہرمنفی تبدیلی رونما ہوکر بی ایل اے دہشتگرد ٹھہراجبکہ چھٹا اور بہت اہم کامیابی یہ ملی کہ افغانستان میں اُس کی مرضی کی حکومت قائم کرنے امریکہ اُس کے اشاروں پر برسراقتدار اشرف غنی حکومت کواعتماد میں لینے کے بجائے پاکستانی اظہاریے میں وہاں طالبان کو قابل قبول کئیرٹیکر حکومت بنانے زیادہ دلچسپی کا اظہار کررہا ہے۔

اگر غور سے دیکھا جائے تو اس تناظر میں امریکہ کو کچھ بھی ہاتھ نہیں آنے والا سارے کے سارے مفادات پاکستان ہی حاصل کرے گا چائے وہ مفادات عارضی ہی کیوں نہ ہوں۔افسوس اس بات کا ہے کہ امریکہ نے افغانوں اور بلوچوں کو پاکستان کے رحم کرم پر چھوڑ دیا یا چھوڑنے جارہا ہے اور وہ بھی اس پاکستانی یقین دہانی پرکہ افغانستان میں نہ صرف اُسے نکلنے محفوظ راستہ دیا جائیگا بلکہ یہاں امریکی مفادات کا تحفظ کیا جائیگا۔

جبکہ حقیقت یہ ہے پاکستان چین کی گرفت کو ڈھیلا کرنے امریکہ کو اس خطے میں تنہا کرکے بدترین مشکلات سے دوچار کرکے چھوڑے گا۔ افغانوں کو طالبان کے رحم و کرم پر چھوڑنے کا عمل ہو کہ بلوچوں کے نسل کُشی پر خاموشی اورلا تعلقی امریکہ کو پھر اُسی بیانیہ کو دؤرانے مجبور کرے گا کہ ہم نے پاکستان کو اتحادی سمجھ کر اربوں ڈالر دیئے جبکہ پاکستان نے ہمارے پیسوں سے دہشتگردوں کو مضبوط کرکے ہمارے لوگوں کا قتل کیا۔آخر میں صرف اتنا کہنا باقی ہے کہ امریکہ سمیت کوئی بھی اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو کہ موجودہ حالات میں طالبان عام معاشرے میں جذب ہوکر پُرامن زندگی گزاریں گے یا افغان اپنی مرضی کی حکومت قائم کرسکیں گے ایسا اس لئے ممکن نہیں ہے کہ افغانستان کے پہلومیں پاکستان ہے اور افغانستان میں پاکستان طالبان ہی کی نہیں بلکہ کئی اور بھیانک صورتوں میں موجودہے اورجو جنگ افغانستان میں لڑی جارہی ہے وہ براہ راست پاکستان لڑرہاہے اور وہ یہ جنگ اُس وقت تک برقرار رکھے گا جب تک افغانستان پر بلوچستان کی طرح قبضہ نہیں کیاگیا ہے یا پاکستان خود ٹوٹ کر نہیں بکھرا ہے۔ تیسرا رستہ ایک خوش فہمی ہے،ایک سُراب ہے جس میں ابھی پاکستان نے امریکہ کو چلنے آمادہ کیا ہے۔

تحریر: حفیظ حسن آبادی
: نوٹ: درج بالا خیالات مصنف کی اپنی رائے ہے ریپبلکن نیوز اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں