صدائے بلوچ

صداۓ بلوچ
تحریر: نوھان کلمتی

کوئٹہ/مضمون (ریپبلکن نیوز) اس میں کوئی شک نہیں بلوچ ایک مفتوع قوم ہے بلوچستان ایک مقبوضہ ملک ہے جس پر نہایت بھونڈے اور شاطرانہ انداز سے غیر آئینی و غیر قانونی الحاق کا ڈرامہ رچاکر 1948 میں قبضہ کیا گیا۔

مگر بڑی معذرت کے ساتھ یہ کہنا بھی غلط نہیں ہوگا کہ بلوچ قوم پرستی کے دعویدار سرگرم عمل سیاسی قوتیں جن کا تعلق پارلیمانی و جمہوری سیاست سے ہو یا آزادی و خود مختاری کے جدوجہد سے ایک طویل جدوجہد کے باوجود اب تک خاطرخواہ کامیابی حاصل نہ کرسکے نہ ہی بلوچوں کو قبائلی درجہ بندیوں چھوٹے موٹے سیاسی ٹکریوں سے نکال کر ایک منظم و مستحکم قوم بنانے میں کامیاب رہے ہیں جو ایک المیہ ہے۔

کیا وجہ ہے یا وہ کون سے عوامل رہے ہیں بلوچ سیاسی جدوجہد کے راستے میں رکاوٹ بن کر بلوچ سیاست دانوں تنظیموں اور سیاسی پارٹیوں کے باہمی اتحادو اشتراک کے عمل میں حائل اب تک ایک منظم و مستحکم قوم کے قیام کی خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا بلوچ اب تک درجہ بندیوں ٹکریوں قبائلیوں میں تقسیم محکومی و پسماندگی سے نجات حاصل نہ کر سکی۔

اس بارے میں دوچار بے ربط سطریں یکجا کرنے کی کوشش کروں گا اور دانشور حضرات سے بھی ہماری یہ گزارش ہوگی کہ وہ بلوچ سیاست و سیاسی جدوجہد کے موجودہ صورتحال کامیابیوں ناکامیوں کمزوریوں کوتاہیوں کے متعلق لکھیں اور ہماری رہنمائی کریں کیونکہ ادیب دانشور شاعر اور قلمکار ڈومب و اگازی نہیں قوموں کے کھلی آنکھ ہوتے ہیں۔

آگے بڑھنے سے پہلے اس بات کی وضاعت کرتا چلوں کہ میرا کسی سیاسی پارٹی اور تنظیم سے کوئی تعلق نہیں البتہ میں ہر اس پارٹی تنظیم دانشور قلمکار اور شاعر کا انتہائی احترام کرتا ہوں جو کسی نہ کسی حوالے سے بلوچ قوم اور بلوچستان کی بہتری کیلۓ سوچتے ہیں اس جدوجہد میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں لہذا میرے ان چند بے ربط سطروں کو میری زاتی راۓ اور مجھے ایک عام بلوچ و بلوچستانی سمجھا جاۓ۔

ہمارے چند پرجوش سیاسی جوان و نوجوانوں کو ہم قدرے روایتی پرانے خیالات کے لوگوں سے ہمیشہ یہ شکایت ہوتی ہے اور اس بات پر زیادہ غصہ و اعتراض کرتے ہیں کہ ہم اپنے مضامین میں حال و مستقبل سے زیادہ ماضی رفتہ کی داستان گوئی اور ان گزرے ہوۓ سیاسی اکابرین جن کا بلوچ سیاست و سیاسی جدوجہد میں کلیدی کردار رہا ہے کا ذکر کرکے کیوں اپنا وقت ضائع کرتے ہی ۔

ان کے نزدیک یہ قومی خدمت ہے نہ ہی اس سے بلوچوں کو کچھ حاصل ھوگا وہ سمجھتے ہیں اس طرح کے فضول بحث و مباحثہ مظلوم و محکوم بلوچ عوام کو موجودہ محکومی و پسماندگی سے نکلنے و چھٹکارہ پانے میں کسی طرح معاون و مددگار ثابت نہیں ہوگا تو لہذا ہمیں اس سے اجتناب کرنا چایئے۔

ان جوان و نوجوانوں کے رنگوں میں رنگ بھرنا چایئے، ہمارے پرجوش نوجوان طبقہ اس طر ح کے Acdamic مضامین و بحث مباحثہ سے ہمیشہ پہلو بدلتے رہے ہیں رد کرتے رہے ہیں اور اسے اپنے اور اپنے لیڈروں کی مخالفت گردانتے ہیں جس کے سبب کھبی کھبار جذباتی ہوکر اخلاقی و تہذیبی داہرے سے نکل کر گالم گلوچ پر اترآتے ہیں جو بلوچ سیاست اور سیاسی جدوجہد میں اچھی بات نہیں ۔

ہم سمجھتے ہیں سیاسی اختلاف راۓ رکھنا ہر ایک کا حق ہے یہی سیاست و سیاسی جدوجہد کی خوبصورتی اور اصل روح ہے، ماضی کے صورتحال مشکلات تجربات کامیابیوں و ناکامیوں سے سبق حاصل کرنے سے اور ان عظیم شخصیات کے مثبت و تعمیری کرداروں کو سامنے رکھ کر آگے بڑھنے اور مستقبل کی راہوں کو متعین و تلاش کیا جاسکتا ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں جن قوموں نے اپنے ماضی کے تلخ و شیرینیوں کو یاد رکھا اپنے تاریخ سے سبق حاصل کی اور اپنے عظیم اکابرین کے نقش قدم پر چلتے رہے ان کے جہد مسلسل سے استفادہ کرکے انہیں مشعل راہ بنایا تو انہوں نے اندھیری راتوں کو پرنور سحر سے بدل دیا ہے یہی ان قوموں کے کامیابی کی کنجی رہی ہے ورنہ ڈومب و اگازی تو ڈومب اگازی ہوتے ہیں جو صرف محفلوں کو خوبصورت بناتے ہیں گرما دیتے ہیں قوموں کی تقدیر بدلنے میں ان کا کوئی کردار نہیں ھوتا۔

تاریخ کی بلندی اور بدتری اپنی جگہ لیکن سیاست ہو یا معاشرہ مذہب ہو یا انسانیت نامور اور ممتاز شخصیات کی اہمیت اور کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا یہی وہ کردار ہوتے ہیں جو قوموں کی زندگی میں شعورو آگہی اور انقلابی بیداری پیدا کرنے میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ تاریخ رقم کرتے ہیں اور تاریخ کا حصہ بھی بن جاتے ہیں۔

آپ سیاست معاشرت مذہب اور انسانی زندگی کا تجزیہ کریں مشاعدہ کریں یہ تمام چیزیں نامور و ممتاز شخصیات کے کرداروں کے گرد گھومتے نظر آتے ہیں۔بلوچ قوم کی سیاسی جدوجہد کی تاریخ میں نواب مگسی نواب اکبر خان بگٹی میر غوث بخش بزنجو نواب خیر بخش مری میر گل خان نصیر اور سردار عطااللہ مینگل بہت بڑے اور بلند نام ہیں۔

نواب مگسی اور میر بزنجو کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے تاریخ میں پہلی بار بلوچ عوام کو سیاسی بنیادوں پر متحد کرنے اور بلوچ قوم پرستی کی زوردار انداز میں تبلیغ اور پرچار کی ابتدا کی۔

یہ نواب مگسی ہی تھے جنہوں نے اپنی دولت و آرام و آساہش کی زندگی سب کچھ بلوچ قوم کی سیاسی محکومی معاشی بدحالی اور تہذیبی پسماندگی سے نجات دلانے کیلۓ قربان کردی۔اسی طر ح میر بزنجو نے اپنے پیش رو کی تقلید کرتے ہوئے پچاس سال تک اسی سیاسی جدوجہد میں گزارے جس میں کم و بیش پچیس سال جیل و زندانوں کے نظر ہوئے جبکہ نواب اکبر خان بگٹی نے زندگی کے آخری ایام میں وہ کر دکھایا جس پر ہر بلوچ کو فخر ہے گویا انہوں نے بلوچ سیاست و سیاسی جدوجہد کی آبیاری اپنے خون سے کرکے اسے زندہ رکھا توانائی بخشی۔

بلوچ سیاسی تحریک میں دو تاریخی رحجانات رہے ہیں، پہلا مسلح جدوجہد دوسرا جمہوری طرز سیاست، جس دور اور زمانے میں یعنی 1920 کی دہائی کے اوائل سے جب بلوچ سیاسی تنظیمیں وجود میں آنا شروع ہوئیں تب بلوچستان میں مسلح جدوجہد کا زور ٹوٹ چکا تھا اور ہندوستان میں برطانوی راج سے نجات حاصل کرنے کیلۓ انڈین نیشنل کانگریس کی قیادت میں جمہوری اور پرامن طرز جدوجہد کو زبردست پزیرائی حاصل ہورہی تھی جس سے بلوچ تحریک اور سیاسی جدوجہد بھی متاثر ہوئی، اس لیۓ قلات اسٹیٹ نیشنل پارٹی کو آل انڈیا پیپلز کانگریس سے منسلک کیا گیا۔

یاد رہے ان ہی انگریز مائی باپوں نے اس سے قبل بلوچستان کو ٹکڑوں میں بانٹ کر اس کے وسیع علاقوں کو ایران اور افغانستان کو دیئے تھے اب بچا کچھا قلات جس میں مکران خاران لس بیلہ مری بگٹی علاقے اور مستجار علاقے شامل تھے ان کے بندر بانٹ کا ڈرامہ رچایا جارہا تھا، قلات کو پاکستان میں شامل کرنے کا راستہ ہموار کیا جارہا تھا اس ڈرامے کا دو اہم کردار مسٹر جناح اور خان قلات میر احمد یار خان ہی تھے مگر بلوچ سرداروں نے بھی اس بہتی گنگا میں اپنے ھاتھ دھوۓ۔

اس ڈرامے کا ڈراپ سین یہ ہوا کہ مکران خاران اور لس بیلہ کے سرداروں نے اپنے دئیے گئے رول کے مطابق یہ کہنا شروع کیا کہ وہ قلات میں شامل نہیں ہونا چاہتے اور نہ ہی قلات کا حصہ ہیں ۔یہی صورتحال برٹش بلوچستان کے سرداروں کا بنا، آخرکار وہی ہوا جو ہونا تھا بلوچ عوام کے خواہشات کے بر خلاف بلوچ سیاست دانوں کے مزاحمت اور منتخب ایوانوں کے متفقہ قراردادوں کو ردی کے ٹوکری میں ڈال کر 1948 میں میر احمد یار خان نے انضمام کے دستاویزات پر دستخط کرکے ایک عظیم مملکت دنیا کے نقشہ سے غائب کردیا، محض اس لیے کہ بقول وہ خود جناب حضرت محمد (ص) ان کے خواب میں آۓ تھے اور اسے یہ حکم دیا کہ بلوچستان کو پاکستان میں ضم کریں ۔سیاسی کارکنوں سیاست دانوں کو گرفتار کرکے سپرد زندان کیا جو مزاحمت میں پیش پیش تھے پاکستانی حکمرانوں نے تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لیے۔ اس خطے کی سیاسی و جغرافیائی تبدیلی کی اصل وجہ سامراجی مفادات ہی تھے جو اس خطے میں وابستہ تھے۔

اب جبکہ ہندوستانی عوام نے انگریزوں کو ہندوستان سے نکل جانے پر مجبور کیا تو لہذا انہیں اپنے مفادات کے تحفظ کیلۓ ایک بیس اور چوکیداروں کی ضرورت پیش آئی جو پاکستان کی صورت میں وجود میں لانا تھا لہذا ہم دیکھتے ہیں مسٹر جناح کے سربراہی میں سر کے خطاب پانے والے تمام وفادار انگریزی غلاموں کو جن میں کچھ مذہبی حضرات اور بلوچ سردار شامل کرکے اسلام و مسلمان قومیت کے خوش کن نعروں کے ساتھ میدان میں اتارا اس طر ح سازشوں کا ایک سلسلہ چل نکلا اور بلوچستان کو قربانی کا بکرا بنایا گیا۔

نوٹ: درج بالا خیالات مصنف کی اپنی رائے ہے ریپبلکن نیوز اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں