مولانا فضل الرحمٰن کے قریبی ساتھی مفتی کفایت اللہ پر حملہ

نیوز ڈیسک(ریپبلکن نیوز)   مفتی کفایت اللہ جو کہ مولانا فضل الرحمٰن کے دست راست سمجھے جاتے ہیں اور ان کی پارٹی سیاست کے علاوہ دیگر معاملات میں بھی اہم کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں انہیں رات کے پچھلے پہر تشدد کا نشانہ بنایا گیاہے۔اطلاعات کے مطابق مفتی کفایت اللہ اپنے بیٹے حسین کفایت اور دو دیگر ساتھیوں کے ساتھ گاڑی پر اسلام آبادسے آرہے تھے کہ مانسہرہ انٹرچینج کے قریب کچھ لوگوں نے انہیں روکا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

زخمی ساتھیوں اور مفتی کفایت اللہ کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔مفتی کفایت اللہ کے بیٹے حسین کفایت نے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اسلام آباد آتے ہوئے مانسہرہ انٹرچینج کے قریب نامعلوم افراد مسلح افراد نے ہماری گاڑی کو روکااور بغیر کوئی بات کیے ہم پر تشدد کرنا شروع کر دیا۔حملہ آور مسلح تھے اور ہم انہیں جانتے بھی نہیں ہیں۔

انہوں نے ہماری گاڑی کے آگے آ کر روکا اور حملہ شروع کر دیا۔جبکہ اس حوالے سے پولیس کا موقف سامنے نہیں آیااور نہ ہی کوئی حملہ آور گرفتار ہوا ہے۔تاہم مفتی کفایت اللہ اور ساتھیوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے ارورمعاملے کی چھان بین جاری ہے۔مفتی کفایت اللہ جو کہ اپوزیشن لیڈر مولانا فضل الرحمٰں کے دست راست ہیں اور آج کل ان کے نام کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کافی میمز بھی چل رہی ہیں اور انہیں خوب تنقید کانشانہ بھی بنایا جاتا ہے اب ان پر قاتلانہ حملہ بھی ہو گیا ہے۔اس حملے میں کسی قسم کے جانی نقصان یا پھر شدید زخمی ہونے کی تاحال اطلاعات نہیں آئی جبکہ حسین کفایت کاکہنا ہے کہ ان کے ساتھیوں کو حملہ آوروں کے تشدد کے نتیجے میں کافی چوٹیں آئی ہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں