قصور میں تین بچے جنسی زیادتی کے بعد بے دردی سے قتل

قصور (ریپبلکن نیوز) قصور میں لاپتہ ہونے والے 3 بچوں کی مسخ شدہ لاشیں برآمد، پولیس ذرائع کے مطابق بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا ہے . بتایا گیا ہے کہ 1بچہ گزشتہ روز لاپتہ ہوا تھا جبکہ 2بچے ایک ماہ قبل لاپتا ہوئے تھے ۔

برآمد ہونے والی ایک لاش مکمل حالت میں ہے جبکہ دو بچوں کے سر ہڈیا اور چند اعضاء برآمد ہوئے ہیں، واقعے پر وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

تفصیلات کے مطابق قصور سے گزشتہ ایک ماہ کے دوران اغوا کیے گئے 3 بچوں کی لاشیں چونیاں کے علاقے سے برآمد ہوئی ہیں۔

قتل کیے گئے دو بچوں کی باقیات اور ایک بچے کی لاش چونیاں انڈسٹریل اسٹیٹ کے علاقے سے ملی ہیں اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے بچوں کو مبینہ طور پر زیادتی کے بعد قتل کر کے ان کی لاشیں پھینک دی گئی تھیں۔

مقامی افراد کے مطابق گزشتہ ایک سے دو ماہ کے دوران علاقے سے 5 بچے لاپتہ ہوئے جن میں سے 3 کی لاشیں مل گئی ہیں جبکہ دو بچے اب بھی لاپتہ ہیں البتہ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ عرصے میں تین بچے لاپتہ ہوئے تھے۔

ایک بچے کی شناخت 8 سالہ سفیان کے نام سے ہوئی ہے جبکہ 2 بچوں کی لاشیں ایک ماہ سے زائد پرانی ہونے کے سبب ناقابل شناخت ہیں اور پولیس کا کہنا ہے کہ ان لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے کی مدد لی جائے گی. پولیس نے لاشیں تحویل میں لے کر شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

ڈی پی او قصور عبدالغفار قیصرانی نے کہا کہ واقعے کی تفتیش کے لیے 3 سے 4 ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جو اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہیں. انہوں نے مزید بتایا کہ پولیس کی موبائل لیب آ گئی ہے جو تمام ثبوت اکٹھے کر رہی ہے اور پولیس کو پوری امید ہے کہ ایک سے دو دن کے اندر ملزمان کو گرفتار کر لیا جائے گا۔

مزید خبریں اسی بارے میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں