قبائلی سماج میں شہید نواب اکبر خان بگٹی کا کردار

کوئٹہ/مضمون (ریپبلکن نیوز) دنیا میں رہنے والے ہر قبائل کے اپنے روایات ہوتے ہیں جو صدیوں سے چلے آرہے ہیں جن میں بہت سے اچھے اور برے روایات ہوتے ہیں اور برے اور غیرمناسب روایات کو درست کرنے کیلئے قبائل کے سربراہان اور زمہ داران کا کلیدی کردار ہوتا ہے۔

بلوچ قوم کوہ سلیمان سے لیکر بولان اور جھالاوان تک مخلتف قبائل پر مشتمل ہے اور ہر قبائل کے اپنے رسم و رواج ہیں جو کہ لوگوں کے سہولیات کیلئے بنائے گئے ہیں تاکہ آپسی جھگڑے نمٹانے اور دیگر مسائل کے حل میں آسانی ہو۔

اسی طرح بگٹی قبائل کے مخلتف شاخ ہیں اور ان میں سے چھ ریز ہیں یعنی بگٹی قبائل چھ حصو پر مشتمل ہے اور ہر زیز کا اپنا سربراہ ہوتا ہے جو کہ جمہوری طریقے سے منتخب ہوتا ہے اور آخر میں اسے قبیلہ کا سربراہ اس کو پگڑی باندھ کر حلف لیتا ہے بالکل ایک جمہوری پارلیمنٹ کی طرح۔ ریز کے سربراہ سے پہلے سر ٹکری ہوتے ہیں جو تقریباً ہر دو یا چار خاندان کا سبراہ ہوتا ہے اور وہ سر ٹکری اپنے شاخ کے سربراہ ہو منتخب کرتے ہیں اور شاخ کے سربراہاں ریز کے سربراہ کو منتخب کرتے ہیں جس میں قبیلے کے سربراہ کا کوئی کردار نہیں ہوتا کسی بھی شاخ یا ریز کے سربراہ کو منتخب کرنے کے عمل میں تمام تر عمل دخل سال کے لوگوں کا ہوتا ہے اور قبیلے کا سربراہ اسے آخری پگڑی پہنا کر قبل کرتا ہے کہ وہ قبیلے کے معملات میں شاخ کی نمائندگی کریگا۔

اور قبائل کے جمہوری عمل میں یہ نہیں ہے کہ پانچ سال آپ مکمل کر لے خواہ آپ کی کارکردگی صفر ہی کیوں نہ ہو۔ یہاں میں ایک مثال پیش کرنا چاہونگا گو کہ بہت سے مثال موجود ہیں۔ بگٹی قبیلے میں ایک شاخ مندوانی بھی ہے جو کہ راہجہ یعنی نواب کے اپنے شاخ میں شمار ہوتے ہیں مندوانی میں نمایا نام اس وقت بی آر پی کے مرکزی ترجمان شیر محمد بگٹی ہیں۔ اس شاخ کے سربراہ کے طور پر محمد بخش مندوانی کو منتخب کیا گیا تھا مگر محمد بخش شاید اہل نہیں تھا اور شاہنواز مندوانی شاخ کے معاملات کے حل میں پیش پیش رہا اور اس طرح شاہنواز اس شاخ کا سربراہ ہوگیا۔ اور یہاں وہ تاثر بھی دم توڑ دیتا ہے کہ وڈیرہ کا بیٹا ہی وڈیرہ ہوتا ہے یا سردار کا بیٹا ہی سردار ہوتا ہے۔

یہاں پر یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ ہر شاخ یا سردار کے نام پر زمین کا ایک ٹکڑا ہوتا ہے جو کہ ہر دوسرے عہدے دار کیلئے منتقل ہوتا ہے اور وہ شاخ یا قبیلے کے مشکلات کے دوران اس زمین کے آمدنی کو لوگوں پر استعمال کرتا ہے۔

جو لوگ قبائل سے واقف ہے یا کم از کم بگٹی قبائل سے واقفیت رکھتے ہیں انہیں ضرور پتہ ہوگا کہ بیورغ زئی بگٹی قبیلے کے پہلے سربراہ نہیں تھے اس سے قبل بگٹی قبیلے کے سربراہ کے زمہ داریاں شاید شے فرقہ سے تھے اس کے بعد مندو اور پھر راہو کے خاندان نے قبیلے کے سربراہی کی زمہ داریاں سنبھال لیں۔

جب ڈاڈائے قوم نواب اکبر خان بگٹی قبیلے کے سبراہ منتخب ہوئے تو قبیلے کے رسم و رواج میں بہت سے خامیاں موجود تھی جن کو دور کرنے میں انہوں نے کلیدی اور تاریخی کردار ادا کرتے ہوئے اپنے قبیلے میں برابری اور انصاف کو فراہم کرنے کیلئے پرانے رسم و رواج میں بہت سی تبدیلیاں کیں۔

مجھے دیگر قبائل کے بارے میں تو زیادہ معلومات نہیں مگر مری قبیلہ جو ہمارے پڑوس میں تھے اور ہمارے مراسم تھے تو مجھے کافی معلومات ہے کہ مری میں جو روایات ہمارے باب دادا کے زمانے میں تھے وہی آج بھی موجود ہیں۔

بگٹی قبائل میں مریٹہ شاخ کو ڈاڈائے قوم شہید نواب بگٹی کی نوابی سے پہلے بہت سے مشکلات کا سامنا تھا جیسا کہ مریٹہ کے خواتین کے ساتھ اگر کوئی زیادتی کی جائے تو اس کو بدلے کا کوئی حق نہیں تھا یا ڈوب شاخ کے اندر بھی یہی روایات تھا مگر ڈاڈائے قوم نے تمام روایات کو دفن کر کے سب کو برابری کی بنیاد پر حقوق فراہم کیئے کہ کوئی کسی سے کم تر نہیں ہے تمام زرکانی برابر ہیں اور قبیلے کے روایات سب پر یکسر ہوتے ہیں حالانکہ مری قبیلے میں یہ روایات آج بھی موجود ہے۔

اس کے علاوہ بلوچستان کے لوگوں میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ لوگوں کو آگ کے شعلوں پر گزارا جاتا ہے یہ کہاں کا انصاف ہے حالانکہ آگ پر سے گزارنا کوئی زبردستی کا عمل نہیں ہے دونوں فریقوں کی مرضی سے یہ ہوتا ہے اور چند گھنٹوں کے اندر فیصلے ہوجاتے ہیں اور لوگ کشت و خون سے بچ جاتے ہیں۔

پاکستان میں جہاں پچاس پچاس سال لوگ بے گناہ جیل میں گزارتے ہیں اور کچھ دو بکری چوری جیسے کیس میں بھی اپنی پوری زندگی جیل میں گزار جاتے ہیں لیکن بگٹی قبیلے میں فوری انصاف کا نظام آج بھی موجود ہے، درجنوں لوگوں کے قتل جیسے سنگین مسائل بھی چند گھنٹوں میں حل ہوجاتے ہیں اور دونوں فریقین کے دشمنیوں کو رشتے داریوں میں تبدیل کر کے ان کے خونی جھگڑوں کو ختم کیا جاتا ہے۔

مجھے یاد ہے جب بھی ہمیں ڈیرہ بگٹی جانے کا موقع ملتا تو ہم ہر وقت دیکھتے تھے کہ سندھ اور پنجاب سے لوگ اپنے فیصلے کرانے نواب صاحب کے بھیٹک میں موجود ہوتے تھے۔ درجنوں فیصلے ایک ہی دن میں مفت اور دونوں فریقین کت باہمی رضامندی سے طے ہوتے تھے۔

بگٹی قبیلے میں یہ روایات آج بھی موجود ہیں مگر ڈاڈائے قوم کی شہادت کے بعد سے مسلسل ریاستی مداخلت کی وجہ سے آج ان پر عمل نہیں ہورہا جس کی وجہ سے آئے روز جھگڑے اور لڑائیاں ہوتی ہیں۔

اس کے علاوہ مری، بگٹی کے خونی تنازعے بگٹی، جھکرانی، بگٹی مزاری، بگٹی کھوسہ سمیت کہی خونریز جنگوں کو تصفیہ کر کے انہیں آپس میں شیر و شکر کیا حالانکہ ریاست کی ہمیشہ سے کوشش رہی کہ یہ قبائلی جھگڑے اسی طرح چلتے رہے۔ شہید ڈاڈائے قوم نے بگٹی قبیلے کے اندر انقلابی تبدیلیاں کی اور ایک قوم دوست لیڈر ہونے کا ثبوت دیا۔

پاکستان میں یہ تاثر بھی پھیلایا گیا ہے کہ نواب بگٹی تعلیم کے خلاف تھے حالانکہ ڈیرہ بگٹی میں جتنے بھی سکول ہیں وہ نواب بگٹی نے ہی بنوائے یا اپنے زمین اس کیلئے دیئے ڈیرہ بگٹی میں کالج نواب بگٹی نے بنوایا اور ایک ہی گرلز کالج ہے جو انہوں نے ہی اپنے زمین کے اوپر خود ہی بنوایا۔

شہید نواب اکبر بگٹی ایک علم دوست شخصیت بھی تھے اور ان کی ہمیشہ کوشش رہی کہ اپنے لوگوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں جس کیلیے انہوں نے اپنے قبیلے کے سب سے غریب شاخ کے کچھ لوگوں کو اپنے ہی خرچے پر امریکہ جیسے ملک میں تعلم دلوائی جس کے گواہ پورا بگٹی قوم ہے اس کے علاوہ پی پی ایل کمپنی میں جہاں صرف ملازمین کے بچے پڑھتے تھے انہیں اس بات پر زبردستی آمادہ کروایا کہ آپ ہر سال کم از کم بیس بگٹی بچوں کو داخلہ دینگے اور ان بچوں میں سے ایک میں بھی ہوں میرے والد کا اپنا کاروبار تھا مگر کمپنی میں ملازمت نہیں تھی مگر شہید نواب اکبر خان بگٹی کی وجہ سے آج میں دو چار لفظ پڑھ اور لکھ سکتا ہوں۔

ڈاڈائے قوم جیسے مہربان لیڈر شاید ہی صدیوں میں پیدا ہو مگر بلوچ قوم کی بدقسمتی ہے کہ ہم نے ایسے عظیم رہنماؤں کی قدر نہیں کی۔ ان کی ہمیشہ کوشش رہی کہ تمام بلوچوں کو ایک ہی سنگل پارٹی یا کم از کم ایک اتحاد میں جمع کرسکے تاکہ یہ مظلوم قوم اپنے حق حقوق کی جدوجہد میں ایک طاقتور قوم بن کر سامنے آسکے مگر ریاستی مداخلت اور ہمارے درمیان موجود ہماری انا نے ان کے اس خواب کو اب تک پورا ہونے نہیں دیا مگر مجھے امید ہے کہ ہم ضرور ایک دن ڈاڈائے قوم کے اس عظیم خواب کو پورا کرینگے۔

تحریر: مرید بگٹی
 نوٹ: درج بالا خیالات مصنف کی اپنی رائے ہے ریپبلکن نیوز اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں