قصہ ایک انقلابی کا!

ساتھیوں میری طرف متوجہ ہو کر غور سے سنیں

کوئٹہ/مضمون (ریپبلکن نیوز) میں جانتا ہوں میں کوئی عالم و فاضل نہیں ہوں اور نہ ہی میں آپ لوگوں کی طرح کتابوں سے مستفید ہوکر ایک سمجھ دار انقلابی کارکن بن گیا ہوں ۔ میری چند گزارشات ہیں انھیں آپ کی نظر کرتا ہوں ۔

دیکھیں!

انقلاب کا راستہ ہر گز روکا نہیں جا سکتا، یہ کسی کے کہنے سے نہیں آتی ، اگر تاریخ کی صفحات کو غور سے پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ ماضی میں انقلاب کا آتش فشاں مادہ مختلف معاشی نا ہمواریوں، سیاسی وعوامی مفادات و ترجیحات اور ناانصافی پر مشتمل حکمرانوں کی ڈھانچے کی بنیادوں کے نیچے الاؤ کی شکل میں پکتا رہتا ہے اور اچانک زور دار دھماکے کی صورت میں پھٹ پڑتا ہے، اس کو روکنا کسی کے بس میں نہیں ہوتا، طبقاتی تفریق میں وسیع خلاء، معاشی ابتری، استحصالی بالائی حکمران طبقے کی لوٹ مار، عوامی امنگوں اور تقاضوں کے بر عکس مخصوص خاندانوں کا اقتدار پر قبضہ، عوامی مفادات کے بر عکس مراعات یافتہ طبقہ کی فرماں رَوائی اور دیگر کئی پہلو ہیں جو انقلاب کا سبب بنتے ہیں۔

ساتھیوں اس جانب توجہ چاہتاہوں

انقلاب آزاد ریاست کی تشکیک سمت قانون، کلچر، سماجی اور معاشی بنیاد و اقدار اور روایات کو یک سر تبدیل کر دیتے ہیں۔ حقیقی انقلاب وہی ہوتا ہے جس کی بنیاد معاشی بنیادوں پر استوار ہو اور اجتماعی سماجی حرکت سے ہم آہنگ ہو، اور اکثریتی عوامی امنگوں کا ترجمان ہو۔ وہ کبھی حقیقی انقلاب و تبدیلی نہیں ہوتی جس کے ثمرات سے عوام مستفید نہ ہوں، مگر انقلاب کا سفر بہ تدریج اوپر سے نیچے کی طرف سفر کرتا ہے۔

یاد رکھیں

اگر چِہ انسان کے سماجی وجود کا تعین شعور کے بر عکس اس کا سماجی وجود ہی متعین کرتا ہے، لیکن شعور و ارادہ مسلسل تبدیلی کے خواہاں اور آمادہ بغاوت بھی رہتے ہیں، سماجی وجود جو تاریخی جبر سے قائم ہوا ہے، مضبوط قوت ارادی سے شکست و ریخت سے دو چار ہو جاتا ہے، شعوری جد و جہد سیاسی معاشیات کی بھی رہین منت ہوتی ہے۔ ساز گار سیاسی نظام فرد کے ارادہ و شعور کے لیے مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ لیکن ایک آزاد ریاست کی حصول کے لیے ساز گار سیاسی ماحول کی خواہش فضول ہیں۔

تحریر: علی رفاعی نوٹ: درج بالا خیالات مصنف کی اپنی رائے ہے ریپبلکن نیوز اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

تبصرے بند ہیں۔

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں