قوموں کی زندگی میں کمزوری آتی ہے لیکن اسے طاقت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔شہید نواب اکبر خان بگٹی کے انٹرویو سے اقتباس

کوئٹہ(ریپبلکن نیوز) قائدین سے یعنی ہم سب سے غلطیاں ہوئی ہیں ـ 1947 ء اور 1948 ء میں احمد یار خان ایک کمزور قائد تھے حالانکہ ان کے چھوٹے بھائی آغا عبدالکریم نے افغانستان جا کر کوشش کی تھی ، لیکن احمد یار نے ہمت نہیں کی ـ اس وقت حالات ہمارے حق میں تھے۔

ـ بین الاقوامی حمایت بھی موجود تھی کم از کم افغانستان اور انڈیا تو مدد کیلئے تیار تھے لیکن احمد یار نے موت کے خوف سے بلوچ قوم کی خود کشی کے پروانے پر دستخط کر دیئے ۔

پھر 1958 ء میں مزاحمت ہوئی ، گیارہ سال بعد میں نے حکومت سے مفاہمت کی کیونکہ جس اندرونی و بیرونی امداد اور حمایت کی توقع تھی وہ نہیں ملی حالانکہ بلوچوں نے اتنی بڑی مزاحمت کی کہ دنیا حیران رہ گئی ـ پھر یحییٰ خان کے دور میں ہم نے صوبے کے قیام پر اکتفا کر لیا ۔اس وقت کے معروضی حالات کا تقاضہ بھی یہی تھا، ہمارا خیال تھا کہ جو صوبے بنیں گے انہیں کم از کم امریکی ریاستوں جتنی آزادی ہوگی ـ یہ الگ بات ہے کہ بعد میں صوبوں کی خود مختاری ترقی یافتہ ممالک کے اضلاع اور کاؤنٹی جتنی بھی نہیں تھی۔

ایک موقع دسمبر 1971 ء میں آیا لیکن اس وقت نیپ (نیشنل عوامی پارٹی) پر ولی خان حاوی تھے اور بلوچ اس جماعت میں طفیلی کی حیثیت رکھتے تھے ـ اگر اقتدار شیخ مجیب کو مل جاتا تو تاریخ بدل سکتی تھی ـ 1970 ء کی دہائی میں ہم نے ایک سیکرٹ بلوچ آرگنائزیشن بنائی تھی لیکن ہمارے ساتھیوں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے یہ ختم ہو گئی ـ ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب سوویت افواج افغانستان میں آگئیں کسی کے وہم وہ گمان میں نہ تھا کہ روس کو شکست ہوگی اور خود یہ عظیم ملک ٹوٹ جائیگا ـ ہمارا مسئلہ تقریباً کردوں کی طرح ہے جس طرح ترکی ، عراق اور ایران کردوں کے خلاف متفق ہیں اسی طرح پاکستان اور دیگر ممالک بلوچوں کیخلاف اتفاق رائے رکھتے ہیں اس کے علاوہ آپس کی نا اتفاقی سب سے بڑی رکاوٹ ہے لیکن میں ان حالات کے با وجود مایوس نہیں ہوں۔

ہر بلوچ کے دل میں ایک خواہش ہے جو صدیوں سے زندہ ہے اور آئندہ بھی زندہ رہے گی ـ قوموں کی تاریخ میں یہ بات اہم کردار ادا کرتی ہے کہ اپنے حق اور سر زمین سے دستبردار نہ ہوا جائے ـ قوموں کی زندگی میں کمزوری آتی ہے لیکن اسے طاقت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے ۔نواب اکبر خان بگٹی کے ایک انٹرویو سے اقتباس۔
بشکریہ: ذولفقار علی زلفی

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں