علی حیدر کی جبری گمشدگی پاکستان میں مظلوم اقوام کے لیے ملکی اداروں کی طرف سے واضح پیغام ہے

کوئٹہ / رپورٹ (ریپبلکن نیوز) بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کی داستان بہت پرانی ہے، لیکن فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کے دور سے اب تک اس میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے۔ اس دوران بلوچستان میں مختلف حکومتیں وجود میں آئیں جنہوں نے بلوچستان کے مسائل خاص طورپر جبری گمشدگیوں کے خاتمے کی باتیں تو کیں لیکن انہیں عملی جامہ پہنانے میں بُری طرح ناکام رہے۔

گزشتہ ادوار میں سیاسی کارکنوں، طلبا، انسانی حقوق کے کارکنان، اساتذہ اور صحافیوں سمیت مختلف ،مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو جبری طورپر لاپتہ کیا جاتا تھا، لیکن پچھلے کچھ سالوں سے اب بلوچستان میں خواتین، بزرگوں اور بچوں کو بھی لاپتہ کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔

دنیا میں شاید ہی ایسی مثالیں ملتی ہوں جہاں اپنے لاپتہ والد کی جبری گمشدگی کے خلاف آواز بلند کرنے والے کمسن بیٹے کو ملکی قانون نافذ کرنے والے ادارے جبری طورپر لاپتہ کردیں۔ لیکن بلوچستان میں یہ بالکل عام ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جبری گمشدگیوں کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں اکثریت اب خواتین کی نظر آتی ہے، کیونکہ ریاستی ادارے اُن مَردوں کو بھی جبری طورپر لاپتہ کردیتے ہیں جو اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے آواز بلند کرتے ہیں، بلوچستان میں ایسی مثالیں بہت ہیں۔

جبکہ تازی ترین مثال ہمارے سامنے پندرہ سالہ علی حیدر کی ہے، جسے ریاستی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر سے گزشتہ دن جبری طورپر لاپتہ کردیاہے۔ علی حیدر لاپتہ رمضان بلوچ کے فرزند ہیں جسے 24 جولائی 2010 کو ساحلی شہر گوادر سے ملکی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے جبری طورپر لاپتہ کردیا تھا۔

علی حیدر نے اپنے کھیلنے کودنے کی عمر سے اپنے والد کی رہائی کے لیے قانون کے تمام دروازوں کو کٹکٹایا لیکن قانون گہری نیند سو رہی تھی اور اب بھی پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے ادارے خوابِ خرگوش کے مزے اُڑھا رہے ہیں یا تو خود اس تمام طر صورتحال میں ملوث ہیں۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں سے میرا مراد پولیس، آرمی، خفیہ ادارے یا دیگر عسکرے ادارے بالکل نہیں، کیونکہ پاکستان میں تمام عسکرے ادارے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں میں ملوث ہیں، جن کے خلاف ٹھوس شواہد کی موجودگی کے باوجود کسی کی مجال نہیں کہ کاروائی کرسکے۔

جو لوگ ریاستی اداروں کے جرائم سے پردہ پاش کرتے ہیں انہیں بھی لاپتہ یا قتل کردیا جاتا ہے، جسکی تازہ مثال پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما محسن داوڈ اور علی وزیر کی ہے جنہیں صرف اس بات کی سزا دی جارہی ہے کہ انہوں نے ملکی مسلح افواج کے جرائم سے عام پاکستانیوں کو آگاہ کیا، اور آج وہ ریاست کی قید خانوں میں مجرموں کی طرح قید کردیئےگئے ہیں۔

علی حیدر کی جبری گمشدگی ایک انسانی المیہ ہے اور پاکستان میں تمام مظلوم اقوام کے لیے ریاستی اداروں کی طرف سے ایک واضح پیغام ہے کہ اگر کوئی بھی شخص جبری گمشدگیوں پر بات کرتا ہے یا اپنے پیاروں کی بازیابی کا مطالبہ کرتا ہے تو اسے نشانہ بنانے سے ریاستی ادارے کبھی نہیں کترائینگے۔

علی حیدر نے اپنے کھیلنے کودنے کی عمر میں ہاتھ میں اپنے لاپتہ والد کی تصویر لیے کوئٹہ سے کراچی اور پھر کراچی سے اسلام آباد تک وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے ہمراہ پیدل تاریخی لانگ مارچ کیا تھا لیکن اس سے بھی انکے والد بازیاب نا ہوسکے۔ تمام قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کے باوجود انکے والد رمضان بلوچ کو رہائی نا مل سکی اب بالآخر علی حیدر خود لاپتہ ہوگئے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں