شہید نواب اکبر خان بگٹی کایومِ شہادت: سوشل میڈیا پر بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا گیا

سوشل میڈیا ڈیسک (ریپبلکن نیوز) بلوچ رہنما نواب اکبر خان بگٹی کی 13ویں برسی دنیا بھر میں انتہائی عقیدت و احترام کیساتھ منائی گئی بلوچ ریپبلکن پارٹی کی جانب سے یورپ کے مخلتف شہروں سمیت بلوچستان بھر میں تقاریب کا انعقاد کیا گیا

یاد رہے کہ بلوچستان کے قوم پرست و بزرگ رہنما نواب اکبر خان بگٹی کو تیرہ سال قبل 26اگست 2006 کو ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے سنگم پر واقع تراتانی کے پہاڑی سلسلے میں ایک وسیع فوجی آپریشن کی دوران شہید کیا گیاتھا۔

شہید نواب اکبر بگٹی نے آخری دنوں بی بی سی اردو سروس کے ساتھ ایک انٹرویو میں بتایا کہ ان کے خلاف وسیع پیمانے پر فوجی آپریشن کیا جارہا ہے جس میں ایس ایس جی کمانڈوز سمیت تین لڑاکا طیارے اور انیس فوجی جنگی ہیلی کاپٹر حصہ لے رہے ہیں جو مسلسل ان کے ارد گرد ان کو نشانہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔

بلوچ رہنما کی برسی کے موقع پر سوشل میڈیا پر بلوچ کارکنان اور مخلتف مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے انہیں خراج تحسین پیش کیا اور ٹویٹر پر ٹویٹ کر کے ڈاڈائے قوم کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

ممتاز پشتون دانشور ڈاکٹر محمد تقی نے شہید نواب بگٹی کی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے ایک شعر لکھا ” جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے یہ جان تو آنی جانی ہے اس جاں کی تو کوئی
بات نہیں”۔

جبکہ بلوچ رہنما نواب مہران مری نے اپنے مرحوم والد نواب خیر بخش مری کے ساتھ شہید نواب بگٹی کی تصویر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ "آج شہید نواب اکبر خان بگٹی کی برسی منائی جارہی ہےجنہں فوجی عامر جنرل مشرف نے قتل کیا تھا۔

‏سوشل میڈیا پر متحرک فرِح درویش نامی صارف نےشہید نواب بگٹی کی ایک یادگار عکس شئیر کرتے ہوئے لکھا ہمارا رہنما ہمارا ہیرو ۔

عاصمہ بلوچ لکھتی ہے کہ "بہادر انسان مشکل وقت میں بھی مسکراتا ہے اور تکلیف میں ہمت ہمت جٹاتا ہے ‏”۔

ریپبلکن نیوز کے چیف ایڈیٹر باہوٹ بلوچ نے لکھا” شہید نواب اکبر خان بگٹی نے بلوچ مادرِ وطن کی دفاع میں جامِ شہادت نوش کیا۔ شہید کو ہمیشہ سنہرے الفاظ میں یاد رکھا جائیگا”۔

ناصر نامی صارف نے لکھا” میں شہید نواب اکبر خان بگٹی اور انکے ساتھیوں کو انکی یومِ شہادت پر بھرپور خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں، شہید نواب اکبر خان بگٹی نے بلوچ آزادی کی تحریک سے دستبرادی کے بجائے اپنی آخری سانس تک تحریک کے لیے اپنا کردار ادا کیا”۔

سماجی کارکن نور مریم نےشہید نواب اکبر بگٹی کی تصویر کے ساتھ ان کا مشہور قول بھی شہیر کیا کہ "بستر پر سسک کر مرنے سے بہتر ہے کہ پہاڑوں میں اپنے وطن کیلئے جان دے دوں”۔

‏معروف صحافی کامران شفیع لکھتے ہیں کہ "کوئٹہ میں نواب بگٹی سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا جہاں انہوں نے کہا تھا کہ ایک دن مجھے بھی مار دیا جائے گا”۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں