طالبان اب پہلے کئی زیادہ مضبوط ہیں۔ عمران خان

نیوز ڈیسک (ریپبلکن نیوز) پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اگر امریکا 19 سال میں کامیاب نہیں ہوا تو اگلے 19 برسوں میں بھی کامیاب نہیں ہوگا، ماضی کے مقابلے میں طالبان اب زیادہ مضبوط ہیں۔

نیویارک میں کونسل فار فارن ریلیشنز سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ نائن الیون کے بعد پاکستان نے امریکا کی جنگ میں شامل ہوکر بہت بڑی غلطی کی، 2008ء میں امریکا آیا تو ڈیموکریٹس کو بتایا تھا کہ افغان مسئلے کا فوجی حل نہیں ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار لوگوں نے جانیں قربان کیں جبکہ اس جنگ میں ہمارا 200 ملین ڈالرز کا نقصان ہوا۔

عمران خان نے کہا کہ سوویت فوج نےافغانستان میں جنگ کے دوران 10لاکھ شہریوں کو ہلاک کیا، جبکہ پاکستان میں 27لاکھ افغان پناہ گزین رہ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈیورنڈ لائن برٹش حکام نے بنائی تھی، اب ہم پاک افغان بارڈر کی طرف باڑ ھ لگا رہے ہیں، افغان شہریوں کو 40 سال سے مشکلات کا سامنا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ افغانستان کا معاملہ بہت مشکل ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ایبٹ آباد کمیشن کا کیا نتیجہ نکلا اس کا کچھ معلوم نہیں ہے،11 ستمبر کے بعد امریکا نے اچانک مجاہدین کو دہشتگرد کہنا شروع کردیا۔

انہو ں نے کہا کہ پاکستان اپنے تمام پڑوسی ملکوں سے امن چاہتاہے، افغان صدر اشرف غنی کو دورہ پاکستان کے لیے مدعو کیا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پلوامہ واقعے کے بعد بھارت کے الزام پر اس سے ثبوت مانگے، بھارت نے ثبوت دینے کے بجائے بمباری کردی۔

عمران خان نے کہا کہ میں نے کہا کہ بھارت آر ایس ایس کے ایجنڈے پر کام کر رہاہے، بھارت میں انتخابی مہم پاکستان مخالفت کو بنیاد بنا کر چلائی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اندازہ ہوا کہ بھارت ہمیں ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں دھکیلنے کی سازش کر رہا ہے۔

کشمیر کی صورتحال پر عمران خان نے کہا کہ بھارت نے کرفیو لگا کر 80 لاکھ کشمیریوں کو گھروں میں نظر بند کر رکھا ہے، امریکی صدر ٹرمپ سے بھارت کے معاملے پر بات کی تھی۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومتیں معیشت کی سمت درست کرنے میں ناکام رہیں، جس کی وجہ سے ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا، جب اقتدار میں آئے تو معیشت کی حالت ابتر تھی ایسے وقت میں چین نے ہماری مدد کی، گھر کو چلانے کے لیے بھی اخراجات کم اور آمدن بڑھانا ہوتی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ 22 سال کی جدو جہد کے بعد اس مقام تک پہنچا ہوں اور کرکٹ سے میں نے سیکھا ہے کہ کامیابی کے لیے کیسےجدو جہد کی جاتی ہے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں