مکران کی اہمیت، مستقبل اور بین القوامی طاقتوں کی سازشیں

کوئٹہ/مضمون(ریپبلکن نیوز) بلوچستان کے تین ضلحوں پر مشتمل مکران (یاد رہے کہ موجودہ ضلع آواران بنیادی و تاریخی طورپر مکران کا حصہ ہے) اپنی جغرافیائی محل وقوع طویل ساحل او سیاسی و تجارتی اہمیت کے بدولیت ملک خداداد پاکستان کا شہ رگ تو ہے ہی مگر دنیا کی بڑی طاقتوں کے لیے نہایت پرکشش ایک اہم و حساس علاقہ بھی ہے۔

جس کے سبب ماضی میں اس اہم علاقے کے حصول و رسائی کیلۓ بڑی طاقتوں کے درمیان زبانی کلامی سرد و گرم حالات پیدا ہونے کے باعث بنتے رہے اور اس علاقے پر کنٹرول و رسائی حاصل کرنے کیلۓ ایک دوسرے کو آنکھیں دکھاتے رہے کیونکہ یہی وہ علاقہ ہے جو بین القوامی تجارت کا گزرگاہ مشرق کو مغرب سے ملاتا ہے۔

خلیجی تیل کی ترسیل ہوتی ہے دنیا کے معشیت و تجارت کے ایک چوتھائی حصے کا دارومدار اسی گزرگاہ پر وابستہ ہے،لہذا اب بظاہر اس علاقے پر مکمل کنٹرول و رسائی حاصل کرنے کا بین القوامی قوتوں کے ارادوں کو عملی جامہ پہنانے کا آغاز ہوچکا ہے، اس خطے اور اس سے متصل علاقوں میں جو کچھ ہورہا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔

کہنے میں تو یہ تمام سرگرمیاں ایران اور اس کو ایک ایٹمی قوت بننے سے روکنا یا ان کے شام یمن اور سعودی عربیہ میں مداخلت کو روکنے کیلۓ ہورہے ہیں مگر درپردہ معاملات کچھ اور ہیں مقصد بھی الگ ہے۔گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستانی سیاست میں جو واقعات رونما ہوئے جس طرح کی ٹیم کو مرکز اور بلوچستان پر مسلط کیا گیا پھر عمران خان اور اس کے سپہ سالار نے عجلت میں جس طرح امریکہ کا دورہ کرکے وہاں اپنے آقاٶں کو جو کچھ بتایا یا جس طرح کشمیر جسے پاکستان گزشتہ ستر سالوں سے اپنا شہ رگ کہتے رہے کو رضاکارانہ انداز میں ہندوستان کے حوالہ کرکے اس باب کو ہمیشہ کیلۓ بند کردیا ہم سجھتے ہیں یہ تمام سرگرمیاں بین القوامی طاقتوں کے اس بڑے گیم کا حصے ہیں یا ابتدائی ہوم ورک کہے جاسکتے ہیں۔

اب دیکھنے والی بات یہ ہوگی کہ بلوچ قوم پرستی کے دعویدار جمہوریت کی صدائیں لگانے والے سیاسی پارٹیاں اور سیاسی قائدین جو ہمیشہ بلوچستان پر مر مٹنے کے نعرے لگاتے رہے ہیں جس کے بدولت کوئی فخر بلوچستان تو کسی نے شیر بلوچستان کے خطاب پائے، اس متوقع گھمبیر صورتحال کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔

اور اپنے وطن کی بقاوسالیمت کو کس طرح یقینی بناکر محفوظ بنائیں گے جبکہ بلوچ عوام ان دنوں جس صورتحال سے دوچار ہے ہم اب تک اپنی تواناہیاں ایک دوسرے پر ضائع کرتے رہے ہیں ایک دوسرے سے لڑ جھگڑ کر رفاقت و باہمی اتحاد کے راستوں کو مسمار و معدوم کرتے رہے جس کے سبب ہماری مثال اس کہاوت کی ہے کہ آ بیل مجھے مار بن چکی ہے اس کے باوجود بلوچ عوام اپنے سیاست دانوں سے یہ توقع رکھتے ہیں مستقبل میں پیش آنے والے متوقع صورتحال کا باہمی اتحادو یکجہتی کے ساتھ مقابلہ کرکے اپنے وطن قو می وجود ساحل وسائل زبان تہذیب و روایات کا جوان مردی سے دفاع کریں گے اور ہماری دعائیں آپ کے ساتھ رہیں گے۔

تحریر: خورشید نگوری
نوٹ: درج بالا خیالات مصنف کی اپنی رائے ہے ریپبلکن نیوز اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں.

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں