شیعہ مسنگ پرسنز کے لواحقین نے صدر پاکستان کی رہائشگاہ کا گھیرا کرلیا

کراچی (ریپبلکن نیوز) پاکستان کے شہر کراچی میں صدر مملکت عارف علوی کی نجی رہائش گاہ کے باہر جاری شیعہ مسنگ پرسنز کے دھرنے کا پولیس نے گھیراؤ کرلیا ہے، تنظیم کا کہنا ہے کہ حکومت اور انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ مذاکرات میں ناکامی پر پولیس ایکشن میں آگئی ہے۔

بہادر آباد تھانے میں دھرنے کے شرکاء کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے، جس میں مدعی اے ایس آئی تعویذ گل نے بیان دیا ہے کہ صدر پاکستان عارف علوی کی رہائش گاہ محمد علی سوسائٹی بہادرآباد میں مسنگ پرسنز کمیٹی کے سربراہ راشد رضوی، صغیر جاوید، صفدر شاہ، حسن رضا و دیگر اشخاص کے اکسانے پر نامعلوم افراد نے، جن میں عورتیں بھی شامل تھیں جن کی تعداد ڈھائی سو سے تین سو کے درمیان ہے دھرنا دیا ہوا ہے۔

ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ دھرنے میں کچھ اشخاص مسلح ہیں اور ڈنڈوں سے بھی لیس ہیں اور وہاں نعرہ بازی، ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ، ٹریفک اور پیدل اشخاص کی آمد و رفت میں مزاحمت، حکومت و ملک اور فورسز کے خلاف نعروں اور امن و امان کے قوانین کی خلاف ورزی ہو رہی تھی اور شرکاء اپنے بیانات سے ملک کو فساد کی طرف بھی دھکیل رہے تھے۔

وائس فار شیعہ مسنگ پرسنز کے سربراہ راشد رضوی کا کہنا ہے کہ دھرنے کو گیارہ دن ہوگئے ہیں جس میں خواتین اور بچے بھی موجود ہیں جو اس گرمی میں روزے کے ساتھ ہیں، یہ پرامن دھرنا ہے جس میں ایک گملہ تک نہیں توڑا گیا۔

وائس فار شیعہ مسنگ پرسنز کے مطابق پورے پاکستان سے 80 شیعہ نوجوان لاپتہ ہیں جن میں سے 41 کا تعلق کراچی سے ہے، جن کی بازیابی کے لیے گذشتہ تین سالوں سے تحریک جاری ہے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں