قابض پاکستانی فورسز کا آواران میں بلوچ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز) بلوچستان کے ضلع آواران میں قابض پاکستانی فورسز نے ایک بلوچ بچی کو اسکول میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔

تفصیلات کے مطابق تین ہفتہ قبل بلوچستان کے ضلع آواران میں پاکستانی فورسز نے اسکول میں ایک بلوچ بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

آواران سے ہمارے زرائع کے مطابق آواران کے بازار میں قائم ایک اسکول میں پاکستانی پیرا ملٹری فورسز کے اہلکاروں نے ایک بلوچ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کیں ہے۔

جس اسکول میں بلوچ بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے وہ آواران میں زلزلہ آنے سے قبل ہسپتال تھا جسے بعد میں ریاستی فوج نے اسکول میں بدل دیا تھا، جبکہ اسکول میں تعنیات اساتذہ بھی فوج سے تعلق رکھتے ہیں جنکا تعلق پاکستان کے صوبے پنجاب سے ہے اور اسکول کا سارا انتظام فوج کے سپردہے۔

بلوچ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد فوجی اہلکاروں نے بچی کے والدین کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر یہ بات کھل گئی تو انہیں قتل کردیا جائیگا۔

جنسی زیادتی کا شکار بلوچ بچی کے خاندان نے اس واقعہ کو فوج کی دھمکی کے بعد مکمل طورپر چھپا دیا تھا, ہمارے زرائع نے کہا ہے کہ اس واقعہ کے دو ہفتوں تک طلبا نے اسکول جانا بند کردیا تھا۔جبکہ جنسی زیادتی کا شکار بلوچ بچی کا تعلق آواران کے علاقے ماشی سے ہے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں