لاپتہ افراد کے مسئلے پر بات کرنے پر مجھے ریاستی اداروں کی جانب سے دھمکیاں مل رہی ہیں۔ حامد میر

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز) پاکستان کے نامور صحافی حامد میر نے ریاستی بے بنیاد پروپیگنڈوں کا پول کھولتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں لوگوں کو لاپتہ کرنے میں ریاستی ادارے اور فوج ملوث ہے یہی وجہ ہے کہ ریاستی عسکری ادارے لاپتہ افراد کے کیس کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں۔

حامد میر نے کہا ہے کہ جب بھی بلوچ مزاحتمکاروں کی طرف سے کوئی بڑا حملہ ہوتا ہے تو کچھ لوگ جھوٹی خبریں پھیلاتے ہیں کہ حملے میں لاپتہ افراد شامل تھے۔اسی طرح کراچی میں چینی قونصلیت پر ہونے والے حملے میں بھی غلط بیانی کی گئی اور کہا گیا کہ حملے میں لاپتہ افراد ملوث تھا، جبکہ گوادر حملے میں بھی یہی دعوعٰ سامنے آیا کہ گوادر حملے میں مارا جانے والا حملہ آور لاپتہ شخص کی فہرست میں شامل تھا۔

دونوں حملوں کے بعد حکومتِ بلوچستان کی جانب سے تردید بھی سامنی آئی کہ چینی قونصلیت اور گوادر حملے میں کوئی بھی مسنگ پرسن شامل نہیں تھا۔

حامد میر نے کہا کہ اس سے مسنگ پرسن کے کیس کو کوئی نقصان تو نہیں ہوگا البتہ اس سے ان قوتوں کی کمزوری ثابت ہوجاتی ہے جو لاگوں کو لاپتہ کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگوں نے اور ٹی وی چینلز نے یہ جھوٹی خبریں چلائی اور ان کو ایسا کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔ جبکہ سوشل میڈیا میں جن لوگوں کی طرف سے یہ جھوٹے خبریں شائع کیے گیئے تھے آفی آئی اے ان کے خلاف کاروائی کرسکتی ہے لیکن ایف آئی اے انکے خلاف کاروائی نہیں کریگی، اس لیے کہ اس جھوٹ کو پھیلانے میں ریاست خود ملوث ہے۔

حامد میر نے کہا کہ پاکستانی ریاست کا تحفط جھوٹ بول کر نہیں کیا جاسکتا، ادارے پہلے سے ہی جھوٹ کی وجہ سے پھنس چکے ہیں۔پاکستانی ریاست لوگوں کو اغوا کرتی ہے پر جھوٹ بول کر اس سے لاتعلقی کا اظہار کرتی ہے۔ جو لوگ لاپتہ افراد کے مسئلے پر بات کرتا ہے اسے غدار اور ملک دشمن قرار دیا جاتا ہے۔ حامد میر نے کہا کہ مجھے جو دھمکیاں مل رہی ہیں اس میں ریاستی ادارے ملوث ہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں