میں اور بلوچ تبلیغی | ریپبلکن مضمون

میں اور بلوچ تبلیغی

کوئٹہ / مضمون (ریپبلکن نیوز) اس نے کہا کہ مولانا نے اسلام پر بہت کام کیا
میں نے کہا بیشک
اس نے کہا کہ مولانا نے بہت لوگوں کو مسلمان کیا
میں نے کہا جی ضرور
اس نے کہا علماء حضرات کی محنت سے مساجد مدارس تبلیغی مراکز علماء قاری اور حافظ پیدا ہوئے.
میں سنتا گیا اور جناب بلوچ تبلیغی علماء کرام کی ستائش میں ہفت طبق تک جاه پہنچے
میں ان کی ہر بات پر سر ِچشم صدق دل بیشک کہتا گیا .
جب میرا بلوچ تبلیغی مولوی زده بهائی قصیده گوئی سے تھک ہار کر فارغ ہوئے تو میں نے ان سے کہا جناب اب زرا ہماری بهی درد ِ دل سنیں .
آپ نے علما حضرات کے دینی علمی کارناموں پر جو لمبی فهرست گنوائی تہہ دل سے قبول کرتا ہوں مگر اس ریاست میں بسنے والے اکثر اسلامی نظریاتی شخصیات نے اپنے وه تمام حق ِ فرائض انجام نہیں دیئے جو انہیں دینا چاہیئے.
کیا آپ کے علماء حضرات نے کبهی بلوچ پشتون سندهی مہاجر اقوام پر ہونے والی ظلم و ستم جبری گمشدگیوں بے نام نشان تشدد زده لاشوں پر آواز اٹهائی ؟
کبهی مفتی حضرات نے فوج کے ہاتهوں بہتے معصوم اور بیگناہوں کے  لہو پر کچھ کہا کیا اس پر فتوے صادر کیئے ؟
آپ نے کبهی دیکها کہ قادیانی عیسایوں کی جلتی بستیوں کے مسئلہ پر اسلامی نظریاتی پارٹیوں نے کبهی مظاہرے اور ریلیاں نکالی ہیں؟
جناب میرے بلوچ تبلیغی ! کیا اسلام ظلم پر خاموشی کا درس دیتا ہے ؟
کیا اسلام ظالم ریاست کی ناانصافی نا برابری پر صبر کی تلقین کرتا یے؟
کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ جب ہمارے مائیں اور بہنیں ریاستی فوج کے ہاتھوں اغواه ہوں تو بحثیت غیرت مند بهائی ہمیں خاموش رہنا چائیے؟
میری تلخ حقیقت پسندی پر بلوچ غیرت کے آثار میرے روبرو زانو بدوش بلوچ کے چہرے پر نمودار ہونے لگے .
ہمیں اسلام اور مولوی سے کوئی خار نہیں ہم صرف یہ کہنا چاهتے ہیں کپ یہاں اسلام State sponcer Islam والا پیک کیا ہوا آتا ہے . ریاستی ادارے یہاں اسی طرح قابض ہیں جس طرح اپنے اداروں پر جہاں فتوے اسلامی تقاریر ریاست کی درزی گری کی دکان سے ہوکر ہم تک پہنچتے ہیں .
ہم بلوچ صدیوں سے بلکہ یوں کہے کہ اسلام سے بہت پہلے سے اس تہزیب کے وارث ہیں جس کا درس آج ہمیں اسلام دیتا ہے پرده، عورتوں کے حقوق جنگی اصول، مہمان نوازی، مدد، غیرت، بہادری، انصاف تو ہماری ہزاروں سال سے چلتی ہوئی روایات ہماری نسل درنسل اور خون میں شامل ہیں .
ہم بلوچ ناخوانده قبائلی جاہل سہی مگر ہماری تہزیب قومی روایات رسم رواج دنیا کے اعلی معیار پر اترتے ہیں . آپ زرا ریاستی علماء کی بتائی ہوئی ریاست زده اسلام کی عینک اتار کر بلوچ تاریخ تہزیب اور تمدن کا مطالعہ کرکے قرآن اور احادیث کا جائزه لیں تو ہماری معاشرتی سماجی اقتصادی زندگی اسلام کے سنہر ے اصولوں کے عین مطابق ہے
ساده دل بلوچ نے اسلامی معاشرے کو آپ کے تنخواه خور علماء سے بہتر انداز میں اپنایا ہوا ہے .
میری باتیں تلخ سہی مگر واضح حقیقت پر  مبنی ہیں .
بلوچ اپنی زمین اپنے وسائل پر اپنا اختیار مانگتے ہیں تو اس سوال اور مطالبے میں غلط کیا ہے . بلوچ اپنی زمین پر قبضہ گیر فوج کے خلاف مسلح مزاحمت کر رہا ہے تو اس میں خرابی کہاں یے ؟
ان 72 سالوں میں بلوچ کے ساتھ ریاست کا جو روییہ رہا ہے یہ کهلی حقیقت دنیا کے سامنے عیاں ہے کہ جب بهی بلوچ نے حق ِ ملکیت اور حق خودارادیت کی بات کی انہیں غدار، ملک دشمن، اسلام دشمن، یہودی اور انڈین ایجنٹ کے لمبی فہرست تہما کر بهر پور طاقت کے ساتھ مارا گیا . جبکہ اسلامی نظریاتی اتحادی جماعتیں دیوبندی تبلیغی اور مدارس والے ہماری قومی حقوق کی جدوجہد کو شرک اور وطن پرستی کے زہر آلوده نام دے کر اس کے خلاف پروپیگنڈه کا پرچار کرتی ہیں .
آپ ان اسلامی نظریاتی علما مفتی کرام تبلیغی امیر حضرات اسلامی جماعتوں کے رپنماوں سے کیوں نہیں پوچھتے کہ بلوچ سندهی پختون اور مہاجر پر ہونے والی ظلم و ستم پر خاموش کیوں ہیں ؟
کیا بلوچ معصوم نہیں
کیا بلوچ مظلوم نہیں
کیا بلوچ مسلمان نہیں
ہم علما حضرات کی اس خاموشی کی وجہ ریاستی مراعات کا پرده سمجھتے ہیں. جس کی بدولت اسلامی اصولوں کو چھپا کر ریاستی اسلام دکھایا جاتا ہے.
اسلامی ریاست کا ڈول پیٹتے ہوئے ان ریاستی حکمرانوں سے کیوں باز پرس نہیں ہوتی ؟
میرے بهائی بلوچ اور بلوچستان کے درد کی فهرست بہت لمبی ہے اسے بیان کرنے کے لئے شائد میرے پاس الفاظ کا وه زخیره نہ ہو اور نہ سنے کے لئے آپ کے پاس وقت ہو . بس اتنا سمجھے کے ہم ایسے ماحول میں جی رہے ہیں جہاں ہمیں اپنا زخم خورده بدن دکھائی نہیں دیتا . اس اجتماعی غفلت سے جب تک نکلا نہیں جاتا اس وقت تک حقیقت عیاں نہیں ہوگی .

تحریر: ساربان بلوچ

نوٹ: درج بالا خیالات مصنف کی اپنی رائے ہے ریپبلکن نیوز نیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں